چاہت، چادر اور چاردیواری / راجہ ناصر محمود

معاشرتی زندگی کی بنیادی اکائی گھر دراصل چاہت، چادر اور چاردیواری کا نام ہے۔ اس کی بنیاد ایک مرد اور عورت اس وقت رکھتے ہیں جب وہ نکاح کے پاکیزہ بندھن میں بندھتے ہیں۔ میاں بیوی کے روپ میں دونوں کے دلوں میں محبت کے پھول کھلتے ہیں، ایک دوسرے کو سمجھنے لگتے ہیں اور اپنے خوابوں کی تکمیل میں مصروف ہو جاتے ہیں۔اپنا گھر بنانے کی خواہش ہر خواہش پر مقدم رہتی ہے، کیونکہ صرف اپنے گھر میں ہی آزادی، تحفظ، عزت اور سکون میسر آتا ہے۔

فی زمانہ اپنا گھر بنانا قطعاً آسان نہیں رہا۔ اس لیے وہ جوڑے واقعی خوش قسمت ہیں جن کے سروں پر اپنی چھت موجود ہے۔ دنیا بھر میں بے گھر افراد کی ایک بڑی تعداد آج بھی موجود ہے۔ ایک اندازے کے مطابق صرف امریکہ میں بے گھر افراد کی تعداد آٹھ لاکھ سے زائد ہے، جب کہ دنیا بھر میں یہ تعداد تقریباً ڈیڑھ سو ملین سے زیادہ ہے اور ایک اعشاریہ دو بلین انسان کرائے کے گھروں میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اپنا گھر ہونا کتنی بڑی نعمت ہے۔

آج کل گھر بنانا جتنا مشکل ہے، گھر بسانا اس سے کہیں زیادہ بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ گھر دیواروں اور چھت سے بنتا ہے، لیکن اسے قائم رکھنے کے لیے چاہت اور اُلفت کے بیج بونے پڑتے ہیں۔ اگر چاہت کمزور پڑ جائے تو مضبوط سے مضبوط گھر بھی لمحوں میں زمین بوس ہو جاتا ہے۔گھر کی اصل خوبصورتی شرم و حیا کی چادر میں لپٹے ہونے میں ہے۔ یہ چادر بظاہر ریشم کی طرح نرم و نازک دکھائی دیتی ہے، مگر غیروں اور اجنبیوں کے سامنے ایک آہنی دیوار بن جاتی ہے۔ کسی ایرے غیرے کی کیا مجال کہ اس کے قریب آنے کی ہمت کرے۔ گھر میں اعتماد اور عزت کی چاردیواری ہوتی ہے، جو اپنے تقدس کو کبھی پامال نہیں ہونے دیتی۔ اس چاردیواری سے گزر کر آنگن تک وہی پہنچتا ہے جسے اس کا حق حاصل ہوتا ہے۔ میاں بیوی کی اٹوٹ چاہت، شرم و حیا کی چادر اور اعتماد کی چاردیواری ہی ایک گھر کو گلشن میں بدلتی ہیں۔

حالیہ برسوں میں نوبیاہتا جوڑوں کے درمیان اختلافات اور ناچاقیوں کے کئی افسوسناک واقعات سامنے آئے ہیں۔ خاص طور پر نئی نویلی دلہنوں کے ساتھ سسرال میں پیش آنے والے دلخراش واقعات نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ شادیانے والے گھروں میں آناً فاناً صفِ ماتم بچھ جانا کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ یہ ہماری تہذیبی شکست و ریخت کی واضح علامت ہے۔ مغربی معاشرہ ازدواجی رشتے جیسے مقدس بندھن کی بے توقیری کی سزا پہلے ہی بھگت رہا ہے اور اب شاید ہماری باری ہے۔

مغرب میں نوجوانوں نے شادی کو شجرِ ممنوعہ سمجھ کر اس سے منہ موڑ لیا ہے۔ وہاں کامیاب شادیوں کی شرح خطرناک حد تک نیچے جا چکی ہے۔ پرتگال میں طلاق کی شرح نوّے فیصد تک پہنچ گئی ہے، اور دوسرے مغربی ممالک کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ اگر کسی کی شادی قائم بھی رہتی ہے تو وہ اپنے آنگن میں بچوں کو دیکھنا پسند نہیں کرتا، جس کے نتیجے میں بے شمار سماجی اور نفسیاتی مسائل نے ان معاشروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

julia rana solicitors

شادی جیسے مقدس رشتے کی ناکامی کی کئی وجوہات ہیں، مگر سب سے بڑی وجہ وہاں چاہت، چادر اور چاردیواری سے بنے گھروں کا نہ ہونا ہے۔ جب دو افراد محبت اور احساس سے خالی ہو کر محض مشینوں کی طرح زندگی گزارتے ہیں تو پھر دنیا میں مشینوں کے کئی متبادل موجود ہیں۔ لہٰذا نوجوان نسل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ شادی ایک مقدس فریضہ ہے۔ اس رشتے کو توڑنے میں نہیں بلکہ نبھانے اور اس کے تمام تقاضے پورے کرنے میں ہی ہماری بھلائی، بقا اور خوش حالی پوشیدہ ہے۔

Facebook Comments

راجہ ناصر محمود
راجا ناصر محمود قطر میں مقیم ایک کہنہ مشق اور وسیع المطالعہ فیچر رائٹر ہیں جو گزشتہ تین دہائیوں سے وہاں آباد ہیں۔ وہ پاکستان اور عالمی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں اور معاشرتی مسائل پر اپنے بصیرت افروز اور شائستہ اسلوب میں اظہارِ خیال کرتے ہیں۔ ان کے کالم طنز، مزاح اور سنجیدہ فکری تجزیے کا حسین امتزاج ہوتے ہیں جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ مطالعہ، سفر اور مشاہدہ ان کے ذوق کا حصہ ہیں جن سے اُن کے خیالات کی گہرائی اور تحریر کا حسن مزید نکھرتا ہے۔ راجا ناصر محمود ایک متوازن، سنجیدہ اور شگفتہ قلم کار ہیں جو انسانی رویّوں اور روزمرہ حقیقتوں کو فکرانگیز اور دیرپا تاثر میں ڈھالتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply