1800ءکی دہائی میں جب یورپ میں صنعتی انقلاب آیا ،فیکٹریوں،کوئلے کے بجلی گھروں اور بھاری مشینری کے استعمال نے ہوا میں بے تحاشا دھواں چھوڑنا شروع کیا ۔یہ دھواں ،دھول اور نمی جب آپس میں ملی تو ایک گہری زہریلی تہہ بن گئی جسے بعد میں انڈسٹریل اسموگ کہا گیا ۔
اسموگ لفظ smoke دھواں اور fogدھند سے ملکر بنا ہے ۔یہ اصطلاح سب سے پہلے 1905ء میں ایک برطانوی ماہر ماحولیات ڈاکٹر ہنری اینٹوئن ڈیس ؤو(Henry Antoine des voeux)نے استعمال کی ۔اس نے لندن میں پھیلی اس دھند اور دھوئیں کے امتزاج کو اسموگ کہا جو صنعتی انقلاب کے بعد پیدا ہوئی ۔
اسموگ کی تاریخ کا سب سے ہولناک واقعہ جسے greater smog of London کہتے ہیں ،دسمبر 1952ءمیں لندن میں پیش آیا ۔سردیوں کی سختی میں لوگ گھروں کو گرم رکھنے کے لیے کوئلہ جلاتے تھے ۔فیکڑیاں بھی پورے زور سے چل رہی تھیں ۔پانچ دن تک لندن ایک زہریلی دھند میں لپٹا رہا ،سورج نظر نہیں آتا تھا ،گاڑیاں رک گئیں اور سانس لینا دشوار ہوگیا ۔نتیجہ یہ ہوا کہ تقریباً 12000لوگ اسموگ سے ہلاک ہوگئے اور لاکھوں بیمار پڑ گئے ۔اس واقعے کے بعد دنیا کو احساس ہوا کہ یہ محض دھند نہیں بلکہ ایک فضائی زہر ہے۔
1950ءکے بعد مغربی ممالک نے قانون سازی ،صاف ایندھن اور صنعتی اصلاحات سے اسموگ پر قابو پانا شروع کیا مگر ترقی پذیر ممالک جیسے پاکستان ،بھارت اور چین میں تیزی سے بڑھتی آبادی ،فیکڑیوں اور گاڑیوں نے یہ مسئلہ مزید بڑھا دیا ۔اب جنوبی ایشیاء کا خطہ دنیا کے بدترین اسموگ والے علاقوں میں شمار ہوتا ہے ،خصوصا لاہور اور نئی دہلی ۔
مگر پاکستان میں اسموگ کا باقاعدہ ذکر تقریباً 2016ء کے بعد عام ہوا ۔اگرچہ صنعتی اور فضائی آلودگی اس سے پہلے بھی موجود تھی ۔لیکن اکتوبر -نو مبر 2016میں لاہور اور گردونواح کے علاقے پہلی بار ایسی شدید زہریلی دھند کی لپیٹ میں آئے جس نے نظام زندگی متاثر کردیا ۔
نومبر 2016ء (پہلا اسموگ ایپی سوڈ) میں لاہور ،فیصل آباد ،شیخوپورہ ،قصور اور گجرانوالہ میں فضا اتنی دھند آلود ہو گئ کہ اسکول بند کرنے پڑے ،فلائٹس منسوخ ہوئیں ،لوگوں کو سانس لینے میں دشواری ہوئی ،اہسپتالوں میں آنکھوں اور سانس کے مریضوں کی تعداد کئی گنا بڑھ گئی ۔اس وقت پاکستانی میڈیا نے پہلی بار اسموگ کو بطور لفظ نمایاں طور پر استعمال کیا ۔
تاہم اسموگ کی مجموعی وجوہات میں فصلوں کی باقیات جلانا (خصوصاً چاول کے بعد) پنجاب (پاکستان و بھارت) کے کسان کھیتوں میں بھوسہ جلاتے ہیں جس سے دھواں فضا میں جمع ہو جاتا ہے ۔بھاری ٹریفک اور پرانی گاڑیاں بغیر کیٹالک کنورٹر کے زہریلا دھواں چھوڑتی ہیں ۔فیکڑیوں کے اخراجات میں فلڑ نہ لگانے سے زہریلی گیسیں براہِ راست فضا میں شامل ہوتی ہیں ۔اور سردیوں میں ہوا کا دباؤ کم ہو جاتا ہے ،نمی بڑھتی ہے جس سے دھواں نیچے زمین کے قریب ہی رک جاتا ہے ۔
مزید برآں اسموگ انسانی زندگی پر ہر طرح سے اثرانداز ہوتی رہی ہے ۔انسانی صحت پر یہ براہِ راست اثرانداز ہوتی رہی ہے ۔جیسے اسموگ سے سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہوا ۔اسموگ میں موجود نائٹروجن آکسائیڈ ،سلفرڈائی آکسائیڈ ،کاربن مونو آکسائیڈ اور ذرات (PM2.5)سانس کے نظام کو متاثر کرتے ہیں ۔سانس لینے میں دشواری ،کھانسی،دمہ،برونکائٹس،سینے میں جلن اور گھٹن ،سانس کی نالیوں میں سوزش ۔یہ اثرات خاص طور پر بچوں ،بزرگوں اور دمے کے مریضوں میں زیادہ خطرناک ہوتے ہیں ۔
دوسرا یہ کہ اسموگ سے دل کی بیماریوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں ۔اسموگ میں موجود باریک ذرات خون میں شامل ہوکر شریانوں کو سخت کردیتے ہیں ۔بلڈ پریشر بڑھتا ہے ،دل کے دورے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور خون میں آکسیجن کی کمی ہو جاتی ہے ۔طبی تحقیق کے مطابق اسموگ والے دنوں میں دل کے مریضوں کی اموات کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہے ۔انکھوں میں جلن ،پانی آنا اور سرخی ،ناک بند یا خشک ہونا ،گلے میں خراش اور درد،الرجی کی شدت میں اضافہ ۔اکثر لوگ سمجھتے ہیں یہ سردی کی وجہ سے ہے مگر اصل وجہ فضا میں موجود کیمیائی ذرات ہیں ۔
تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ اسموگ کے ذرات دماغ میں داخل ہوکر توجہ ،یادداشت اور فیصلہ سازی پر اثر ڈال سکتے ہیں ۔لمبے عرصے میں یہ علامات ڈپریشن اور ذہنی دباؤ بڑھا سکتے ہیں ۔
اگر کوئی شخص کئی سال اسموگ والے ماحول میں رہے تو پھیپھڑوں کی کارکردگی مستقل طور پر کم ہوسکتی ہے ۔اوسط عمر میں کمی واقع ہو سکتی ہے ۔ان اثرات و خطرات کے سب سے زیادہ بچے ،بوڑھے لوگ،حاملہ خواتین ،دمے ،دل اور سانس کے مریض ہیں ۔
2017ء2024ءتک ہر سال اکتوبر سے نومبر کے درمیان لاہور ،فیصل آباد اور وسطی پنجاب کے علاقے شدید اسموگ سے متاثر ہوتے ہیں ۔اور ہر سال لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر آجاتا ہے ۔
حالیہ تناظر کی اگر بات کی جائے تو لاہور شہر میں اکتوبر 2025ءمیں ائیر کوالٹی انڈیکس بہت غیر صحت بخش درجے میں پہنچ چکا ہے ۔مثال کے طور پر اس وقت ائیر کوالٹی انڈیکس 255تک ریکارڈ ہؤا ۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر موسم پُرسکون رہا،بارشیں نہ ہوئیں ،ہوائیں کم چلیں اور نمی کم ہوئی تو آئندہ چند ہفتوں میں اسموگ کی شدت بڑھ سکتی ہے ۔خاص کر نومبر سے فروری تک کا عرصہ اس کے لیے خطرناک سمجھا جاتا ہے ۔
حکومت نے اسموگ کو صرف ایک موسمی مسئلہ نہیں بلکہ
سال بھر موجود وبا کے طور پر تسلیم کیا ہے ۔اس کے لیے انفرادی و اجتماعی طور پر اقدامات کرنے پر زور دیا ہے جیسے ماہرین نے خبردار کیا ہے تو غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں ۔ماسک خصوصاً N95استعمال کریں ۔زیادہ پانی پئیں ۔ناک صاف رکھیں ۔گھر میں ائیر پیوریفائر یا گیلے کپڑے کا استعمال کریں ۔درخت لگانے اور گاڑیوں کا استعمال کم سے کم کرنے کی عادت اپنائیں ۔
حکومت پاکستان نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی لاگو کی ہے جیسے ڈرون اسکواڈز ،ری سکوڈز اور اسموگ ہاٹ اسپاٹس کی شناخت کے لیے جدید نظام فعال کئے گئے ہیں ۔وولڈ بینک نے پنجاب کے smog mitigation action plan کی معاونت کے لیے 30کروڑ امریکی ڈالر کے قرض کی منظوری دےدی ہے تاکہ ہوا کے معیار میں بہتری لائی جاسکے ۔اور حکومت پنجاب نے ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے کے لیے تعلیمی اداروں میں شعور بیدار کرنے کیلئے کئی ورکشاپ اور سیمینارز منعقد کروائے ۔تاکہ ہر شہری کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہو ۔
مختصراً صاف اور تازہ ہوا میں سانس لینا زندگی کی علامت ہے ۔مگر یہ ہوا ہمارے لیے اب زہر بن چکی ہے ۔اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں صاف فضا میں سانس لیں تو ہمیں آج ہی اپنی عادات بدلنی ہوں گی ۔اور یہ عادات اور تبدیلیاں انفرادی و اجتماعی سطح پر کرنے کی ضرورت ہے ۔ورنہ وہ دن دور نہیں جب ہم کتابوں میں لکھا اور پڑھا کریں گے کہ
“صاف ہوا کبھی انسان کے لیے زندگی تھی ”
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں