حقیقت ہمیشہ دو پہلوؤں سےجلوہ گر ہوتی ہے۔ ایک مادی وجود ہے اس کا ، جسے ہاتھوں سے چھوا جا سکتا ہے۔ اور دوسرا پہلو ماورائی ہے، جو حواسِ خمسہ کی حدود سے باہر ہے۔ یہ دونوں پہلو/جہتیں بیک وقت موجود ہیں، ایک دوسرے میں پیوست ہیں اور ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ دوئی (Dualism) ہماری کائنات کا ناقابل تردید امر ہے ۔
بات کو سمجھنے کیلئے خود کو آئینے کے سامنے تصور کیجیے۔ آپ بذاتِ خود ایک حقیقی اور مادی شے ہیں۔ لیکن آپ کا عکس، جس کی کوئی جسمانی ماہیت نہیں، غیر مادی اور ماورائی ہے ، لیکن یہ عکس اپنی اصل میں اتنا ہی حقیقی ہے جتنا آپ کا وجود۔
پوری کائنات کو ایک عظیم آئینے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے: ایک طرف مادی کائنات ہے اور دوسری طرف ماورائی ۔ افلاطونی نکتۂ نظر میں صرف اس فرق کے ساتھ کہ عام آئینے کے برعکس یہاں صورت حال یکسر متضاد ہے، مادی جہان گویا عکس ہے، اصل وجود اس آئیڈیا/ماورائی کائنات کا ہے جو حواسِ خمسہ کی پہنچ سے باہر ہے ، اور کائنات کے اسی غیر مادی/ماورائی پہلو میں ممکنات کا ایک بیکراں جہاں موجود ہے جس کا فقط کچھ حصہ ہی مادی شکل میں ظہور پزیر ہو پاتا ہے۔
مادی کائنات چونکہ حسی طور پر قابلِ لمس ہے ، اور براہِ راست عمل کا فوری ردعمل دیتی ہے تو اس سے یہ دھوکا پیدا ہوتا ہے کہ نتائج پانے کا یہی واحد طریقہ ہے۔ لیکن یہاں وسائل چونکہ محدود ہیں تو انسان کو صرف وہی میسر ہے جو موجود ہے۔ ہر چیز وسائل پر منحصر ہے، جو اکثر ناکافی ہوتے ہیں، نتیجے میں انسانوں کی بھاری اکثریت خوابوں کی تکمیل سے محروم رہتی ہے ، ویسے بھی بہت سے لوگ ایک ہی چیز کے طلب گار ہوتے ہیں تو معاملہ گھمبیر تر ہوتا جاتا ہے ۔ آئینے کی دوسری طرف
مگر فراوانی ہے اور کوئی مقابلے کی فضا نہیں تو خوابوں کی تعبیر آسان ہے، بس چند ایسی شرائط کہ جن کا پورا کرنا اتنا مشکل نہیں ، مگر کامل یقین شرط لازم ہے۔
خیال کی توانائی کبھی بے اثر نہیں جاتی، یہ اُس خواہش کو مجسم بنا کر پیش کر سکتی ہے جس کو پانے کیلئے آپ اپنے دن رات بیتابی میں گزار رہے ہوں ، یہ فقط ہماری آنکھ کا دھوکہ ہے کہ اس جہان کی ہر سرگرمی مادی اجسام کی باہمی کشمکش کا نتیجہ ہے۔ حقیقت میں خیال کی توانائی کا کردار کہیں زیادہ ہے ، ان لطیف توانائیوں کے اسباب و علل ہمیشہ ظاہر نہیں ہوتے، لیکن کل حقیقت کا بڑا حصہ انہی کا مرہونِ منت ہے ، بدقسمتی سے خیال کی اس توانائی کو مقصد کے تحت استعمال کرنے کے فن سے ہر شخص واقف نہیں ۔
کسی فرد کے طرزِ حیات کو متعین کرنے میں بلاشبہ اس کے ماحول اور جینیات کا اثر ہوتا ہے، ان کی اپنی حدود ہوتی ہیں جن سے باہر نکلنا فرد کیلئے بڑا مشکل ہوتا ہے، لیکن اس سے آگے پھر اس کے تخیل کی طاقت، خواہش کی شدت اور اس کی عملی کوششیں ہی سب کچھ طے کرتی ہیں، مگر اہم اور طاقتور ترین عنصر خیال کی طاقت ہے۔
زندگی ایک ایسا کھیل ہے جس میں یہ کائنات اپنے باسیوں کے سامنے ہمیشہ ایک ہی سوال رکھتی ہے:
“بتاؤ، میں تمہاری نظر میں کیسی ہوں؟”
اور ہر شخص اپنی بصیرت کے مطابق جواب دیتا ہے:
“تم اچھی ہو ، تم مہربان ہو ، تم ظالم ہو ، تم اُداس ہو، تم خوش ہو ، تم دوست ہو، تم دشمن ہو وغیرہ وغیرہ
اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس امتحان میں ہر کوئی جیتتا ہے! کائنات آپ کے ہر جواب سے متفق ہو جاتی ہے اور ہر ایک کے سامنے اسی روپ میں ظاہر ہوتی ہے جسے فرد نے تصور کیا ہے۔ اور اگر کھی کوئی شخص زندگی کی حقیقتوں کا سامنا کرتے ہوئے کائنات کے بارے میں اپنا رویہ بدل لے، تو کائنات بھی اسی رو میں اپنا رویہ بدل لیتی ہے، سنتری سے منتری اور منتری سے سنتری بنتے زیادہ دیر نہیں لگتی، نحوستوں سے نکل کر سعادتوں یا پھر کامرانیوں سے ناکامیوں تک پہنچنے میں کائنات کے ساتھ آپ کا رویہ کلیدی کردار ادا کرتا ہے ۔ یعنی آئینے کے سامنے جو وجود آپ پیش کریں گے، آئینہ اسی کا عکس آپ کے سامنے لا کھڑا کرے گا ۔
یہاں قاری کے ذہن میں ایک سوال ابھر سکتا ہے کہ ایسا کیوں ہے کہ خوف، خدشات اور وسوسوں کی تعبیر فوراً ظاہر ہو جاتی ہے، بدترین توقعات شہاب ثاقب کی رفتار سے زندگی میں آن ٹپکتی ہیں مگر امیدیں اور خواب اتنی آسانی سے آئینے کی اس طرف ظاہر نہیں ہوتے، امیدوں اور خوابوں کو مجسم روپ دھارنے میں کیا رکاوٹ ہے ؟
اس کا جواب سادہ اور آسان ہے، وہ یہ کہ کسی بھی خواہش یا خواب کا مجسم روپ اسی صورت ظاہر ہوگا جب دل اور عقل میں یکسوئی ہو، دونوں ایک ہی پیج پر ہوں ، کہیں کوئی مخمصہ نہ ہو، آئینے پر متوقع عکس اس لئے ظاہر نہیں ہو پاتا کہ خوابوں کو بنتے وقت لوگوں کی بھاری اکثریت کے دل اور عقل کے مابین کوئی تضاد چل رہا ہوتا ہے، ان دو کی یکجائی ہی مقصد میں کامیابی کی ضمانت ہے ۔ عقل آپ کے دل کی پکار پر مخالفت نہ کرے اور دل عقل کے دلائل کو رد نہ کرے تو ایک ناقابلِ فہم قوت سامنے آتی ہے جو خیال کو مادی شکل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ لیکن عموماً ایسا ہوتا نہیں، دل تو چاہتا ہے مگر عقل شک میں ڈال دیتی ہے، یا پھر عقل دلائل دیتی ہے مگر دل بےحس رہتا ہے، یکجائی ٹوٹتی ہے، عکس دھندلا جاتا ہے، گویا دو حصوں میں بٹ جاتا ہے ( محبت کے معاملے میں یہ چیز اکثر دیکھنے کو ملتی ہے، یکطرفہ محبت کی وجہ بھی دل اور عقل کی دوئی ہے)،
خدشات اور بدترین توقعات میں البتہ دل اور عقل یکجا ہوتے ہیں تو فرد تمام عمر بدقسمتی کا لیبل سجائے انہی سے ٹکراتا رہتا ہے ۔
اس سے آگے پھر ایک اور سوال ذہن میں ابھر سکتا ہے، وہ یہ کہ خیال بھی طاقتور ہے، دل اور عقل میں یکسوئی بھی ہے ، اس کے باوجود بھی نتائج حاصل کرنے میں اتنا وقت کیوں لگتا ہے ؟ اور بعض اوقات تو نتیجہ حاصل ہی نہیں ہوتا ، کچھ ناہنجار تو تمام عمر انتظار کرتے تھک جاتے ہیں،
اس کا جواب بھی سادہ ہے اگرچہ ہر ایک کی سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ اس سے پہلے کہ انسان کو کچھ خاص عطا کیا جائے ، اس کیلئے ضروری ہے کہ اسے صبر کی کسوٹی پہ آزمایا جائے کہ اس قابل ہے بھی کہ وہ شہرت، دولت یا محبت جیسی نعمتوں کو سنبھالنے کی اہلیت رکھتا ہے یا پھر سرائیکی محاورے کے مطابق ، کتوں کے سامنے دیسی گھی کے پراٹھے ڈال دیئے جائیں جو قطعاً اس کے اہل نہیں ۔ بے صبروں اور بے قدروں کو قدرت کبھی قیمتی تحائف سے نہیں نوازتی، نواز بھی دے تو یہ ان کیلئے وقتی آزمائش ہوتی ہے جس میں وہ ناکام و نامراد ٹھہرتے ہیں۔
اگر آئینے پر عکس کے ابھرنے میں تاخیر ہو رہی ہے تو ضروری ہے کہ ہورے صبر کے ساتھ اپنے خیال اور خواہش کے تقدس کو آئینے کے سامنے برقرار رکھا جائے، قیمتی قلعے کو فتح کرنے کیلئے محاصرہ طویل بھی ہو سکتا ہے، عام انسان طویل محاصرے کا اہل نہیں ہوتا کیونکہ دیگر اطراف سے جڑیں کھوکھلی ہونے کا اندیشہ اسے ستاتا رہتا ہے ، لیکن اگر تمہارے اندر واقعی میں خواہش موجود ہے ، تمہارا تخیل غیر معمولی ہے، دل اور عقل یکجا ہیں تو صبر کے ساتھ فوکس کئے رکھو، عملی جدوجہد جو تمہارے بس میں ہے وہ جاری رکھو تو جلد یا بدیر تمہاری منزل تمہیں ملنے والی ہے ۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں