بلیو زونز سے چک 114 تک/محمد ثاقب

میرے کالمز میں آپ نے پاکستان کے مشہور کاروباری لوگوں ، بیورو کر یٹس سفیران کرام اور دیگر لوگوں کی کامیابی کی دل کو چھو لینے والی داستان پڑھی ۔ پڑھنے والوں کی فرمائش تھی کہ دیہات سے تعلق رکھنے والے اپنی

مٹی سے جڑے ہوئے کسی شخص کے زندگی کے شب و روز کو قلم

کی زینت بنایا جائے اسی تلاش میں آج میں رحیم یارخان میں چک 114 میں چودھری عبدالوحیدکے گھر موجود تھا ۔ چہرے پر مسکراہٹ

سادگی اور آنکھوں میں چمک

ہم اپنے کالمز میں بلیو زونز اور

Longevity

کے پرنسپلز

کا تذکرہ کر رہے ہیں۔ اِن سے گفتگو کے دوران میں نے ان پر نسپلز کا عملی

استعمال یہاں پر دیکھا

ان کا گھر رحیم یارخان سٹی سے دس، بارہ کلومیٹر دور ہے میں موٹر سائیکل

پر ان کے گھر کی طرف رواں تھا شہر سے باہر نکلتے ہی دونوں سائیڈوں پر

کھیت اور ہری بھری فصلیں ۔ سڑک بنی ہوئی ہے

میں تازہ آکسیجن ، مٹی کی خوشبو ہرے بھرے درختوں کی سرگوشیاں سنتا ہوا آہستگی سے اپنی منزل کی طرف رواں تھا گوگل میپ کو فالو کر رہا تھا ایک غلط موڑ مڑنے کی وجہ سے میں کھیتوں کے اندر ہی تین چار کلو میٹر آگے نکل گیا ایک کسان مل گیا مجھے پینٹ شرٹ، کوٹ میں ملبوس دیکھ کر میرے قریب آ گیا میں نے کہا چک 114 میں جانا ہے اُس نے اشارے سے صحیح راستےکے بارے میں بتایا اور پوچھا کہ آپ اس رستے پر کیسے آگئے میں نے موبائل کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ گوگل مائی مجھے یہاں لے آئی ہے اس ڈیجیٹل دور میں وہ بات سمجھ گیا اور چہرے پر موجود مسکراہٹ

مزید گہری ہوگئی

چودھری عبد الوحید کے گھر میں ہونے والی گفتگو کی طرف واپس

آتے ہیں چودھری صاحب 1985 سے زمیندارہ کر رہے ہیں اُس وقت ان کی عمر پندرہ سال سے بھی کم تھی۔ ہر کام خود اپنے ہاتھوں سے کیا پانی لگانا، کھا ددینا، ٹیم بنانا، زمین کی دیکھ بھال اور اسی کو کامیابی

کا پہلا پرنسپل قرار دیا کہ آوارہ گردی نہ کی جائے ابتدائی عمر سے ہی کام کیا جائے

بلیو زونز کے لائف سٹائل کی طرف واپس آتے ہیں دُھوپ ، سادہ کھانا، صبح جاگنا اور سادہ لائف سٹائل ۔ یہی طرز زندگی چک 114 میں نظر آیا ۔ کہتے ہیں کہ لمبی زندگی کا راز یہ ہے کہ جینے میں جلدی نہ کرو ۔

اسی فلسفے کو شاعر نے خوبصورتی سے بیان کیا۔

اتنا تھک چکے ہو چل چل کر۔۔

تم اب آرام کیوں نہیں کرتے؟

لالہ و گل راہ میں منتظر رہتے ہیں۔۔

تم ان سے کلام کیوں نہیں کرتے؟

ٹوٹ گئے جو خواب تھے آنکھوں میں۔۔

تم اپنا انتظام کیوں نہیں کرتے؟

کوئی تو ہے جو منتظر رہتا ہے۔۔۔

تم اب اسے سلام کیوں نہیں کرتے؟

راستہ ہی تھک گیا تمہارے قدموں سے۔۔۔

تم سفر کا اختتام کیوں نہیں کرتے؟

سورج تو چھپ چکا آسماں کے پردوں میں۔۔

تم اب اپنی شام کیوں نہیں کرتے؟

چودھری عبدالوحید نے ایک ایکڑ پر اسی من گندم کی پیداوار کے ساتھ ایوارڈ وصول لیا ۔ باڑے میں جانور موجود ہیں۔ ان کے والد صاحب بقر عید کے

لیے خصوصی طور پر بکروں کی پرورش بھی کرتے تھے انہیں پورا سال شہزادوں کی طرح رکھا جاتا تھا ۔ میرے سوال پر کہ کون سے پھلوں کی کاشت بہتر ہے

اُنہوں نے امرود اور کینو کے باغ لگانے کا مشورہ دیا۔

مہمان نوازی ہمارے دیہات کے لوگوں کا وصف ہے

ان کی باڈی لینگوئج بتاتی ہے کہ مہمانوں کو اللہ تعالٰی کی رحمت سمجھتے ہیں۔ پیدل چلنے کی اہمیت ہر بات کی۔ میرے دوستو اگر آپ پریشان، ڈپریس رہتے ہیں

تو اپنے پیروں کو حرکت دینا سیکھیں۔ صرف بیِس سے پچیس منٹ کی واک آپ کو ڈپریشن کے فیز سے باہر نکال دے گی۔

شکر گزاری اور خاندان کے ساتھ جُڑ کر رہنے کی بات کی۔ ہر صبح سورج سے

پہلے اٹھنا۔

جانا ہے ہمیں وقت کی رفتار سے آگے

سورج کی کرن ہم سے نہ پہلے کہیں جاگے

بلیو زونز لائف سٹائل میں کہا جاتا ہے کہ صحت وہ دعا ہے جو تم روز عمل سے مانگتے ہو۔ جی ہاں صرف خواہش نہیں سادہ طرزِ زندگی کی بنیادوں پر کھڑا ہوا لائف سٹائل ۔ چودھری عبد الوحید صاحب کے گھر پر دودھ اپنی بھینسوں کا، گندم اپنے کھیتوں کی۔ گاؤں کا ہر شخص ان کو جانتا ہے یعنی مضبوط کمیونٹی ،پیٹ میں گنجائش رکھ کر کھانا، زیادہ چلنا اور کم فکر کرنا۔

بلیو زونز کے پرنسپلز کو میرے دوستو آپ عملی شکل میں

دیکھنا چاہتے ہیں تو رحیم یارخان کے چک 114 میں ایک دن گزاریں زندگی اپنی تمام تر خوبصورتی کے ساتھ آپ کی آنکھوں کے سامنے موجود ہو گی

ان کے صاحبزادے عمر وحید بھی ہمارے ساتھ رہے

زراعت کے جدید ٹرینڈز کی بات کی محسوس ہوا کہ پاکستانی میں زمینداره

مستقبل میں بہتری کی طرف جائے گا ۔ عُمر کی گفتگو میں بڑے خواب اور

زندگی میں ایک مقصد ہونا واضح طور پر محسوس ہوا ۔

پھر سے بلیو زونز کی بات کرتے ہیں وہاں کہا جاتا ہے

ہر صبح اُٹھنے کی ایک چھوٹی سی وجہ ہی زندگی کو بڑا بناتی ہے۔

اور

Neurosomatic

کے فلسفے کو ظاہر کرتا ہوا

یه جمله

اگر تمہیں پتا ہے کیوں جینا ہے، تو جسم خود تندرست رہتا ہے۔

اور ہم نے اپنے پچھلے کالم میں تفصیل سے بتایا کہ زندگی میں مقصد کا ہونا آپ کی عمر میں سات سال کا اضافہ کر دیتا ہے۔

چودھری عبدالوحید کے ساتھ گزارہ ہوا دن ایک شاندار میموری

کی طرح میری زندگی کی یادگار تصویروں میں شامل ہے۔

زندگی میں سادگی اور مقصد کو پانا چاہتے ہیں تو پاکستان کی

پہلی 30 گھنٹے کی آن لائن ورک شاپ

NeuroSomatic Practitioner Workshop

کے نام سے میں آفر کر رہا ہوں آپ مجھے اس نمبر

0300-9273773

پر فون کر کے ورک شاپ کا حصہ بنیں

اور آخر میں چودھری عبد الوحید کی شخصیت کی عکاسی کرتی ہوئی امجد اسلام امجد کی یہ خوبصورت نظم

محبت ایسا نغمہ ہے

ذرا بھی جھول ہو لے میں

تو سر قائم نہیں ہو تا

محبت ایسا شعلہ ہے

ہوا جیسی بھی چلتی ہو

کبھی مدھم نہیں ہوتا

محبت ایسا رشتہ ہے

کہ جس میں بندھنے والوں کے

دلوں میں غم نہیں ہوتا

محبت ایسا پودا ہے

جو تب بھی سبز رہتا ہے

کہ جب موسم نہیں ہوتا

محبت ایسا دریا ہے

کہ بارش روٹھ بھی جاتے

تو پانی کم نہیں ہوتا

Facebook Comments

محمد ثاقب
محمد ثاقب ذہنی صحت کے ماہر کنسلٹنٹ ہیں جو ہپناتھیراپی، لیڈرشپ بلڈنگ، مائنڈفلنس اور جذباتی ذہانت (ایموشنل انٹیلیجنس) کے شعبوں میں گذشتہ دس برس سے زائد عرصہ سے کام کررہے ہیں۔ آپ کارپوریٹ ٹرینر، کے علاوہ تحقیق و تالیف سے بھی وابستہ ہیں اور مائنڈسائنس کی روشنی میں پاکستانی شخصیات کی کامیابی کی کہانیوں کو دستاویزی شکل دے رہے ہیں۔ معروف کالم نگار اور میزبان جاوید چودھری کی ٹرینرز ٹیم کا بھی حصہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply