جدید دور میں بچوں کی پرورش : تقابل، تنقید، خوف، بدسلوکی اور سزا کے بغیر کیسے کی جائے؟ (1)
حال ہی میں عفت عمر صاحبہ (اداکارہ، ماڈل، میزبان اور لکھاری) کے یوٹیوب پروگرام “دی گرینڈ ڈیبیٹ” کا ایک خصوصی مذاکرہ دیکھنے کا موقع ملا۔ اگرچہ یہ نشست خاصی طویل تھی مگر چونکہ اس کا مرکزی موضوع بچوں کی تربیت، نفسیاتی نشوونما اور والدین کے رویوں کے اثرات سے متعلق تھا اس لیے میں نے اسے غیر معمولی دلچسپی کے ساتھ دیکھا اور سنا۔
اس مذاکرے میں ممتاز ماہر نفسیات ڈاکٹر سعد بشیر ملک، معروف چائلڈ سائیکالوجسٹ نبیہہ شکیل اور مصنف و کالم نگار سعید ابراہیم شریک گفتگو تھے۔ تینوں نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ اس پہلو پر روشنی ڈالی کہ والدین کی اکثریت نادانستہ طور پر وہی تربیتی غلطیاں دہرا رہی ہے جو ہمیں اپنے والدین سے ورثے میں ملی تھیں یعنی تقابل، غیر ضروری تنقید، خوف اور سزا کا کلچر۔
والدین کی سب سے بڑی لغزش یہ بتائی گئی کہ وہ بچوں کو ایک آزاد، خودمختار اور انفرادی شخصیت کے طور پر تسلیم نہیں کرتے حالانکہ ہر بچہ اپنی فطری استعداد، جینیاتی وراثت اور ابتدائی ماحول کے امتزاج سے تشکیل پاتا ہے۔گفتگو میں یہ نکتہ بھی نمایاں تھا کہ ہم بچوں کی تعریف کم اور تنقید زیادہ کرتے ہیں۔ نتیجتاً ان کی خوداعتمادی مجروح ہوتی ہے اور وہ اپنی قدر و قیمت کے بارے میں شکوک کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اگر والدین بچوں کی حوصلہ افزائی، تعریف اور مثبت توجہ کو تربیت کا لازمی حصہ بنا لیں تو بچے زیادہ پُراعتماد، تخلیقی اور حوصلہ مند و لچکدار(Resilient) بن سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، بچے اپنے ماحول سے سب کچھ جذب کرتے ہیں۔ جب وہ والدین کو جھگڑتے، چیختے یا ملازمین سے بدسلوکی کرتے دیکھتے ہیں تو یہی رویے ان کے ذہن میں بطورِ نمونہ ثبت ہوجاتے ہیں۔ یہی بچے بڑے ہوکر انہی تلخ رویوں کو دہراتے ہیں۔اسی لیے ضروری ہے کہ والدین بچے کے نفسیاتی و جذباتی ترقیاتی مراحل (Developmental Stages) کو سمجھیں۔ اگر والدین جذباتی طور پر غیر متعلق رہیں یا ہمیشہ غصہ، ڈانٹ اور خوف کا ماحول رکھیں تو بچے عدم تحفظ اور بےچینی محسوس کرتے ہیں۔ پھر وہ محبت اور توجہ پانے کے لیے ایسے لوگوں کی طرف مائل ہوجاتے ہیں جو مصنوعی ہمدردی اور دوستی کے پردے میں ان کا استحصال کرسکتے ہیں۔
والدین کے لیے بہتر راستہ مسئلہ حل کرنے والا رویہ (Problem Solving Approach) اپنانا ہے۔ بچوں کی غلطیوں سے گھبرا کر سزا دینے کے بجائے انہیں سمجھنے اور درست سمت دکھانے کی ضرورت ہے۔ ضد، چڑچڑاپن، یا بیماری اکثر بچوں کی توجہ حاصل کرنے کی لاشعوری کوشش ہوتی ہے۔ بچے کی شخصیت، انا اور سوالات کا احترام کیا جائے۔ والدین کو بچے کے سوالات کو چیلنج نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ سیکھنے کا موقع تصور کرنا چاہیے۔ یہی غلطی ہمارے تعلیمی ادارے بھی کرتے ہیں جہاں سوال کرنے والے بچوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے حالانکہ سوال، علم کا پہلا دروازہ ہے۔
ایک اور نکتہ بیان کیا گیا کہ والدین کو ماں اور باپ کا کردار ،اچھا اور برا کے طور پر یا جینڈر کے فرق سے تقسیم نہیں کرنا چاہیے۔ دونوں کو مشترکہ طور پر تحفظ، وقت، توجہ اور محبت دینی چاہیے۔پروگرام میں طبقاتی پہلو پر بھی بات ہوئی۔ کہا گیا کہ غریب طبقے میں بچہ آمدنی کا ذریعہ جبکہ امیر طبقے میں اسٹیٹس سمبل بن گیا ہے۔ دونوں صورتوں میں بچہ اپنی انسانیت کھو دیتا ہے اور صرف “ضرورت” بن کر رہ جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بے حسی اور ظلم کی ابتدا ہوتی ہے جب محبت اور انسانیت کسی مقصد کے تابع ہوجائیں۔
شرکاء نے یاد دلایا کہ زندگی کے پہلے سات سال بچے کی شخصیت کی بنیاد رکھتے ہیں۔ ان برسوں میں اس کا دماغ ایک اسپنج کی طرح ہوتا ہے جو اچھا اور بُرا، دونوں جذب کرتا ہے۔ اس لیے والدین کے الفاظ، انداز اور تاثرات بچے کے ذہن میں عمر بھر کے لیے کندہ ہوجاتے ہیں۔ وہ یا تو اس کے لیے حوصلے کا زینہ بنتے ہیں یا زندگی بھر کی رکاوٹ۔والدین کو چاہیے کہ وہ صرف “نہیں” کہنے اور سزا دینے سے آگے بڑھیں۔ انہیں متبادل رویے سکھانے اور تعمیری تربیت کا طریقہ اپنانا ہوگا۔ والد کا کردار ڈر کا باعث نہیں بلکہ تحفظ کا ستون ہونا چاہیے۔
اسی طرح، بچوں کا آپس میں تقابل (Comparison) انتہائی نقصان دہ ہے۔ ہر بچہ اپنی انفرادیت اور صلاحیت رکھتا ہے۔ بہن بھائیوں کے درمیان رقابت (Sibling Rivalry) کو سمجھنا، عمر کے فرق کے اثرات کو پہچاننا اور صحت مند تعلقات کو فروغ دینا والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے۔بالغ ہونے کے مرحلے (Adolescence) میں بچوں کے اندر جذباتی، جسمانی اور سماجی تغیرات آتے ہیں۔ اس وقت والدین کو خوف کے بجائے اعتماد کے ساتھ ان کے قریب رہنے کی ضرورت ہے تاکہ بچہ اگر کوئی غلطی کرے تو سب سے پہلے اپنے والدین سے بات کرنے میں خود کو محفوظ سمجھے۔
اس گفتگو میں دادا، دادی، نانا اور نانی کے کردار کو بھی اہمیت دی گئی کہ یہ نسل در نسل تعلق کی وہ کڑی ہیں جو بچے کے جذباتی تحفظ اور اقدار کی منتقلی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ یہ تمام مسائل دراصل تعلیمی کمی، شعوری فقدان اور رہنمائی کی کمی کا نتیجہ ہیں۔ آج کے کچھ والدین اگر جدید اصولوں کے مطابق تربیت کرنے کی کوشش کر بھی رہے ہیں تو یہ زیادہ تر غیر شعوری تقلید ہے جو ترقی یافتہ معاشروں کو دیکھ کر اپنائی گئی ہے نہ کہ ایک سوچے سمجھے شعوری فیصلے کے طور پر۔
مذاکرے میں جدید تعلیمی نفسیات کے ساتھ ساتھ جینڈر اسٹڈیز اور سیکس ایجوکیشن جیسے حساس موضوعات پر بھی گفتگو کی گئی۔ اگرچہ گفتگو میں کئی اہم پہلو والدین کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں لیکن بعض نظریات ایسے ہیں جنہیں اسلامی تہذیب، اخلاقی اقدار اور معاشرتی توازن کے تناظر میں مزید سمجھنے کی ضرورت ہے۔
شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہمارے معاشرے میں بیٹے اور بیٹی کی پرورش میں امتیاز بچوں کے ذہنوں میں کم تری اور برتری کے احساسات پیدا کرتا ہے۔ بیٹے کو جائیداد کا وارث اور بیٹی کو بوجھ سمجھنے کا رویہ صدیوں پرانا ہے۔ حالانکہ فطرت دونوں کو انسان بناتی ہے مگر معاشرہ انہیں “مرد” اور “عورت” کے خانے میں محدود کر دیتا ہے۔
گفتگو میں یہ پہلو بھی سامنے آیا کہ ہمارے بچے درجہ بندی اور امتحانی دباؤ میں اپنی اصل پہچان کھو بیٹھتے ہیں۔ ہم نے انہیں صرف نمبروں، اسٹیٹس اور کامیابی کے پیمانوں میں قید کر دیا ہے۔ چودہ پندرہ سال کا بچہ جب اپنی کوئی اندرونی قدر محسوس نہیں کرتا تو وہ توجہ، شناخت اور تعلق کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔ یہی وہ خلا ہے جہاں فطری جبلّتیں، خاص طور پر جنسی کشش (Sexual Desire) شدت سے ابھرتی ہیں۔ مگر افسوس کہ والدین اس حقیقت سے آنکھ چُرا لیتے ہیں۔ ہم نے اُس کے اندر کوئی ایسا جذبہ، کوئی ایسا شوق پیدا نہیں کیا جس میں وہ دل سے لطف اٹھائے اور اپنی قدر محسوس کرے۔ بعض باپ تو نوعمر بیٹوں کو مار دیتے ہیں اگر وہ کوئی فطری تجربہ کر لیں جیسے self-pleasure وغیرہ۔ وہ اس عمر کے نفسیاتی تغیرات کو شرم یا گناہ کے تصور سے جوڑ دیتے ہیں، بجائے اس کے کہ انہیں حدود و آداب کے اندر رہتے ہوئے سمجھائیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچہ رہنمائی کے لیے والدین کے بجائے اپنے ناتجربہ کار دوستوں کی طرف مائل ہوتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں غلط رہنمائی اور اخلاقی بگاڑ جنم لیتا ہے۔
بچوں کو سکھانا چاہیے کہ اگر کوئی شخص انہیں غلط انداز میں چھوئے یا ان کے قریب آنے کی کوشش کرے تو وہ بلا خوف والدین کو آگاہ کریں۔ اسی طرح والدین کو چاہیے کہ وہ کھلے دل سے یہ سوال پوچھیں کہ کیا کسی نے تمہیں تنگ کیا؟ کیا کوئی تمہیں غلط طریقے سے چھوتا ہے؟یہ سوال بچوں میں اعتماد پیدا کرتا ہے اور انہیں تحفظ کا احساس دیتا ہے۔
ہم جب بچوں کو “سیکس ایجوکیشن” دینے کی بات کرتے ہیں یا انہیں اچھے اور برے لمس (Good Touch – Bad Touch) کے بارے میں سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں تو اکثر والدین اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ ہم بچوں کی معصومیت ختم کر رہے ہیں یا ابھی وہ عمر نہیں آئی کہ انہیں ایسی باتیں بتائی جائیں۔ یہی وہ کنفیوژن ہے جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں بڑے بڑے سانحات جنم لیتے ہیں۔
افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جنسی و ذہنی استحصال کے بیشتر واقعات گھر کے اندر ہی ہوتے ہیں، قریبی رشتہ داروں یا جاننے والوں کے ہاتھوں۔ والدین کو اپنی معصومیت پر بھروسا کرنے کے بجائے حفاظتی شعور پیدا کرنا چاہیے۔ چھوٹے بچوں کو اکیلا باہر بھیج دینا یا کسی کے ساتھ تنہا چھوڑ دینا، صرف غفلت نہیں بلکہ لاشعوری ظلم ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ صرف بچیاں نہیں بلکہ بہت سے لڑکے بھی بچپن میں اس ظلم کا شکار ہوتے ہیں۔ ہمیں انہیں بھی سمجھانا چاہیے کہ ان کے ساتھ جو ہوا وہ ان کی غلطی نہیں۔ بچوں کو اعتماد دینا اور ان کے ساتھ ایسا تعلق قائم کرنا کہ وہ سچ بول سکیں، سب سے بنیادی قدم ہے۔ اگر بچہ والدین سے ڈرتا ہے تو وہ کبھی بھی اپنے دل کی بات نہیں کرے گا۔ زیادہ تر بچے اپنے ہی گھر کے اندر، یا قریبی رشتہ داروں کے ہاتھوں ظلم کا شکار ہوتے ہیں۔ ہم اکثر انہی لوگوں کے سپرد اپنے بچے کرتے ہیں جن سے سب سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ جب تک بچہ بڑا نہ ہو جائے اور خود سمجھدار نہ بن جائے، اسے کسی کے ساتھ اکیلا نہ چھوڑا جائے۔
بچوں کی پرورش میں محبت، تربیت اور نگرانی تینوں یکساں اہم ہیں۔ ہمیں والدین کی تربیت پر بھی اتنی ہی توجہ دینے کی ضرورت ہے جتنی ہم بچوں کی پرورش پر دیتے ہیں۔ نکاح کے وقت جیسے حقوق و فرائض بتائے جاتے ہیں ویسے ہی والدین کے تربیتی و حفاظتی فرائض بھی بتائے جانے چاہییں۔ مذہبی و تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ بچوں کے تحفظ، بلوغت کی تعلیم اور والدین کے طرزِ تربیت پر سنجیدہ مکالمہ شروع کریں۔
گفتگو میں “رد کیے جانے کے خوف” (Fear of Rejection) کا موضوع بھی شامل تھا۔ہم بطورِ معاشرہ انکار کو توہین سمجھتے ہیں حالانکہ انکار زندگی کا فطری حصہ ہے۔بچوں کو سکھانا چاہیے کہ قبول یا رد ہونا ان کی قدر و وقار کا معیار نہیں۔اصل عزت خود کو قبول کرنے، اپنی ذات پر یقین رکھنے اور اپنی حدود پہ قائم رہنے میں ہے۔
اسی طرح لڑکوں کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی لڑکی کا “نہ” کہنا انکارِ تعلق ہے، توہین نہیں۔ احترام، صبر اور وقار کا سبق صرف لڑکیوں کو نہیں بلکہ لڑکوں کو بھی تربیت کے طور پر دیا جانا چاہیے۔یہ تربیت صرف گھروں میں نہیں بلکہ تعلیمی نصاب، میڈیا اور مذہبی تربیت کا حصہ بننی چاہیے۔ کیونکہ اخلاقی بگاڑ محض فرد کا نہیں، پورے تہذیبی نظام کا مسئلہ بن چکا ہے۔
آخر میں یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ دنیا میں کوئی کامل والدین نہیں ہوتے۔ مگر بہتر والدین وہ ہیں جو سیکھنے، سمجھنے اور بدلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔جب والدین مکالمے، محبت اور فہم کے ساتھ اپنے بچوں سے جڑتے ہیں، تو نہ صرف بچے محفوظ رہتے ہیں بلکہ وہ ایک متوازن، باشعور اور ذمہ دار انسان بن کر پروان چڑھتے ہیں۔ (جاری ہے)
اس مذاکرے میں پیش کئے گئے نکات پر گفتگو اگلی اقساط میں ملاحظہ فرمائیں۔شکریہ
دوسری قسط: والدین اور اولاد کی تربیت کا بحران : مغربی نظریات ، اقداراور ماڈلز کا تنقیدی جائزہ
تیسری قسط: حیا ، علم اور فطرت : سیکس ایجوکیشن کا تہذیبی و تنقیدی جائزہ
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں