خواتین و حضرات! بلا کم وکاست براہ راست آپ سے مخاطب ہوں۔ فیملی آف دی ہارٹ کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب کا برقی یعنی واٹس ایپ پیغام آیا کہ گیارہ اکتوبر کو پچیسیویں سالگرہ پر کچھ بولنا پسند فرمائیں گے؟ تو ذہن میں فوری طور پر یہی آیا کہ جی ضرور ،کیوں نہیں! مگر ان فارمل اور بن فارملین کیونکہ “ جب میں بولوں گا تو سب بولیں گے کہ بولتا ہے۔ فیملی آف دی ہارٹ اور ڈاکٹر صاحب کے ساتھ میرا”چھیڑ خوباں سے چلی جائے ہے اسد “کے مصداق چھیڑ خانیوں کا رشتہ ہے، تو پھر لیجئے کچھ معروضات کھلے دل اور دماغ سے برائے تفنن پیش ہیں ۔امید واثق ہے میری گستاخیوں سے آپ سب صرفِ نظر کریں گے اور اسے فقط لفظی چاند ماری پر ہی محمول کریں گے۔ اس مضمون کا ذیادہ تر حصہ جاگو میٹی کی حالت میں رات کے چار بجے نیند قربان اور دھیان و گیان سے دور رہ کر لکھاگیا اس لئے ہارٹ پر لئے بغیر سننے کی استدعا ہے۔خاکسار کا فیملی آف دا ہارٹ سے تعلق ایک سامع کی حیثیت سے2016 میں استوار ہوا جو آج بھی آپ کی سمع خراشی تک جاری و ساری ہے یا لمحہءِ حاضر سے حاضرات و محاضرات تک کا سفر ہے۔

گیارہ اکتوبر یعنی آج جب سلور جوبلی کی یہ تقریب منائی جارہی ہے میرے لئے ایک عام دن ہو ہی نہیں سکتا۔ کم از کم میں تو اسے ساری عمر نہیں فراموش کرسکتا کیونکہ اسی دن ناچیز کو جرمِ ناکتخدائی کی پاداش میں“قید شہنائی” کی سزا سنائی گئی تھی جس کی سولر جوبلی بھی چند سال بعد اسی دن پڑے گی۔اس دن ہمارے کنوار پن اور گنوار پن کا خاتمہ ہوا تھا اور ایک عدد فیملی آف دا ہارٹ کے نقطہء آغاز کا سہرا ہمارے سر بندھا تھا مگر آج جس فیملی آف دا ہارٹ کے میاں نوشہ جن کے سر سہرابندھے گا وہ کون ہیں ،سب جانتے ہیں۔جی ہاں ہم سب کے پیارے ڈاکٹر خالد سہیل۔
ڈاکٹرخالد سہیل اس خاندان کے ہیڈ، سربراہ یا مکھیا ہیں جو اس فیملی میں ڈان کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ڈاکٹر صاحب نہ تو ماریو پوزو کے ناول “گاڈ فادر” والے ڈان کارلیونی کی طرح کے ڈان ہیں کہ مافیا فیملی میں شمولیت ،ا خراج اور خراج کافیصلہ ڈان کرتا ہے اس کے برعکس یہاں ایک ہی اصول رائج ہے یعنی خراج تحسین و توصیف۔
اور نہ ہی” سراوانٹس “کے ڈان کیہوٹے کی طرح کے ڈان ہیں بلکہ یہ روزِروشن کےاولیں سپیدہ والے ڈان (Dawn) ہیں۔
Dawn of new era and aura.
ڈاکٹر صاحب نے اس کنبے کو یوں باندھ کے رکھا ہوا ہے کہ روایتی خاندان بھی کیا باندھتا ہوں گے۔بقول جون ایلیا
“یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا؟”

ایک ایسا کنبہ جو ان نفوسِ بے ریا و نرم رویہ پر مشتمل ہے جو کنبھ کے میلے میں بچھڑے ہوں ناں ہوں مگر یہاں مل ضرور گئے ہیں ۔ اسی لئے یہاں شرکت اور شراکت مل بیٹھنے کے لئے برپا کی جاتی ہے.
ڈاکٹر صاحب کی تحریر کردہ چند کتابوں اور فیملی آف دی ہارٹ کو اگر ایک جملے میں سمونے کی کوشش کروں تو یوں ہوگا اگر ڈاکٹر صاحب اجازت دیں، جملہ کچھ یوں ہے
“فیملی آف دی ہارٹ “درویشوں کا ڈیرہ “ہے جہاں پر ایک خضر صورت” سالک” اپنی “مشترکہ محبوبہ “کو” پاپی” ادیبوں کے ساتھ بخوشی شئیر کرنے پر آمادہ رہتا ہے۔(واوین میں ساری ڈاکٹر صاحب کی کتب کے نام ہیں)
اس فیملی نے اب تک نجانے نا صرف نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی ہے بلکہ ان کتابوں پر تبصرہ کرنے والے بہت سارے مبصرین نے بھی اپنا سفر اسی فیملی سے شروع کیا۔ سب سے زیادہ مگر داد کے مستحق وہ حاضرین ہیں جو پورے اخلاص سے نہ صرف ہر دفعہ منعقد ہونے والی تقریب میں برابر شریک ہوتے ہیں اور ہر دو نوآموزگان کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں ،کچھ تالیوں سے اور کچھ دل ہی دل میں ۔۔۔۔یا چپ رہ کرکہ بقول برنارڈ شا کچھ نہ بولنا بھی ایک قسم کا تبصرہ ہی ہوتا ہے۔ کتابوں کی تقریب ِ اجرا کے ساتھ ساتھ فیملی آف دی ہارٹ نہ صرف جشنِ صحت برپا کرتی ہے جیسا کے کچھ عرصہ قبل امیر حسین جعفری کے دن خصوصی پروگرام کیا گیا یا خراجِ عقیدت و تحسین پیش کرنے کے پروگرام ان ممبران کو جو اس دنیا سے جا چکے جیسا کہ شکیلہ رفیق صاحبہ، عبدالحمید بھاشانی اور رفیع عامر کی زندگیاں سیلیبریٹ کی گئیں۔
فیملی آف دا ہارٹ میں ایک خاص دن کسی کسی سال وہ ہوتا ہے جب فیملی پکنک کا اہتمام ایک فارم پر کیا جاتا ہے جہاں پرفارم کرنے والوں کا اژدھام ایک عام بات ہوتی ہے۔
اس دن خاصے کی چیزمحفلِ موسیقی ، شاعری اور لذت کام و دہن سب اسباب دستیاب ہوتے ہیں۔شاعری سے یاد آیا شاعروں سے معذرت کے ساتھ
اس فیملی میں پلاننگ کی ضرورت تب پڑتی ہےیعنی فیملی پلاننگ کی جب کتب کی تعارفی تقریب کے ساتھ مشاعرہ کا اعلان کردیا جائے۔ اس روز فی کس و ہرکس وناکس اور کرسی پر تشریف فرما سامع کے حصے کم از کم دس شاعر آتے ہیں ۔کہ “یاں سامع تھوڑے ہیں اور شاعر بہت” والا ماحول بلکہ لاحول ولا ہوتا ہے ۔شاعر بھی اس دن دوسروں کے عیب داراور کمزور مصرعوں پر بڑھ چڑھ کے داد دیتے ہیں تاکہ کمزور مصرعہ سب کو ذہن نشین ہوجائے۔ صاف پتہ چلتا ہے کہ پچھلی بار خود پر ہوئی ہوٹنگ کا بدلہ لے رہے ہیں ۔اچھے شعر پر مگر سب کو سانپ سونگھ اورنیند سے اونگھ آجاتی ہے۔
خیر اس سے پہلے بقول یوسفی صاحب خود ہی بیٹھ جاؤ اس سے قبل کہ بٹھا دیے جاؤ میں اپنا یہ مضمون یہی ختم کرتا ہوں اس دعا کے ساتھ کہ اس فیملی کو کسی کی نظر نہ لگے بس یہ سب پر نظریں جمائے یونہی پھلتی پھولتی رہے ۔ تمام احباب کو ایک بار پھر دلی مبارکباد۔
(فیملی آف دی ہارٹ کی سلور جوبلی تقریب پر پڑھا گیا)
گیارہ اکتوبر 2025
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں