افغانستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک ایسا المیہ بن چکا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ دو برادر اسلامی ممالک جو کبھی ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی تھے آج بداعتمادی، سرحدی تناؤ اور فکری اختلافات کے جال میں الجھے ہوئے ہیں۔ ان دونوں کے درمیان جو دیوار کھڑی ہے وہ محض خاردار تاروں یا سرحدی باڑ کی نہیں بلکہ غلط فہمیوں، شک و شبہات اور پراپیگنڈے کی دیوار ہے۔
اصل مسئلہ کسی قوم یا مذہب کا نہیں بلکہ ان مسلح گروہوں کا ہے جنہوں نے دونوں ممالک کے امن کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ افغانستان کی سرزمین سے نکلنے والے یہ گروہ جب پاکستان کے اندر کارروائیاں کرتے ہیں تو دونوں ممالک کے تعلقات مزید تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں الزام تراشی سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ حقیقت کو تسلیم کیا جائے اور اس کے حل کی سنجیدہ کوشش کی جائے۔
اسلام ہمیں اتحاد، اخوت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ ایک مسلمان چاہے دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو ہمارا بھائی ہے۔ مگر جب بات وطن کی حفاظت اور سرحدوں کے دفاع کی آتی ہے تو پھر بھائی چارے کو وقتی طور پر پسِ پشت ڈالنا پڑتا ہے کیونکہ وطن کا تحفظ ایمان کا تقاضا ہے۔ اسلام نے سرزمین اور اپنی قوم کے دفاع کو نہ صرف جائز بلکہ عین فریضہ قرار دیا ہے۔ اس لیے پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت بھی ایک دینی اور قومی ذمہ داری ہے۔
ان پیچیدہ حالات میں مسئلے کا حل کسی بیرونی طاقت یا نمائشی مذاکرات میں نہیں بلکہ ان تین فریقوں کے درمیان خلوص نیت سے ہونے والی بات چیت میں پوشیدہ ہے۔ پاکستان، افغانستان، اور وہ مسلح گروہ جو ان دونوں کے درمیان فساد کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ اگر یہ تینوں فریق براہِ راست ایک میز پر بیٹھ جائیں بغیر کسی سیاسی مصلحت یا دباؤ کے تو شاید پہلی بار ایک دوسرے کی بات کو سنا جا سکے۔ جرگے، ثالثی یا زبانی بیانات امن نہیں لا سکتے جب تک دلوں کے دروازے بات چیت کے لیے نہ کھلیں۔
اب وقت آگیا ہے کہ دونوں ممالک اپنی پالیسیوں کو ضد اور الزامات سے نکال کر حکمت، فہم اور بھائی چارے کی بنیاد پر استوار کریں۔ امن کا راستہ ہمیشہ جنگ سے نہیں بلکہ سمجھوتے، تحمل اور اعتماد سے نکلتا ہے۔ اگر نیتیں صاف ہوں تو پہاڑ بھی ہٹ جاتے ہیں اور دلوں کی دیواریں بھی گر جاتی ہیں۔

اللّٰہ کرے کہ یہ خطہ دوبارہ امن، استحکام اور بھائی چارے کا گہوارہ بن جائے جہاں گولیوں کی آواز کے بجائے اذانوں اور بچوں کی ہنسی کی گونج سنائی دے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں