Google Gemini، Microsoft Copilot اور Khanmigo جیسے آلات نے زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح تعلیمی میدان میں بھی ایک انقلاب برپا کر دیا ہے، دنیا بھر میں طلباء کی ایک بڑی تعداد تعلیمی مقاصد کے لیے ChatGPT جیسے کئی آلات استعمال کر رہی ہے۔ ایک حالیہ عالمی سروے کے مطابق % 86 طلباء اپنی تعلیم میں AI کو استعمال کرتے ہیں، جن میں سے% 54 ہفتے میں کم از کم ایک بار اور% 24 اِسے روزانہ استعمال کرتے ہیں۔ ایک امریکی سروے کے مطابق، 13 سے 17 سال کی عمر کے % 26 طلباء نے اپنے سکول کا کام کرنے کے لئے ChatGPT کا استعمال کیا ہے، جو 2023 کے % 13 کے مقابلے میں دوگنا ہے۔
پاکستانی طلبا میں AI کے استعمال کے بارے میں ایک سروے کے مطابق% 76.2 یونیورسٹی طلباء نے ChatGPT / جنریٹو AI کے بارے میں آگاہی ظاہر کی۔% 40.9 طلباء نے بتایا کہ وہ تعلیمی مقاصد کے لیے AI آلات ہمیشہ استعمال کرتے ہیں جب کہ% 45.8 نے کہا کہ وہ روزانہ 2 یا 3 بار AI آلات استعمال کرتے ہیں۔
آج دنیا بھر میں کروڑوں طلبا فوری ، موثر اور وسیع تر معلومات حاصل کرنے کے لیے AI آلات سے استفادہ کر رہے ہیں کیونکہ یہ کم ترین وقت میں بڑی مفید اور کارآمد معلومات فراہم کرتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی ایک طالب علم کی ذاتی دلچسپی، ضرورت اور صلاحیت کے مطابق اُسے پڑھائی میں مدد اور رہنمائی مہیا کرتی ہے۔ AI کے ذریعے طلبا مشکل تصورات کو ویڈیوز، تصویری وضاحتوں اور انٹرایکٹو سرگرمیوں کے ذریعے بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ امتحانات کی تیاری، مضمون نویسی، تحقیق اور پریزنٹیشن بنانے میں بھی یہ آلات قابلِ اعتماد مدد فراہم کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ AI فوری فیڈ بیک فراہم کرتا ہے۔ آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز اور چیٹ بوٹس طلباء کے سوالات کا فوری جواب دے کر ان کے لیے ہر وقت دستیاب “ڈیجیٹل ٹیچر” کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اِس طرح کی سہولت کی بدولت ہر گذرتے دن کے ساتھ طلباء کا روایتی طریقوں سے پڑھانے والے اساتذہ پرانحصار اور اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے ۔
AI آلات کے بڑھتے ہوئے رحجان کے باوجود اس کے منفی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اِن کے بے جا اور مسلسل استعمال سے طلباء کی تخلیقی سوچ، تجزیاتی صلاحیت اور خود سیکھنے کا جذبہ متاثر ہو سکتا ہے۔ یہ آلات فوری جوابات فراہم کرتے ہیں، جس سے طلباء اپنی سوچ اور تجزیاتی صلاحیت استعمال کرنے کا موقع کھو دیتے ہیں اور وہ صرف سطحی معلومات پر انحصار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اُن کی تحقیق کرنے، سوالات بنانے اور دلائل قائم کرنے کی عادت متاثر ہو جاتی ہے نیز اُن کی یاداشت اور قوتِ حافظہ کے متاثر ہونے کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔بالخصوص زبان کے حوالے سے جب طلبا AI سے مضامین اور دوسرا مواد لکھواتے ہیں تو اُن کی تحریری صلاحیتوں میں بہتری کا عمل رُک جاتا ہے۔ ، جس سے طلباء کی تخلیقی سوچ اور نئے خیالات پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہو جاتی ہے۔مذید برآں طلباء میں نقل اورتعلیمی مواد کی چوری کی عادت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔
یہاں میں اِس حقیقت کو بھی سامنے لانا چاہتا ہوں کہ جب اٹھارویں صدی میں انگریزوں نے برصغیر پاک و ہند میں قدم جمائے اور یہاں انگریزی زبان کو رائج کیا تو ہمارے لوگوں کی ایک غالب اکثریت نے اِسے کافروں کی زبان کہہ کر یکسر رد کر دیا ۔ نتیجتاً مسلمان جدید علوم سیکھنے میں دوسری قوموں سے کوئی سو ڈیڑھ سو سال پیچھے رہ گئے۔ لہذا ضرورت اِس امر کی ہے کہ علوم و فنون سیکھنے سیکھانے کے حوالے سے ماضی کی اِس طرح کی غلطیوں کو نہ دہرایا جائے بلکہ عصرِ حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق اساتذہ کو AI کے تعلیمی فوائد اور نقصانات کے بارے میں فی الفور تربیت دی جائے تاکہ وہ طلباء کو اِس ٹیکنالوجی کے کارآمد اورمؤثر استعمال کے بارے میں مناسب رہنمائی دے سکیں۔ اساتذہ کرام بھی AI آلات کو اپنے لئے خطرہ نہیں بلکہ ایک زبردست معاون اور مددگار کے طور پرلیں اور پڑھانے کے روایتی طریقوں کو ترک کر کے جدید ٹیکنالوجی کو تدریسی عمل کا باقاعدہ حصہ بنانے کی کوشش کریں ۔ ساتھ ہی وُہ طلباء کی سماجی، جذباتی اور اخلاقی تربیت کے لیے نصاب میں بنیادی تبدیلیاں کرکے اُن کی فکری، تنقیدی اور تخلیقی صلاحیتوں کو صحیع معنوں میں چیلنج کرنے والے پروگرام درس و تدریس کا حصہ بنائیں۔
آجAI آلات کی یلغار کے
سامنے جب طلباء مصنوعی ذہانت کو اساتذہ کے متبادل کے طور پر لے رہے ہیں تو اساتذہ کو ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے جِس سے وہ جدید تدریسی تکنیک ، مواد اور وسائل کو بروئے کار لا کر ہی نپٹ سکتے ہیں۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں