جب آپ دنیا کو امتحان گاہ کی بجائے صرف دنیا سمجھ لیں گے تو یہ آپ کو کسی طور چین نہیں لینے دے گی ۔۔ آپ کوئی ایک منزل طے کرتے ہیں دولت ٫شہرت٫ رتبہ جب اسے اپنی عمر کی قیمتی ترین پونجی خرچ کرکے حاصل کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ وہ منزل نہیں تھی ایک خالی پن کو بھرتے بھرتے آپ ایک نئے خالی پن کا شکار ہو جاتے ہیں اور پھر یہ خالی برتن آپ مختلف چیزوں سے بھرنے کی کوشش کرتے ہیں کبھی عورت کبھی جے جے کار لیکن یہ برتن پھر بھی نہیں بھرتاـ ۔۔عطش عطش کی صدا آتی ہے اور بعض اوقات اس صدا کی گونج آپ کو حال سے، خود سے بیگانہ کر دیتی ہے۔
اور اس کا انت خود کو ختم کرنے کی خواہش پر منتج ہوتا ہے ۔۔کچھ کر گزرتے ہیں اور کچھ رک جاتے ہیں اور کوئی ایسے بہانے تراش لیتے ہیں کہ زندگی کی ترشی کم ہو جائے ۔
سچ تو یہ ہے کہ زندگی بہت کم ایسے لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جس میں یہ کیفیت کم ہو ورنہ یہی حال ہے ۔۔ حقیقت تو یہی ہے کہ زندگی جینا اس قدر بوجھل کام ہے کہ اگر یہ پتہ نہ ہو کہ ہم ایک امتحان گاہ میں ہیں اور اس کے سوالات جو حل کرنے ہیں وہ بس ہمارے ذہنی استطاعت اور صبر کے پیمانے کو ناپنا ہے۔۔ اور جو کچھ بظاہر ہمیں نظر آرہا ہے اس کی حقیقت کسی عکس جیسی ہے ،مادہ بھی کہیں کسی صورت میں کوئی خیال ہی ہے جس کو دیکھنے کی ایک صورت دنیا داری میں اور دوسری وہ ہے جو ہمیں رحمان بتاتا ہے کہ دنیا کیا ہے اب اختیار ہمارے پاس ہے کہ کسے اپناتے ہیں۔
دنیا کو حاصل کرکے خالی رہ جانے والوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر دھڑا دھڑ شیئر ہورہی ہیں ،یہ وہ لوگ ہیں جو امتحان گاہ سے وقت ختم ہونے سے پہلے ہی اٹھ کر چلے گئے ۔۔

یاد رہے ،ان میں زیادہ تر سی ایس ایس کے ٹاپرز ہیں جو زندگی کے امتحان میں فیل ہوگئے۔
اللہ تعالیٰ ان کے لئے آسانیاں پیدا کرے
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں