اچھی کتاب وہ ہے جو قاری کو اپنی گرفت میں اس طرح لے کہ انسان کام کاج چھوڑ کر کتاب پڑھتا مزے لیتا علم کے موتی اپنے دامن میں سمیٹتاجب حرف آخرپر پہنچتے تواس بات پر اظہار افسوس کرے کہ کاش اس سفر کا اختتام نہ ہوتا۔۔ ابھی کچھ مزید پڑھنے کو ملتا۔
میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔
کشمیر کے بہت ہی حسین خطہ راولاکوٹ کے باسی جاوید خان نے اپنا سفرنامہ ‘‘ عظیم ہمالیہ کے حضور!’’ کا تحفہ مجھے دیتے ہوئے بڑے دھیمے انداز میں عجز و انکساری سے کہا کہ جناب اسے ضرور پڑھئے۔ میں نے چہرے پر رسمی مسکراہٹ پھیلاتے ہوئے کہا…… ضرور پڑھوں گا…… اکثر اہل قلم کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ وہ اپنی تخلیقات جب احباب کو پیش کرتے ہیں توتحفہ وصول کرنے والاوعدہ کرتا ہے کہ میں اسے ضرور پڑھوں گا لیکن اکثریت وعدہ وفا نہیں ہوتا۔ایسا رویہ صاحب تصنیف کے لئے باعث تکلیف ہوتا ہے۔ تخلیقات خون جگر سے وجود میں آتی ہیں ۔ صاحب قلم کو اپنی تخلیقات اولاد کی طرح پیاری ہوتی ہیں۔
کتاب نہ پڑھنے کی لوگ کئی بہانے بناتے ہیں۔سب سے بڑا بہانہ یہ تراشا جاتا ہے کہ ……بہت مصروف رہا آپ کی کتاب پڑھ نہ سکا۔ایسے بہانے بس بہانے ہی ہوتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے ہر انسان کے پاس چوبیس گھنٹے ہوتے ہیں…… چاہئے وہ امریکی صدر ہو یا پھر ایک دہقان یا محنت کش۔فرق صرف یہ ہے کہ جو انسان وقت کی قید کی بجائے وقت کو قید کرکے اپنی مٹھی میں بند رکھتاہے وہی کامیاب ہوتا ہے۔ وقت کا بہانہ وہی لگاتے ہیں جو خود وقت کی قید میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی بقول منشی امیر اللہ تسلیم ……
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے
یوں ہی عمر تمام ہوتی ہے
اس کے برعکس……
جو لوگ وقت کو اپنی کنیز بنالیتے ہیں وہی کامیاب ، آزاد اور مرد حر ہوتے ہیں۔
میں پاکستان پہنچا تو میرے انتہائی محترم ڈاکٹر ظفرحسین ظفر نے فون پر راولاکوٹ آنے کی دعوت دی اور فرمایا آپ ہمارے شہر میں آئیں تو اہل ذوق و اصحاب ادب سے ملاقات کا اہتمام کریں گے۔ اگر دعوت کھانے کی ہوتی تو میں بھی وقت کا بہانہ بناتا لیکن بات اصحاب ادب کی تھی ایسے میں مَیں نے فوری ہاں کردی۔ پھر ملکی حالات آڑے آئے اور جب فضاء صاف ہوئی توبدھ 8 اکتوبر2025کا دن مقرر ہوا۔ہم اکاب سکول کے پرنسپل پروفیسر الیاس ایوب اور نامور شاعر مصطفی جاذ ب کے ہمراہ راولاکوٹ پہنچے توڈاکٹر ظفر حسین ظفر نے کھلے دل سے استقبال کیا۔ کھانے کے بعد اصحاب ادب سے ایک یادگاری نشست ہوئی جہاں جاوید خان نے مجھے اپنا سفرنامہ ‘‘عظیم ہمالیہ کے حضور!’’ دیا۔ یہ سفرنامہ شمالی علاقہ جات گلگت بلستان کی سفری یادوں پر مشتمل ہے جسے فکشن ہاؤس لاہور نے شائع کیا ۔
گھر پہنچ کر سفرنامے کی ورق گردانی شروع کی تو اُس نے مجھے اپنی گرفت میں لے لیا۔ سفر در سفر اور منظر در منظر سفرنامے کو پڑھتے پڑھتے میں بھی اُن کے ہمراہ سفر کرنے لگا۔ جہاں یہ قافلہ رکتا میں بھی آرام کرلیتا چائے پیتا اور تروتازہ ہوکر پھر محو سفر ہوجاتا۔
یہ سفرنامہ کمال کا ہے۔ ادبی چاشنی اور منظرنگاری کا یہ مرقع ہے۔جاویدخان الفاظ سے ایسی تصاویر تراشتے ہیں کہ دیکھنے والا فرط حیرت میں ڈوب جاتاہے……سفرنامے کا ایک منظرنامہ ……
‘‘میرے کچے گھر کے سامنے سیبوں کا گھنا باغ تھا۔بہار میں سیبوں پر پھُول آتے تو بھنورے اَور شہد کی مکھیاں اِن پر لپک لپک پڑتیں۔ گھر کے اردگرد مکی کاشت ہُوا کرتی تھی۔ دُور دُور تَک بیاڑ کے گھنے جنگل تھے جو پہاڑوں پر سر اُٹھائے آج بھی کھڑے ہیں۔مشرقی سمَت میں تولی پیر کے پار ، پہاڑوں کے ایک لمبے سلسلے کو آنکھیں ہمیشہ سے دیکھتی آئی ہیں۔ جب بھی دیکھا اُنھیں برف کی چادر اوڑھے ہی دیکھا۔’’
جاوید خان نے یہ سفر اپنے دوستوں کے ساتھ طے کیا۔ دریا ، ندی نالے آبشاریں اور پہاڑ عبور کرتے یہ سفر کے لمحہ لمحہ سے لطف اٹھاتے اور پھر دوستوں کی بے تکلف باتیں شرارتیں سفر کو دوبالا بناتی رہیں۔ راستے میں اگر کوئی منظر دل کو بھاتا تو وہاں رکتے جب طبیعت سیراب ہوجاتی تو پھر محو سفر ہوجاتے۔ یہ کشمیر کی حسین ترین دھرتی کے بعد وادی کاغان میں دریا کنہار کے کنارے فطرت سے ہم کلامی کرتے ،شفاف دریا ، چشمے ندی نالے دیکھتے آگے بڑھتے گئے۔
جاوید حسن پرست ہیں۔ یہ عاشق ہیں ۔ ان کی حسن پرستی اور عاشقی انسانوں کی بجائے کشمیر کے سبزہ زاروں ، پہاڑوں ، چشموں ، برف پوش پربتوں سے ہے۔
جاوید اپنے دوستوں کے ساتھ منزل بہ منزل سفر طے کرتے جب چاہتے گاڑی کھڑی کر کے مقامی لوگوں سے باتی چیت شروع کردیتے ۔ راستے میں انھیں خانہ بدوش بکروال گجرقبیلے کی ایک بیماربڑھیا ملی جسے یہ انسانی ہمدردی کے تحت اپنی گاڑی میں ہسپتال لے گئے ۔ راستے میں ماں جی سے یہ معلوم کرلیتے ہیں کہ ساس اور بہو کی جو لڑائیاں ہوتی ہیں وہ فطرت کے اس حسین خطہ میں بھی لڑی جاتی ہیں۔ جوانی میں بڑھیا اپنی ساس سے اور بڑھاپا میں اپنی بہو سے خوش نہیں ۔ جاوید خان مقامی لوگوں کے ساتھ بات چیت کرتے اُس علاقے کی تاریخ جغرافیہ ، سماج ، سیاست ، تجارت سب موضوعات پر معلومات سیمٹتے سفر کرتے رہے۔
عظیم ہمالیہ کے حضور !…… نامی سفر نامے میں ہمالیہ کے دامن میں بسنے والے لوگوں کے شب وروز ، تہذیب و تمدن ، تاریخ اور جغرافیہ ، شادی بیاہ کے بندھن ، مہمان نوازی ، دراز عمر کے راز ، اس خطے میں پیدا ہونے والے پھل ، فصلیں ، جڑی بوٹیاں غرض ایک دنیا بسی ہے۔
جاوید خان حقیقی سیاح ہیں۔ یہ گھر بیٹھ کر لچھے دار باتیں اور افسانے گھڑنے والے سفرنامہ نگار نہیں۔ یہ سفر کرتے ،گھومتے پھرتے ہیں اور جو دیکھتے یا محسوس کرتے ہیں اُسے دیانت داری کے ساتھ سپرد قلم کرتے ہیں۔ جوان اور خوبرو ہیں۔ ایسے میں حیرت ہوتی ہے کہ اس سیاح کی کسی الھڑ مٹیار سے نہ آنکھ لڑی اور نہ کوئی پہاڑوں کی شہزادی ان کے عشق میں مبتلا ہوئی ۔ ان کے برعکس قصے گھڑنے والے نامورسفرنامہ نگار قبر میں پاؤں لٹکائے دو چار معاشقے بیان کرنے سے اب بھی نہیں ہچکچاتے۔
میں جاوید خان کے اس سفر میں راولاکوٹ سے راولاکوٹ تک ساتھ رہا اور جب سفراختتام کو پہنچا تو دل میں مسرت کے جو پھول کھلے تھے وہ مرجھانے لگے۔ طبیعت میں اُسی طرح کے جذبات اور احساسات پیدا ہوئے جس طرح کسی عزیز دوست کے بچھڑتے وقت انسان محسوس کرتا ہے۔ کتاب بھی ایک اچھے دوست کی مانند ہوتی ہے۔ جی چاہتا تھا کہ یہ سفرجاری رہتالیکن زمانے کو دوام نہیں۔ وقت نہ تو ٹھہرتا ہے اور نہ کسی کا انتظار کرتا ہے…… آخر ہر کسی کو اپنی منزل کی طرف لوٹنا ہوتا ہے۔
جاوید خان کی باتوں میں دھیماپن اور شیرینی ہے۔ ان کا قلم ان کے مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ شرافت کا پیکر ہیں۔ ان کی تحریر رفتہ و شستہ ہے۔ اِن کا قلم کشمیر کی شفاف ندی کی طرح بہتا، آبشاروں کی طرح چہار سو رنگ بکھیرتا چلتا رہتا ہے۔
ٍٍ عظیم ہمالیہ کے حضور!
اردو ادب میں ایک خوب صورت اضافہ ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں