میں چھپ کرلکھتی ہوں۔۔۔رابعہ احسن

میں چھپ کر لکھتی ہوں کیونکہ ہمارے ہاں اسے کھلی بے حیائی  سمجھاجاتا ہے  “ اور میں جو پہلےروزے کی اینگزائٹی میں سو نہیں پارہی تھی ، نیندبالکل ہی غائب ہوگئی۔ آج ہم عورت کی خودمختاری کا نعرہ لگاتے ہیں تو سر فخر سے بلند ہوجاتا ہے کہ عورت نے دنیا کی ہر فیلڈ میں اپنا آپ منوایا ہے مردکے نا  صرف شانہ بشانہ بلکہ عین مقابل آکر۔بس آٹھویں جماعت تک پڑھی ہوں آگے پڑھنے نہیں دیا ،یہ کہہ کر کہ ہم نے کونسانوکری کروانی ہےمگر ایسےتلخ حقائق ، تھوڑی دیر کیلئے تو یقین ہی نہیں آتا کہ ابھی تک ایسا ہوتا ہے وہ بھی کسی غربت کے مارےہوئے گھر میں نہیں بلکہ زمیندار گھرانوں میں ۔زمینداروں کی لڑکیاں ، بچیاں پڑھیں گی نہیں تو اس طبقے کے مردوں کی سوچ اور اپروچ تہذیب کےدائرے میں کیسے آئے گی۔

بہت پہلے تو یہ سب عام تھا ہی ۔۔مگر آج بھی ؟؟ ایک لمحے کو میں سکتےمیں آگئی کیونکہ اس صورتحال سے دو چار کوئی عام سی ڈرپوک لڑکی نہیں تھی جن کو چاردیواری میں ڈال دیا جائے تو وہ محض اپنے سسٹم اور خود سےجڑے  مردوں کی غلامی میں جت کر اپنی عمر تیاگ دیتی ہیں اور بالآخر کسی موذی ذہنی یا جسمانی مرض کا شکار ہوجاتی ہیں یا پھر زخموں کی تاب نہ لاسکتے ہوئے خود سے جڑے مرد کی دوسری شادی کا سامان کرنے کیلئے جہانِ فانی سے کوچ ہی کرجاتی ہیں ۔ اور چاردیواری میں سسکتی اور گھستی ہوئی یہ زندہ لاشیں اتنی بے ضرر اور بے کیف ہونےکے ساتھ ساتھ بے ضرورت بھی ہوتی ہیں کہ ان کےمرنے کے بعد بھی ان پر ہونے والے لاتعداد مظالم کی بھنک کبھی ان اونچی فصیلوں سے باہر نہیں نکل پاتی اور نہ ہی ان کی کمی اتنے بڑے گھر کے  کسی کونے میں محسوس کی جاتی ہے۔ جہالت اور مردانہ برتری کے اس سسٹم میں عورت فصل کی جنس سےزیادہ اہمیت نہیں رکھتی ۔ ایک نہ سہی تو دوسری کھیتی سہی۔ 

حیرت کی بات یہ تھی کہ مجھ سے مخاطب ایک کمال کی رائیٹر تھی ۔ جس کے لکھے ہوئے کی  میں خود مداح ہوں ۔ اور جو جگر کھول کے اپنےجاگیردارانہ نظام کے خلاف لکھتی ہے اور اتنا میچیوراور سنجیدگی سے مسائل کو اپنی تحریروں  میں سمیٹتی ہے کہ مجھے یقین کیسے  آئے کہ اس لڑکی کو آٹھ جماعتوں سے آگے پڑھنے نہیں دیا گیا۔ اس ا   تنی ذہین لڑکی کے ساتھ کیا یہ انتہائی ظلم نہیں کہ اس کے ہاتھ سے قلم چھین کر اسے حویلی کی چاردیواری میں کسی اوباش اور نفسیاتی زمیندار کےساتھ غلامی کے رشتے کے انتظار میں بوڑھا کیاجائے۔ 

کسی غیر مسلم نے کہا تھا کہ قرآن کو سنتے ہوئےعورت کے حقوق کااس قدر ذکر ہے کہ اگر محمدصلی اللہ علیہ وسلم پہ نازل نہ ہوا ہوتا تو اسےپکایقین تھا کہ قرآن کسی عورت نے لکھا ہے ۔ آج ہم نے قرآن کے احکامات کو یکسر فراموش کردیا ہے ۔ ہم نے اسے اونچی شیلف پہ سجادیا اور خود پستی میں گر گئے ۔ ہمارے گھروں میں کسی کو ادراک اور فہم  ہی نہیں کہ قرآن میں عورت کے ساتھ نرمی، بھلائی یہاں تک کہ احسان کا درجہ رکھنے کی کس قدرتنبیہہ ہے ۔ علم حاصل کرنا مردوعورف پر یکساںفرض ہے اور ان کا حق بھی۔ زمانہ جہالت میں پیداہوتے ہی بیٹیوں کو زندہ درگور کردیا جاتاتھا۔ اب کادور ، دورِجہالت سے کئی صدیاں آگے نکل کر بھی اس سے زیادہ پستی میں گرا پڑا ہے ۔

بیٹیوں اور عورتوں کو زندہ چھوڑدیا جاتا ہے مگر دن رات اذیت کی قبر میں اتارا جاتاہے ۔ آخر عورت کومرد کی اناکی کٹھ پتلی کس نے بنایا؟؟؟ مرد جو چاہےکرے مگر عورت اپنی جائز ضروریات بھی پوری نہ کرسکے اور جو حقوق اسے مذہب اور قانون دیتے ہیں، کبھی خون کے رشتے تو کبھی مجازکے ، انھیں انکی ضروریات اور حقوق سے کیسے محروم رکھ سکتےہیں۔

چند عورتوں کے ہاتھ میں خودمختاری کے بینرز ہیں اور باقی سب۔۔۔۔ کوئی دس سالہ نازک سی مسکین بچی کسی چالیس پینتالیس سالہ ہٹے کٹے مرد کےساتھ پیسوں یا کسی خاندانی تنازعے کے عوض  بیاہ دی جاتی ہے۔ دس سالہ کا نکاح کیسے جائزہے آخرجنگل کابھی کوئی قانون ہوتا ہے ۔ 

ابھی کچھ دن پہلے چینی لڑکوں کے ساتھ پنجاب کی مسیحی برادری کی لڑکیوں کی پیسوں کے عوض شادیوں پر ایک رپورٹ پڑھ رہی تھی کہ کس طرح ان لڑکیوں کو شادی کے ذریعے جنسی ٹریفیکنگ میں استعمال کیاجاتا ہے۔ چائنہ  میں مردوں کی تعدادزیادہ ہے اورعورتوں کی کم ۔ سو اس تعداد کے نسبت تناسب کو سدھارنے کیلئے وہ پاکستان کی غریب منڈی کا رخ کئے بیٹھا ہے ۔ اس منڈی میں سب بکتاہے اور سب سے پہلے ایمان بکتاہے۔

پھر وہی تکلیف ۔ وہی اذیت۔ لیکن مسئلے کا حل کسی صورت بھی نہیں نکلتا ۔ پتہ نہیں ہمارے یہاں کی جہالت بالآخر کب ختم ہوگی؟ کیا یہی جہالت ان تمام اخلاقی اور سماجی زیادتیوں کی جڑنہیں ؟؟  

امید کی شمع روشن مگر ڈر یہ ہے کہ آندھیاں بھی حددرجہ تند ہیں اور جس نے اونچی دیواروں کےزندان  کے اندر سے خود کو اپنی ذہانت اور قلم کے زور پر  منوالیا ہے زندگی یقیناً اس کیلئے اور در وا کرے گی۔

Avatar
رابعہ احسن
لکھے بنارہا نہیں جاتا سو لکھتی ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *