شخصی خودمختاری کا زوال/ڈاکٹرمختیار ملغانی

انسانی شخصیت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اپنی تصدیق اور جواز کے لیے اسے معاشرے یا ریاست کی منظوری درکار ہوتی ہے، وہی معاشرہ اور ریاست جن کی اپنی حیثیت محض فریب اور ظاہری دکھاوا ہے۔
الیکزینڈر پوشکن کی ایک دلکش نظم میں حکمران اپنے غلام کو زہرآلود درخت کے پھل لانے بھیجتا ہے۔ غلام حکم بجا لاتا ہے، مگر زہر سے نڈھال ہو کر اپنے جھونپڑے میں بچھے ٹاٹ پر دم توڑ دیتا ہے۔ یہاں نہایت اہم اشارہ یہ ہے کہ غلام کے پاس ایک ایسی جگہ موجود ہے جہاں وہ مر سکتا ہے۔
ایک دور تھا کہ ہر رات، سماجی جبر سے کچلے ہوئے انسان اپنی جھونپڑیوں اور اپنے دلوں کے خفیہ گوشوں کو لوٹتے تھے، تاکہ لمحہ بھر کے لیے تنہائی اور سکون میسر ہو، اور وہ اپنے آپ سے روبرو ہو سکیں۔
اسی روحانی پناہ گاہ کی طرف واپسی نئے دن کے امتحانات کے لیے دوبارہ زندہ ہونے کی شرط تھی۔ یہی تنہائی انہیں وہ طاقت بخشتی تھی جس کی بدولت وہ اگلے دن کی مشقت اور دکھ سہہ سکتے تھے۔
مگر آج کے انسان سے یہ روحانی پناہ چھین لی گئی ہے۔ اسے یہ مہلت نہیں ملتی کہ وہ اپنے اندر واپس جا سکے، اس “داخلی ہجرت” کا سفر کر سکے جو بےمعنی شور و ہنگامے اور بےکار محنت سے نجات دلاتی تھی۔ میڈیا، اشتہار، انٹرنیٹ، پیشہ ورانہ اور سماجی تعلقات اس باطنی خلا کو بھر دیتے ہیں جس میں خاموشی کے سوا کچھ نہیں ہونا چاہیئے تھا ، کچھ بھی نہیں سوائے اُس پوشیدہ راز کے جو انسان کے ناقابلِ فہم “میں” کی اصل ہے۔
آج کا انسان ایک فیتے کی مانند ہے جس کے اندر اور باہر کی سرحد مٹ گئی ہے۔ وہ اپنے آپ کے ساتھ روبرو ہونے سے ڈرتا ہے، کیونکہ اپنے وجود سے ملاقات اب اسے نئی طاقت نہیں دیتی بلکہ زہر آلود کر دیتی ہے۔ اپنے اندر کا سفر اسے اسی طرح مسموم کرتا ہے جیسے زہریلے درخت کے پھل نے غلام کو مسموم کیا تھا۔
یہ عجیب سانحہ ہے کہ انسانوں کے دلوں میں زندگی کا شجر اب توانائی نہیں دیتا بلکہ اس کے پھل زہر بن چکے ہیں۔
خوف زدہ انسان باہر بھاگتے ہیں — سماج، اشتہاروں، تفریح، پارٹیوں اور get together کی شورش کی طرف، دراصل وہ اس ہنگامے کی طرف اس لئے بھاگتے ہیں کہ اپنی ذات کے زہریلے پھلوں سے دور رہ سکیں ۔
اس بھاگ دوڑ میں پھر نفسیاتی تجزیہ (سائیکو اینالیسس) ان کی مدد کو آتا ہے۔ یہ چیز فرائڈ نے سکھائی بالخصوص اشرافیہ کو سکھائی ، اور اشرافیہ نے اسے بغیر سوچے سمجھے ایک مؤثر ہتھیار مان لیا ، تاکہ انسان کی اصل حقیقت کو مطعون کیا جائے، زنجیروں میں جکڑا جائے اور کسی پاگل مجرم کی طرح قید کر دیا جائے۔ حالانکہ وہ اپنی اصل میں ایک فطری وجدانی آواز ہے جو دنیا کی بیہودگیوں اور واہیاتیوں سے سمجھوتہ کرنے سے انکار کرتی ہے۔ مگر نفسیاتی تجزیے میں اسی وجدانی آواز کو ایک لاشعوری داخلی حملہ آور بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جسے “نفسِ امّارہ” یا “Id” کا نام دیا گیا ہے اور اس پہ قابو پانے کی ہر سطحی کوشش کی جاتی ہے جو آخری تجزہے میں ناکامی ہی سے دوچار ہوتی ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply