• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پیرافورس’نظم و ضبط اور قانونی عملداری کی نئی جہت / سید عمران علی شاہ

پیرافورس’نظم و ضبط اور قانونی عملداری کی نئی جہت / سید عمران علی شاہ

ملک پاکستان کو دنیا کے نقشے پر بحیثیت ایک ملک کے ابھرے معرض وجود میں آئے ہوئے تقریباً 10 دہائیاں مکمل ہونے کو ہیں، پاک وطن کی ترقی رفتار بہت سست روی کا شکار رہی ، مگر وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کی منازل طے کرنے کا سفر جاری و ساری ہے، 2024 کے جنرل الیکشن کے بعد محترمہ مریم نواز نے بطور پہلی خاتون وزیر اعلیٰ پنجاب کی ذمہ داری سنبھال کر صوبہ پنجاب سیاسی و پارلیمانی تاریخ میں ایک منفرد اعزاز حاصل کیا، اپنے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی، مریم وزیر اعلیٰ پنجاب نے پنجاب کے باسیوں کی فلاح و بہبود کے لیے اعلیٰ پائے کے پنجاب دھی رانی پروگرام ، سکول نیوٹریشن پروگرام ، صاف ستھرا پنجاب جیسے بے مثال منصوبوں کا اجراء کیا، پنجاب حکومت کی حالیہ انتظامی اصلاحات کے سلسلے میں ایک نیا ادارہ منظرِ عام پر آیا ہے،
Punjab
Enforcement & Regulatory Authority (PERA)
جس کے تحت ایک خصوصی نفاذی فورس، یعنی PERA Force Punjab، تشکیل دی گئی ہے۔
حکومت کے مطابق، اس فورس کا مقصد صوبے بھر میں قانون کی یکساں عملداری، عوامی شکایات کا فوری ازالہ، ناجائز تجاوزات کا خاتمہ، ذخیرہ اندوزی کی روک تھام، اور مارکیٹ ریگولیشن کو مؤثر بنانا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ — کیا یہ ادارہ پنجاب کے انتظامی ڈھانچے میں بہتری لائے گا، یا ایک نیا متوازی نظام جنم لے رہا ہے؟
پس منظر اور قیام کی وجوہات
گزشتہ دہائی میں پنجاب میں انتظامی چیلنجز بڑھتے چلے گئے،
ریونیو، بلدیات، پولیس اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے درمیان اختیارات کے تداخل نے عوامی شکایات کے حل میں رکاوٹیں پیدا کیں۔
مارکیٹ میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں عدم استحکام، ذخیرہ اندوزی، اور تجاوزات کے خلاف کمزور کارروائیاں عوامی نارضایتی کا باعث بنیں۔
انہی حالات میں حکومت نے “Punjab Enforcement & Regulation Act 2024” منظور کر کے PERA کو ایک مرکزی نافذ کنندہ ادارہ کے طور پر متعارف کروایا۔
اس ادارے کے تحت PERA Force وہ عملدرآمدی بازو ہے جو صوبے بھر میں ضوابط اور قوانین کے نفاذ کو یقینی بنائے گا۔
ادارہ جاتی ڈھانچہ
PERA
کی سربراہی چیف منسٹر پنجاب کے پاس ہے، جب کہ چیف سیکرٹری پنجاب بطور نائب چیئرمین خدمات انجام دے رہے ہیں۔
روزمرہ کی کارروائیوں کی قیادت ڈائریکٹر جنرل PERA کے سپرد ہے، جنہیں تحصیل اور ضلع سطح پر Enforcement Stations اور District Enforcement & Regulatory Boards (DERBs) کے ذریعے معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
یہ ماڈل دراصل ایک نیم عسکری و انتظامی نظام ہے، جس میں افسران کو “سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسرز” (SDEOs) کی حیثیت سے مقرر کیا گیا ہے۔
یہ افسران ذخیرہ اندوزوں، غیر قانونی تجاوزات، یا خلافِ قانون کاروباری سرگرمیوں کے خلاف فوری کارروائی کے مجاز ہیں۔
اختیارات اور قانونی دائرہ کار
“PERA Force” کو وہ اختیارات حاصل ہیں جو ماضی میں صرف ضلعی انتظامیہ یا پولیس کے پاس تھے
ضبطی اور معائنہ
جرمانے عائد کرنا
کاروباری اجازت ناموں کی منسوخی
قیمتوں کی چیکنگ
فوری کارروائی کے لیے سماعت
تاہم، ماہرین کے مطابق یہ فورس پولیس کے متوازی ایک انتظامی قانون نافذ کرنے والی اتھارٹی بن سکتی ہے، جس کے اختیارات کی حدود اگر واضح نہ کی گئیں تو اداروں کے مابین تصادم کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔
حکومت پنجاب کا مؤقف واضح ہے کہ:
> “PERA عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ ہمارا مقصد عوامی شکایات کا فوری ازالہ، قیمتوں میں استحکام، اور قانون شکن عناصر کے خلاف تیز اور شفاف کارروائی ہے۔”
(— حکومتی ترجمان، لاہور لانچ ایونٹ 2025)
وزیراعلیٰ پنجاب نے افتتاحی تقریب میں کہا تھا کہ:
> “اب پنجاب میں کوئی ذخیرہ اندوز، ناجائز قابض یا عوامی مفاد کے خلاف کاروبار کرنے والا شخص قانون سے بالا تر نہیں ہوگا۔ PERA فورس اس وعدے کو عملی جامہ پہنائے گی۔”
عوامی ردعمل اور زمینی حقیقت،
PERA فورس کے ابتدائی آپریشنز لاہور، راولپنڈی، اور فیصل آباد میں دیکھے گئے، جہاں ٹیموں نے مارکیٹوں، گوداموں، اور غیر قانونی تعمیرات پر کارروائیاں کی
عوامی سطح پر دو طرح کے ردعمل سامنے آئے:
1. مثبت تاثر:
کئی شہریوں نے کہا کہ “بالآخر حکومت نے فوری اور نظر آنے والا ایکشن شروع کیا ہے”، اور قانون شکن عناصر کو جواب دہ بنایا جا رہا ہے۔
2. تنقیدی نقطہ نظر:
کچھ تاجروں نے شکایت کی کہ کارروائیوں میں شفافیت کا فقدان ہے اور چھوٹے دکانداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جب کہ بڑے مگرمچھ بدستور محفوظ ہیں۔
مؤثر صحافتی ذرائع کے مطابق، ابتدائی چھ ماہ میں تقریباً 8,000 کارروائیاں کی گئیں، جن میں سے 60 فیصد ذخیرہ اندوزی اور 25 فیصد ناجائز تجاوزات سے متعلق تھیں۔
ماہرین کی آراء
پالیسی تجزیہ نگار ڈاکٹر فرحت قریشی کے مطابق:
> “PERA کا قیام ایک اچھا قدم ہے، مگر اگر اسے احتسابی میکانزم کے بغیر چھوڑ دیا گیا تو یہ عوامی مفاد سے زیادہ سیاسی ہتھیار بن سکتا ہے۔”

julia rana solicitors

جب کہ سابق کمشنر لاہور، محمد علی ناصر کا کہنا ہے:
“یہ فورس اگر انتظامیہ کے ساتھ مربوط رہی تو مؤثر ثابت ہوگی، لیکن اگر ادارہ جاتی تداخل بڑھا، تو یہ بھی سابقہ کمیٹیوں کی طرح محض رسمی حیثیت اختیار کر لے گی۔”
عوامی خدمت فوری کارروائی، بہتر نظم و ضبط زیادتی یا غیر شفاف کارروائیاں
قانونی اثر ایکٹ کے تحت واضح ضابطہ اختیارات کے غلط استعمال کا خدشہ،
بین الادارہ ہم آہنگی ضلعی سطح پر مربوط نظام پولیس و انتظامیہ کے اختیارات میں تصادم،
استحکامِ قیمتیں ذخیرہ اندوزی کی روک تھام چھوٹے کاروباروں پر دباؤ
سماجی انصاف کمزور طبقے کو ریلیف طاقتور افراد کے لیے رعایت کا احتمال خدشہ اپنی جگہ موجود رہے گا,
تحقیقی تجزیے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ PERA Force Punjab ایک جرات مندانہ مگر پیچیدہ تجربہ ہے۔یہ فورس اگر شفافیت، احتساب، اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے ساتھ کام کرے تو عوامی فلاح کے نئے باب رقم کر سکتی ہے۔لیکن اگر اختیارات کے استعمال میں شفافیت نہ رہی، یا سیاسی اثرات غالب آگئے، تو یہ ادارہ عوامی اعتماد کھو سکتا ہے۔
سفارشات:
1. قانونی احتسابی نظام فورس کی کارروائیوں کا سالانہ آڈٹ اور پارلیمانی نگرانی لازمی ہو۔
2. ڈیجیٹل شفافیت ہر آپریشن کی تفصیل ویب پورٹل پر دستیاب ہو۔
3. تربیت یافتہ عملہ , افسران کے لیے ریگولیٹری، انسانی حقوق اور کمیونٹی انگیجمنٹ کی تربیت لازمی ہو۔
4. شہری شمولیت , عوامی شکایات کے لیے PERA Complaint App فعال کی جائے۔
5. بین الادارہ ہم آہنگی پولیس، بلدیات اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ واضح ورکنگ فریم بنایا جائے۔
جنوبی پنجاب کے علاقے میں اس فورس کی آمد کسی نعمت سے کم نہیں ہے، کیونکہ جنوبی پنجاب کے تقریباً ہر ایک شہر میں تجاوزات کا جن بوتل سے باہر تھا، بازاروں اور مارکیٹوں ناجائز قابضین کی اجارہ داری تھی، مگر جس دن سے
PERA Force Punjab,
نے تجاوزات کے خلاف مربوط آپریغ شروع کیا اور ناجائز قابضین سے سرکاری املاک کا قبضہ واگزار کروانا شروع کیا ہے ،اس دن سے جنوبی پنجاب کے مکینوں نے سکھ کا سانس لیا ہے، ضلع لیہ ڈپٹی کمشنر امیرا بیدار ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شبیر ڈوگر کی زیر قیادت ، فہد نور بلوچ نے بطور SDEO جب سے چارج سنبھالا ہے، انکی ٹیم انکی سربراہی میں اطلاقی قانون کو مد نظر رکھتے ہوئے بھرپور انداز اپنی فرائض منصبی ادا کرنا شروع کیے ہوئے ہیں، ضلع لیہ کے تمام شہروں لیہ، کروڑ ،چوبارہ، کوٹ سلطان ، چوک اعظم ،کروڑ ،فتح پور، لدھانہ، پیر جگی اور جمن شاہ میں بلا تخصیص خاص و عام کے تجاوزات کے خلاف مثالی آپریشن کر کے سرکار اور مرکزی شاہراہوں کی اصلی شکل میں بحال کر دیا، عوام الناس ، سے فورس کی جانب سے کی جانے والی تمام کاروائیوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں، بلاشبہ
PERA Force Punjab ،
ایک انتظامی انقلاب کی علامت ہے، مگر انقلاب تبھی پائیدار ہوتا ہے جب وہ انصاف، شفافیت اور عوامی اعتماد پر مبنی ہو۔ اس فورس کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جانا چاہیے، غیر قانونی کالونیاں ،ہاؤسنگ سوسائٹی مافیا، سود پر رقوم دینے والوں ،ذخیرہ ذندوزی کرنے والوں ، اور قبضہ گروپوں کو اپنے شکنجے میں جکڑنے کے لیے یہ فورس نہایت کارآمد ثابت ہو سکتی ہے، یہ فورس اس امر کی متقاضی ہے کہ ،اسے اس کے فرائض منصبی بغیر کسی بھی سیاسی و سماجی دباؤ کے اداء کرنے دیے جائیں، تاکہ یہ فورس اپنی پوری توانائی مفاد عامہ اور حکومتی اہداف کے حصول میں صرف کرے،
یہ فورس ایک آزمائش سے گزر رہی ہے یا تو یہ پنجاب کی نظم و نسق کا نیا ماڈل بنے گی، یا ایک اور سرکاری تجربہ بن کر رہ جائے گی۔

Facebook Comments

سید عمران علی شاہ
سید عمران علی شاہ نام - سید عمران علی شاہ سکونت- لیہ, پاکستان تعلیم: MBA, MA International Relations, B.Ed, M.A Special Education شعبہ-ڈویلپمنٹ سیکٹر, NGOs شاعری ,کالم نگاری، مضمون نگاری، موسیقی سے گہرا لگاؤ ہے، گذشتہ 8 سال سے، مختلف قومی و علاقائی اخبارات روزنامہ نظام اسلام آباد، روزنامہ خبریں ملتان، روزنامہ صحافت کوئٹہ،روزنامہ نوائے تھل، روزنامہ شناور ،روزنامہ لیہ ٹو ڈے اور روزنامہ معرکہ میں کالمز اور آرٹیکلز باقاعدگی سے شائع ہو رہے ہیں، اسی طرح سے عالمی شہرت یافتہ ویبسائٹ مکالمہ ڈاٹ کام، ڈیلی اردو کالمز اور ہم سب میں بھی پچھلے کئی سالوں سے ان کے کالمز باقاعدگی سے شائع ہو رہے، بذات خود بھی شعبہ صحافت سے وابستگی ہے، 10 سال ہفت روزہ میری آواز (مظفر گڑھ، ملتان) سے بطور ایڈیٹر وابستہ رہے، اس وقت روزنامہ شناور لیہ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں اور ہفت روزہ اعجازِ قلم لیہ کے چیف ایڈیٹر ہیں، مختلف اداروں میں بطور وزیٹنگ فیکلٹی ممبر ماسٹرز کی سطح کے طلباء و طالبات کو تعلیم بھی دیتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply