روٹی ،کپڑا ،مکان ـ یہ نعرہ اب خواب بن چُکا ہے ۔کیونکہ عام آدمی کے لیے روٹی بھی میسر نہیں اور اب غریب کے لیے مہنگائی صرف مسئلہ نہیں بلکہ زندہ رہنے کا سوال بن گئی ہے ۔
دنیا کے ہر ملک میں معیشت کے اتار چڑھاؤ عوام کی زندگیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں مگر جب اقتصادی بدحالی ایک مستقل صورت اختیار کر لے تو یہ صرف معاشی نہیں بلکہ سماجی بحران بن جاتی ہے ۔مہنگائی ہمیشہ کسی بھی قوم کے صبر کا امتحان ہوتی ہے کیونکہ جب بنیادی ضروریات پہنچ سے باہر ہو جائیں تو بغاوت سوچ سے پہلے دل میں جنم لیتی ہے۔یہی صورت حال آج پاکستان میں دیکھی جا رہی ہے ۔
سب سے پہلے بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام شہری کی کمر توڑدی ہے تو دوسری طرف آمدنی اور روزگار کے مواقع محدود ہوتے جارہے ہیں ۔اشیائے خوردونوش سے لے کر بجلی ،گیس اور ایندھن تک ہر چیز کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے ۔حکومت کے اعلانات اور عوام کی پریشانیوں کے درمیان ایک طویل فاصلہ حائل ہے ۔بالآخر عام آدمی کا اعتماد ،حوصلہ اور جینے کی امنگ ـ سب مہنگائی کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔
اگر گزشتہ دس پندرہ سالوں پر نظر ڈالیں تو مہنگائی میں بتدریج اضافہ تو ہوتا رہا مگر لوگوں کی قوت خرید اس قدر متاثر نہیں ہوئی تھی ۔2010سے 2018کے دوران اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ضرور ہوا مگر متوسط طبقہ کسی حد تک اپنے اخراجات کو قابو رکھنے میں کامیاب رہا ۔اس وقت آٹے ،چینی اور تیل جیسی بنیادی اشیاء عام آدمی کی پہنچ میں تھیں ۔بجلی اور گیس کے نرخ بھی نسبتاً قابو میں تھے اور روزگار کے مواقع بھی آج کی نسبت بہتر تھے۔2019ـ2018اور اس سے قبل کے سالوں میں مہنگائی نسبتاً کم تھی ۔مگر قدرتی آفات،عالمی رسدوطلب کے مسائل اور جنگوں یا لاجسٹکس کی دشواریوں نے قیمتوں کو متاثر کیا ہے ۔مگر 2020کے بعد مہنگائی کی شرح میں خاصی تیزی آئی ۔خاص طور پر2023ـ2022میں یہ اضافہ بنیادی طور پر درآمدی اشیاء ،ایندھن اور خوراک کی قیمتوں میں عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں جیسے کرونا وبا کے اثرات ،روس یوکرین جنگ ،بیرونی قرضوں کا بوجھ اور کرنسی کی قدر میں کمی کی وجہ سے تھا ۔
تاہم گزشتہ چند برسوں میں خصوصاً 2022کے بعد سے مہنگائی نے تباہ کن صورتحال اختیار کر لی ہے ۔عالمی منڈیوں میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ ،روپے کی قدر میں مسلسل کمی ،پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے اور بجلی کے بڑھتے بلوں نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے ۔
حالیہ تناظر کی اگر بات کی جائے تو اکتوبر 2025تک یہ صورت حال ہے کہ آٹے کا تھیلا 3500روپے سے تجاوز کر چکا ہے ،چینی 200روپے فی کلو سے اوپر جارہی ہے اور سبزیوں کی قیمتیں عام آدمی کے دسترس سے باہر ہو چکی ہیں ۔البتہ سالانہ مہنگائی کی شرح ستمبر 2025میں تقریباً 5.6فیصد رہی ۔یہ شرح اگست کے تقریباً 3فیصد کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے ۔شہری اور دیہی علاقوں میں خوراک کی قیمتوں میں خاصی تیزی دیکھی گئی جس نے مہنگائی کی مجموعی شرح کو بڑھایا یعنی کہ مالی سال 2025ـ2024کی پہلی سہہ ماہی (جولائی -اگست) میں مہنگائی کی عمومی شرح تقریباً 4.22فیصد رہی ۔جو پچھلے سال کے مقابلے میں کم ہے ۔جب وہ تقریباً 9.19فیصد تھی ۔
حکومت اور تجزیہ نگار توقع کرتے ہیں کہ مالی سال 2026ـ2025میں مہنگائی کی شرح مزید نرمی اختیار کرے گی ممکن ہے کہ وہ تقریباً 4.4فیصد کے اردگرد رہے ۔مگر حالیہ سیلابوں نے خوراک کی پیداوار اور رسد کو متاثر کیا ہے ۔جس سے خوراک کی قلت ہوسکتی ہے اور قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں ۔اگر حکومت کی مالیاتی پالیسیاں اور کرنسی کے استحکام برقرار نہ رہیں تو مہنگائی پر قابو پانے کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں ۔توقع کی جارہی ہے کہ شرحِ سود میں کمی کی جائے گی تاکہ قرض اور صنعت و تجارت کی لاگت کم ہو ،مگر یہ تبدیلیاں وقت طلب ہوں گی ۔
مزید برآں مہنگائی کے عوام پر اثرات کی بات کی جائے تو مہنگائی نے عوام کی مالی ہی نہیں بلکہ ذہنی سکون کو بھی چھین لیا ہے ۔والدین بچوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں ،گھروں میں ناچاقیاں بڑھ رہی ہیں اور نوجوان طبقہ مایوسی کا شکار ہے ۔ماہانہ تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے کے باعث متوسط طبقہ تیزی سے غربت کی لکیر کے قریب پہنچ رہا ہے ۔دوسری جانب ،چھوٹے کاروباری طبقے کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ پیدوار کی لاگت میں اضافہ ہوا ۔بجلی کے فی یونٹ نرخ 65روپے سے بھی زیادہ ہوچکے ہیں جس نے صنعت و تجارت دونوں کو متاثر کیا ہے ۔
مہنگائی کے بوجھ نے چوری ،خودکشی اور دیگر سماجی جرائم میں بھی اضافہ کیا ہے ۔لوگ عزت کی زندگی گزارنے کی بجائے قرضوں اور ادھار کے جال میں پھنس گئے ہیں ۔
ان تمام مسائل پہ قابو پانے کیلئے حکومت کی جانب سے ریلیف پیکجز اور سبسڈی کے وعدے تو گئے مگر عملی طور پر عوام کو خاطر خواہ ریلیف نہیں ملا ۔آئی ایم ایف کے پروگرامز کے نتیجے میں ٹیکسوں کا بوجھ ضرور بڑھ گیا ہے جبکہ اشرافیہ کے مراعات یافتہ طبقے کو اب بھی چھوٹ حاصل ہے ۔رہی سہی قصر مہنگائی کا طوفان – سیلاب کی صورت میں سامنے آیا ۔
لہذا جہاں تک میری رائے کا تعلق پاکستان میں مہنگائی پر قابو پانے کیلئے وقتی اعلانات نہیں بلکہ جامع اور پائیدار پالیسی کی ضرورت ہے ۔زراعتی پیداوار میں اضافے ،ذخیرہ اندوزی کے خاتمے اور مارکیٹ مانیٹرنگ کے سخت نظام کے بغیر کوئی بھی منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا ۔
نتیجتاً پاکستانی عوام اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں جینے کے لیے جدوجھد خود ایک عذاب بن گئی ہے ۔اگر حکومت اور پالیسی ساز طبقہ فوری اور سنجیدہ اقدامات نہ کرے تو یہ معاشی بحران سماجی انتشار میں بدل سکتا ہے ۔
مہنگائی کے طوفان میں پسے ہوئے عوام آج ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں:
ہم کب تک اپنے ہی ملک میں مہنگائی سے لڑتے رہیں گے اور ہر بحران کو اللّٰہ تعالیٰ کی مرضی کہہ اور سمجھ کر ٹالتے رہیں گے ۔
امید ہے کہ موجودہ ملکی انتظامیہ اور حکومت مہنگائی پر قابو پانے کیلئے مؤثر اقدامات سر انجام دے گی اور عوام کے مسائل کو بھی سمجھنے اور حل کرنے کی کوشش کرے گی ۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں