ارضِ پاک میں گزرے ایام(4)-سراجی تھلوی

قلم ہاتھوں میں لیے لکھنے بیٹھتا ہوں تو یادوں کے منظر نامے “دیدہ و دل فرش رہ کیے”بیٹھے ہیں۔تاکہ میں لکھتا چلا جاوں۔اور یادیں مرے آنکھوں کے سامنے رقصاں رہے۔روشنیوں کے شہر کراچی جہاں خوابوں کی تعبیر ڈھونڈتے برسوں پہلے ہم وارد ہوئے۔اور برسوں بعد بھی اس شہر نے ہمیں اپنے دامن میں رکھے ہوئے ہیں۔دیار غیر کی اجنبی گلی کوچوں کے خاک چھاننے کے بعد ہم پھر سے اس شہر کی گلیوں میں زندگی کی خوشی ڈھونڈنے پہنچتے ہیں۔یادوں کا سلسلہ رقم کر رہا ہوں۔”دانش مرزا”سے وابستہ یادیں مری زندگی کے اثاثے ہیں۔میں ہر دم ہر گام انہیں لیے پھرتا ہوں۔کبھی آہیں بھرتا ہوں ۔کبھی اچانک خواب سے بیدار ہو کر ڈرتا ہوں۔
ہم شمالی علاقہ جات کے پہاڑی لڑکے نازک دل، حسّاس مزاج ،محبتوں سے بھرپور دل جہاں اپنوں ،غیروں سب کےلیے اک اپنائیت ہمیشہ رہتی ہے۔کوئی غمِ روزگار کوئی تلاش علم الغرض اک خوبصورت مستقبل یعنی اک بہتر زندگی کے تلاش میں جنم بھومی ،یار احباب،وہ گلیاں جہاں گلی ڈنڈے آنکھ مچولی وہ نہر کنارے،وہ دریا کے شور وہ سرد شاموں کی خاموش فضا ہاے موسم خزاں ،زرد پتے سب کچھ چھوڑ کر برسوں کسی پرائے شہر میں اجنبی گلیوں میں انجان لوگوں کے بیچ جینے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
دانش مرزا کہنے کو میرا چھوٹا ویر ہے۔لیکن میں انہیں بڑا بھائی سمجھتا ہوں۔وہ میرا اعتماد اور حوصلہ ہے۔بے لوث محبت ،ہمدردی خلوص ،درد کا اک مجموعہ ہے۔اسکے سینے میں موجود دل ہمیشہ اپنوں کےلیے دھڑکتا ہے۔وہ گلشنِ اقبال کے خاموش فضا میں اور ہم محمود آباد کے بے ہنگم علاقے میں۔پھر وہ بھی مستقل محمود آباد میں رہنے لگے۔گلی کے اُس پار انکے ہاسٹل اور اک طرف مادر علمی میں میری سکونت کبھی شام ڈھلے ،کبھی وقتِ عصر وہ مرے روم میں آتے اور طویل طویل گفتگو کا سلسلہ چلتا۔
مجھے اسکی یہ خوبی بہت پسند ہے۔جب بھی وہ کمرے میں آتے سب سے پہلے کتابوں کے جانب لپکتے اور ہر نئی کتابوں کو کھول کر دیکھتے بلکہ بعض اوقات مجھ سے ان کتابوں کے بارے پوچھتے۔
کتابوں کی محبت ،مطالعے کے شوق نے ہم دونوں کو اک دن “صدر ریگل چوک”سے متصل اُس گلی میں لے گئے جہاں اتوار کو سکینڈ ہینڈ کتابوں کا بازار سجتے ہیں۔جہاں کراچی کے مختلف جگہوں سے نادر و نایاب کتابیں سستی داموں فروخت کےلیے وہاں لاتے ہیں۔میرا اس گلی سے نہایت پُرانا یارانہ رہا ہے۔میں پہلے بھی جب کراچی میں مستقل رہا کرتے تھے۔فرصت کے لمحوں میں اس گلی کا چکر لگاتے رہتے اور اپنی تشنگی بجھانے کی کوشش کرتے تھے۔اُس دن بھی ہم دونوں عصر ہوتے ہوتے محمودآباد سے نکلے اور شام ڈھلنے سے پہلے واپس بھی ہوگئے۔وہاں سے ہم نے پطرس بخاری کے مضامین کا مجموعہ سمیت چند نادر و نایاب کتابیں خرید کر اپنے ذوقِ مطالعے کو مہمیز دینے کی بھرپور کوشش کی۔لیکن ان گلیوں میں اتنا رش نہیں تھا۔جتنا مختلف شاپنگ مالز اور دیگر مقامات پر ہوتے ہیں۔لیکن آج بھی چند سر پھرے لوگ کتابوں سے عشق کرتے ہیں۔اور کتابیں ڈھونڈنے مختلف اکناف و اطراف میں نکل پڑتے ہیں۔
خدا کرے کہ سعود عثمانی کا یہ شعر حقیقت کی صورت آشکار نہ ہو ”
کاغذ کی یہ مہک یہ نشہ روٹھنے کو ہے
یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی۔

ہم دونوں کے اندر بھائی ہونے کے علاوہ یہ مماثلت بھی امتیازی پہلو ہے۔کہ دونوں کو لکھنے اور پڑھنے سے شدید شغف ہے۔
یہ سات ماہ ہم دونوں اک ساتھ مختلف دعوتوں ،مختلف سرگرمیوں میں دوش بہ دوش ریے۔بالخصوص محرم الحرام کے مجالسوں میں دانش صاحب نے میری تقریروں اور دیگر فعالیتوں کو سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم پر نشر کرنے میں بھرپور ساتھ دیتے رہے۔وہ سات ماہ میرا کمرا دانش سمیت دیگر دوستوں فراز ،اویس ،ذوالفقار ،طارق ،منتظر ،ثقلین ،ابراہیم بیگ،عباس بیگ ،کفایت لاہوتی ،عارف کرخی سمیت بہت سارے چاہنوں والوں کی تشریف آوری سے مہکتا رہا۔آج شاید وہاں وہ رونق نہیں۔آج در و دیواریں انکے یادوں سے معمور ہوں گے۔
ہم واپس آتے ہوئے دونوں دو مرتبہ پاسپورٹ اور ویزا کی وصولی کےلیے ایران کنسلٹ بھی گئے۔آخر کار ہم بوجھل دل ،نم آنکھوں کے ساتھ ان کو بھی خدا حافظی کہنے پر مجبور ہوئے۔شاید اسی کا نام زندگی ہے۔جو ہجر و وصال کے ان گنت وقائع سے بھرپور ہوتے ہیں۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply