محبت کو اکثر لوگ ایک نجی، نرم و رومانوی تجربہ سمجھتے ہیں- مگر کیا محبت صرف دو افراد کا باہمی تعلق ہے؟ یا یہ معاشرت، روایت اور طاقت کے ڈھانچوں کے خلاف ایک خاموش مگر گہری مزاحمت بھی ہو سکتی ہے؟ یہی سوال ہمیں مابعد جدید فکر کی طرف لے جاتا ہے۔
مابعد جدیدیت دراصل کسی ایک مرکز، کسی قطعی سچائی، یا کسی واحد بیانیے پر یقین نہیں رکھتی۔ یہ کہتی ہے کہ دنیا معانی کا ایک پھیلا ہوا جال ہے جہاں کوئی ایک سچ نہیں بلکہ کئی سچائیوں کا تصادم ہے۔
محبت محض دیدار کا سفر نہیں بلکہ معانی کی تہوں، سماجی ساختوں، اور انسانی وجود کے تضادات میں اپنی شناخت تلاش کرنے کا عمل ہے۔ یہ وہ تجربہ ہے جو وقت، معاشرہ، رواج، اور ذات کے بیچ بکھرے ہوئے مفاہیم کو چیلنج کرتا ہے۔ محبت کا بیانیہ محض ایک رومانوی داستان نہیں ہے؛ یہ سماجی ساختوں کے خلاف ایک کثیر المعنویت (plurality)، مرکز کے انہدام (decentering)، اور طاقت کے بیانیے کی مزاحمت ہے-
لوگ دیدار کی آرزو میں جانے کیا کیا بھیس بدلتے چلے آئے ہیں اور شاید ابد تک بدلتے چلے جائیں، مگر کیا محبت میں دیدار ہر کو نصیب ہوتا ہے؟ کیا دیدار یوں آسان ٹھہرا کہ ہر کوئی محبت کا دعوی کرنے لگے؟
یہ سوال دراصل کسی عاشق کی زبان سے نکلنے والا بین نہیں، ایک عہد کے بیانیے پر اٹھنے والا فکری سوال ہے۔ محبت اب محض قصۂ سسی و پنوں، ہیر رانجھا یا فرہاد و شیریں نہیں رہی؛ یہ ایک ایسا متن ہے جس کی ہر سطر میں کوئی نہ کوئی غیرمرئی ساخت، کوئی سماجی خول، کوئی ثقافتی جبر چھپا ہے۔ محبت کو ہم جس قدر شخصی و داخلی تجربہ سمجھتے آئے ہیں، وہ دراصل اجتماعی و تاریخی بیانیوں سے گندھی ہوئی ایک تہذیبی تشکیل ہے۔
جب محبت کی سسی امیدوں کے کچے گھڑے پر زمانے کی طلاطم خیز موجوں میں بہتی ہے، تو وہ محض ایک محبوب تک رسائی کی جستجو نہیں کرتی بلکہ پورے سماجی نظام کے خلاف ایک علامتی بغاوت بن جاتی ہے۔ وہ موجیں صرف رکاوٹ نہیں ہوتیں، وہ طاقت، روایت، جنس، طبقے اور اختیار کے وہ دھارے ہیں جو انسانی جذبے کو اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھالنے پر تُلے رہتے ہیں۔
ہیر کی بے رخی اور کیدو کا مکاری دراصل فرد اور نظام کے تصادم کا استعارہ ہے- ایک فرد جو محبت کو محض ایک شخص سے وابستہ تجربہ سمجھتا ہے، اور دوسرا نظام جو ہر احساس کو کسی نہ کسی اخلاقی یا سماجی جواز کے تابع رکھتا ہے۔ فرہاد کے تیشے کا پتھروں پر پڑنا دراصل اُن جمی ہوئی معنوی دیواروں پر ضرب ہے جو محبت کو “ممکن” اور “ناممکن” کے خانوں میں بانٹتی ہیں۔ اور ماروی… وہ محبوبہ نہیں، ایک تہذیبی المیہ ہے، جو چاہنے کے باوجود اپنی مرضی کا حق نہیں رکھتی کیونکہ محبت کے بیانیے پر اس کا اختیار نہیں، صرف سماج کا اختیار ہے۔ ٹریسٹن اور ایزولڈ کی کہانی میں سلطنت کا دربار طاقت، قانون اور نظم کی علامت ہے جبکہ محبت اس نظم کے متن پر لکھا گیا ایک جوابی متن (counter-text) ہے۔ دربار ان کے عشق کو جرم بناتا ہے، لیکن عشق اپنی موجودگی سے یہ ثابت کرتا ہے کہ طاقت کے ہر بیانیے کے ساتھ ایک مخالف بیانیہ بھی جنم لیتا ہے۔
یہاں عشق ایک خطی داستان نہیں، ایک پھیلتی ہوئی تفہیم ہے؛ جہاں فرہاد صرف ایک کردار نہیں بلکہ ایک معنیاتی دراڑ ہے؛ سسی ایک متن ہے جسے ہر عہد نئے معانی دیتا ہے؛ اور ہیر… وہ سماج کے آئینے میں جھلکتی ہوئی ایک ایسی تصویر ہے جو ہمیشہ مکمل ہونے سے ذرا پہلے ٹوٹ جاتی ہے۔
سو ہم کہہ سکتے ہیں کہ محبت کوئی مکمل حقیقت نہیں، یہ زخم، سوال، مزاحمت، اور بکھرے ہوئے معانی کا مجموعہ ہے۔ اور شاید اسی لیے محبت ہمیشہ قیمت مانگتی ہے، اور اکثر وہ قیمت خود عاشقوں کا وجود ہوتا ہے۔
بس یہی مابعد جدیدیت کا کمال ہے- یہ عشق کو تقدس کے خول سے نکال کر معنی کے کھیل میں داخل کرتی ہے جہاں کوئی مرکز نہیں، کوئی قطعی سچائی نہیں…صرف انسان، اس کی خواہش، اور وہ خاموش چیخ جو تاریخ کے حاشیے پر لکھی جاتی ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں