کچھ عرصے سے غیر حاضر ہوں جس کے لیے معذرت خواہ ہوں دراصل حال ہی میں پاپولیشن کونسل کی ٹیم کا حصہ بنا ہوں۔اور اس حوالے سے مصروفیات کچھ ایسے بڑھیں کہ ٹائم منیجمنٹ کو تھوڑا سا ٹائم لگ گیا۔آپ میں سے کوئی اگر فکشن پڑھتا ہے تو مختلف سائنس فکشن ناولز میں بطور پلاٹ پیش کی جانے والی اک ایسی سازشی تھیوری سے واقف ہو گا جس میں کوئی سر پھرا امیر دنیا کی آبادی کو تمام مسائیل کی جڑ قرار دے کر آدھی سے زیادہ آبادی ختم کرنا چاہتا ہے۔اب تو یہ موضوع فلموں اور ویب سیریز کا حصہ بھی بننے لگا ہے۔دنیا میں سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم ایونجرز اینڈگیم کی کہانی بھی کچھ ایسی تھی فلم کا مین ولن تھینوس اک چٹکی میں آدھی آبادی ختم کر دیتا ہے کہ اسے کائنات میں توازن درکار ہوتا ہے۔پاپولیشن کونسل بھی توازن کی خواہش رکھتی ہے مگر کسی کی جان لے کر نہیں بلکہ منصوبہ بندی کے ذریعے۔اس بات میں دو رائے نہیں کہ زمین کے وسائل محدود ہیں، مگر انسانی خواہشات اور ضرورتیں لامحدود۔ یہ تضاد اب ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں صحت، تعلیم، روزگار اور ماحولیاتی توازن سب خطرے میں ہیں۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں یہ مسئلہ اور بھی سنگین ہے۔ ہر سال لاکھوں نئے افراد اس نظام میں شامل ہو رہے ہیں جس میں پہلے سے وسائل کی شدید کمی ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں پاپولیشن کونسل نامی یہ ادارہ خاموشی سے مگر مستقل مزاجی کے ساتھ انسان کے بہتر مستقبل کے لیے کام کر رہا ہے
یہ ادارہ 1952 میں امریکی صنعتکار جان ڈی راک فیلر تھرڈ نے قائم کیا۔جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ اس کا مقصد پیدا ہوچکے انسانوں کو “کم” کرنا نہیں تھا بلکہ آنے والی نسل کی تعداد کی منصوبہ بندی کرنا جس سے انسانی زندگی کو بہتر اور پائیدار بنایا جا سکے۔کہتے ہیں نا کہ زندگی لمبی نہیں اچھی ہونی چاہیے اسی طرح راک فیلر کا نظریہ سادہ مگر گہرا تھا کہ “ترقی کا مطلب زیادہ لوگ نہیں، بہتر زندگیاں ہیں۔”
پاپولیشن کونسل کا وژن آج بھی یہی ہے — “ہر شخص کے لیے ایک منصفانہ اور پائیدار مستقبل”۔
یہ ادارہ دنیا کے پچاس سے زائد ممالک میں کام کر رہا ہے، جہاں یہ تحقیق، تربیت، اور پالیسی سازی کے ذریعے صحت، تعلیم، صنفی مساوات، اور ماحولیاتی توازن جیسے اہم موضوعات پر کام کرتا ہے۔ اس کی تحقیقاتی ٹیموں نے خاندانی منصوبہ بندی، ایچ آئی وی کی روک تھام، تولیدی صحت، خواتین کے بااختیار ہونے، اور کمزور طبقوں کی فلاح کے لیے بے شمار عملی اقدامات کیے ہیں۔
پاکستان میں پاپولیشن کونسل نے 1957 میں اپنا دفتر قائم کیا، اور 1991 سے باقاعدہ ملک بھر میں تحقیقی اور تربیتی سرگرمیاں انجام دے رہی ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب خاندانی منصوبہ بندی پر بات کرنا بھی “غیر مناسب” سمجھا جاتا تھا۔ مگر کونسل نے اس خاموشی کو توڑا۔
اس نے ملک بھر میں سروے، مطالعات اور آگاہی پروگرام شروع کیے جن سے پہلی بار یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ لوگ دراصل آبادی کے بڑھنے اور منصوبہ بندی کے بارے میں کیا سوچ رکھتے ہیں۔ انہی نتائج کی بنیاد پر حکومت نے کئی پالیسیوں میں اصلاحات کیں۔ اسپتالوں میں تربیت یافتہ عملہ تعینات ہوا، مانع حمل سہولتوں کی فراہمی میں بہتری آئی، اور خواتین کی تولیدی صحت پر توجہ دی گئی۔
پاپولیشن کونسل نے یہ بھی واضح کیا کہ خاندانی منصوبہ بندی “بے دینی” نہیں بلکہ “ذمہ داری” ہے۔ یہی وہ سوچ تھی جسے اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی تسلیم کیا جب کونسل نے “توازن” کے نام سے ایک قومی بیانیہ متعارف کرایا۔
یہ بیانیہ کہتا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور کم ہوتے وسائل کے درمیان ایک منصفانہ توازن قائم کرنا مذہبی، سماجی اور معاشی طور پر ناگزیر ہے۔ اسلام میں بھی اعتدال، منصوبہ بندی اور ذمہ داری پر زور دیا گیا ہے۔
پاپولیشن کونسل کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں آبادی کی سالانہ شرح تقریباً 2.4 فیصد ہے۔ یعنی ہر سال لاکھوں نئے لوگ ایسے معاشی نظام میں شامل ہو رہے ہیں جہاں روزگار، صحت، پانی اور تعلیم پہلے ہی نایاب ہیں۔
اگر خاندانی منصوبہ بندی کے وسائل ہر گھر تک پہنچ جائیں تو غیر ارادی حمل، زچگی کے دوران اموات، اور بچوں کی صحت کے مسائل میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
کونسل کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مانع حمل طریقوں کے استعمال میں صرف 10 فیصد اضافہ ملک میں زچگی کے دوران ہونے والی اموات کو تقریباً 20 فیصد تک کم کر سکتا ہے۔
یہ محض اعداد نہیں، بلکہ ان کے پیچھے ہزاروں ماؤں اور بچوں کی زندگیاں ہیں۔
پاپولیشن کونسل کو پاکستان میں کئی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ سب سے بڑی رکاوٹ سماجی رویے ہیں۔
آج بھی خاندانی منصوبہ بندی کو بعض حلقے مذہبی یا ثقافتی بنیادوں پر مسترد کرتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں خواتین کو صحت کی بنیادی معلومات تک رسائی نہیں جبکہ مرد عموماً اس گفتگو سے خود کو الگ رکھتے ہیں۔
پاپولیشن کونسل بنیادی طور پہ اک تحقیقی ادارہ ہے پاکستان میں آبادی کے حوالے سے پہلی مستند تحقیق پاپولیشن کونسل نے ہی کی تھی۔جیسا کہ اوپر ذکر کیا ہے کہ مرد عموماً ان معاملات اور گفتگو سے خود کو الگ رکھتے ہیں اس لیے حکومت پنجاب اور PHC کے ساتھ مل کر پاپولیشن کونسل مخصوص اضلاع میں ایسے چنیدہ مرد فیملی فزیشن کے ساتھ کام کر رہی ہے جو اپنے پاس آنے والے مریضوں سے خاندانی منصوبہ بندی اور پیدائش میں مناسب وقفے پہ بات کرتے ہیں۔پاپولیشن کونسل ان ڈاکٹرز سے ڈیٹا اکٹھا کر رہی ہے جسے بعد میں حکومت پالیسیز بنانے میں استعمال کر سکے گی۔
کورونا وبا کے دوران، جب دنیا رک گئی تھی، تب بھی پاپولیشن کونسل نے جنوبی ایشیا اور افریقہ میں خواتین کی صحت اور صنفی مساوات پر اپنے منصوبے جاری رکھے۔ حالیہ رپورٹوں میں یہ ادارہ موسمیاتی تبدیلیوں، ماحولیاتی بحران اور آبادی کے دباؤ کے باہمی تعلق پر بھی تحقیق کر رہا ہے
حقیقت یہ ہے کہ بڑھتی آبادی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے صرف ایک ادارے کی کوشش کافی نہیں۔
یہ ایک قومی ایجنڈا ہونا چاہیے۔
حکومت، میڈیا، مذہبی رہنما، تعلیمی ادارے، اور عام لوگ — سب کو اس بحث کا حصہ بننا ہوگا
پاپولیشن کونسل بارہا کہہ چکی ہے کہ آبادی پر قابو پانے کا مطلب کسی کے حقِ والدین بننے کو محدود کرنا نہیں، بلکہ انہیں معلومات، سہولتیں اور اختیار دینا ہے تاکہ وہ باشعور فیصلے کر سکیں۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر ہم نے آج آبادی اور وسائل کے درمیان توازن پیدا نہ کیا تو آنے والے برسوں میں پانی، روزگار، صحت، اور تعلیم سب کچھ صرف خواب بن کر رہ جائے گا۔
ہمارے بچے ہم سے سوال کریں گے کہ ہم نے ان کے لیے کیسا ملک چھوڑا — ایک ایسی سرزمین جو انسانوں سے بھری ہوئی تھی، مگر زندگی سے خالی۔
کیونکہ ہمیں اچھا لگے یا برا لیکن حقیقت یہی ہے کہ ترقی صرف سڑکوں، عمارتوں اور بلند وعدوں سے نہیں آتی۔ ترقی علم، منصوبہ بندی، اور ذمہ داری سے آتی ہے۔
اگر ہم نے اب بھی سنجیدگی نہ دکھائی تو ہم ایک ایسے راستے پر بڑھیں گے جہاں وسائل ختم ہوں گے اور غربت بڑھتی جائے گی۔
اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ
کیا ہم اپنے بچوں کو ایک بھری ہوئی مگر خالی دنیا دینا چاہتے ہیں؟
یا ایک ایسی دنیا جہاں ہر بچہ تعلیم یافتہ، صحت مند اور خود مختار ہو؟
یہ سوال آج نہیں تو کل ہر دروازے پر دستک دے گا۔
پاپولیشن کونسل ہمیں صرف خبردار نہیں کر رہی، بلکہ ایک راستہ دکھا رہی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم سننے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔

آخر میں پاپولیشن کونسل کی ٹیم خصوصاً ڈاکٹر ممریز خان ڈاکٹر عرفان عثمان صاحب اور محترمہ فاطمہ کا شکریہ کہ انہوں نے مجھے ٹیم میں شامل کیا اور میں ریسرچ و تحقیق کے کام سے دوبارہ جڑ پایا ہوں۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں