• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سر بازار می رقصم’ ایک سینئر بیوروکریٹ کی زندگی اورایوان اقتدار کی کہانی/قمر رحیم

سر بازار می رقصم’ ایک سینئر بیوروکریٹ کی زندگی اورایوان اقتدار کی کہانی/قمر رحیم

خان اشرف صاحب کی سوانح پر کام کےدوران 2011ء میں ان کی رحلت نے جب بے دست و پا کر دیا تو میں ان کے احباب کی طرف متوجہ ہوا۔ اس ضمن میں مجھے سابق ایڈوکیٹ جنرل اورچئیر مین احتساب بیورو جناب سردار رفیق محمود صاحب، جناب سردار لطیف صاحب (چہڑھ راولاکوٹ) اور صاحبِ کتاب، ریٹارڈ سیکریٹری جناب سردارصدیق خان صاحب کا بھرپور تعاون حاصل رہا۔ ان کے ساتھ ملاقاتوں اور انٹرویوز کے دوران مجھے احساس ہوا کہ ان اصحاب کو اپنی سوانح تحریر کرنی چاہیے۔ رفیق محمود صاحب نے ایک شعر سنا کر ٹرخا دیا ( بعد ازاں انہوں نے اپنی سوانح تحریر کی)۔جبکہ صدیق صاحب نے کہا”عزیزی قمر بہت کچھ ایسا ہے جو لکھا نہیں جا سکتا۔ اس لیے مکمل سچ لکھنے سے نہ لکھنا ہی بہتر ہے”۔میں نے جواباً عرض کیا کہ آپ جتنا لکھ سکتے ہیں وہ تولکھیں کہ یہ ہماری آپ کے پاس امانت ہے جسے آپ کو لوٹا دینا چاہیے۔انہوں نے 13سال بعد “سر بازار می رقصم” کی صورت اپنی خاموشی کوبالآخر توڑدیا۔جتنی خوشی مجھے اس کی ہوئی، کم لوگوں کو ہوئی ہو گی۔

کتاب بہت دلچسپ ہے، قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ اس کے مطالعہ سے میری معلومات میں اضافہ بھی ہوا ہے، میں محظوظ بھی ہوا، متاثر بھی، خوش بھی ہوا اور رنجیدہ بھی۔بچپن اور لڑکپن کو اتنا حصہ نہیں ملا جس میں اس دور کے کلچر کی پور ی تصویر بن سکے۔ البتہ طالب علمی کے دور سے کتاب کے آخر تک جاننے، سیکھنے اور سمجھنے کے لیے بہت کچھ ہے۔نثر میں کہانی، افسانہ، ناول، سفر نامہ، خاکہ اور ڈرامہ وغیرہ وہ اصناف ہیں جن کا معیار، اہمیت اور مقام لکھنے والے کی صلاحیتوں، شوق، ریاضت اور رغبت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ‘سوانح’ وہ صنف ہے جس میں آپ اپنی مرضی کا رنگ نہیں بھر سکتے۔ یہ ایک زندگی ہے، جیسے گزری ویسے ہی بیان کی جاتی ہے۔ یہی اس کا اصول بھی ہے اورا س کی سب سے بڑی خوبی بھی۔ لیکن ہمیں یہ ذہن میں رکھنا ہو گا کہ ہمارے ہاتھ میں ‘سر بازار می رقصم’ ہے ‘یادوں کی بارات’ نہیں۔

سردار رفیق محمود صاحب نےاس مسئلے سے نبٹتے ہوئے اپنی خود نوشت سوانح کو “لکھوں ، نہ لکھوں” کا عنوان دیا۔ انہوں نے کتنا لکھا کتنا چھوڑ دیا، یہ وہی جانتے ہیں۔مصنف مو صوف کے 13سال بھی شاید اسی تذبذب میں گزر گئے کہ لکھوں ، نہ لکھوں۔ “سر بازار می رقصم” کی جو وجہ تسمیہ مصنف نے بیان کی اس سے انکار ممکن نہیں۔ مگر بادی النظر میں یہ عنوان بھی ہفت پہلو ہے۔ دراصل پوری کائنات محو رقص ہے۔ لہٰذا اس کائنات میں بسی مخلوق سے کیا شکوہ یا اس کی کیا تعریف کہ اس کا رقص ‘کلاک وائز ہے یا انٹی کلاک وائز۔ اسی لیے کہا گیا کہ سب تعریفیں ایک ہی ذات کے لیے ہیں۔لیکن صاحبان اختیار کے کردار (رول) کوتاریخ نے ہر دور میں سراہا بھی ہے، اس پر انگلی بھی اٹھائی ہے۔اس اعتبار سے میرے نزدیک کتاب کے ساتھ صاحبِ کتاب پر بحیثیت ایک صاحبِ اختیار تبصرہ بھی بنتا ہے، تذکرہ بھی تنقید بھی اور تعریف و تو صیف بھی۔

‘سر بازار می رقصم’ ایک ہیرو کی زندگی ہے۔جس کاتعلق ایک متوسط گھرانے سے ہے۔ ابتدائی تعلیم راولاکوٹ سے حاصل کی اورکراچی یونیورسٹی سے ایم اے اکنامکس کی ڈگری کے ساتھ فارغ التحصیل ہوئے۔ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے بانیوں میں سے ہیں۔ ممتاز راٹھور، چوہدری مجید، صابر انصاری، امان اللہ خان سے قریبی تعلق رہا۔یہ تعلق دوران سروس ان کے کام بھی آیا اور ان کی ترقی میں رکاوٹ بھی بنتا رہا۔این ایس ایف سے تعلق کی وجہ سے وہ ایک ترقی پسند، روشن خیال اور قوم پرست نوجوان کے طور پر اپنے طالب علمی کے زمانے میں ہمہ وقت متحرک اور موثر کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ ایک ساتھی طالب علم کی طرف سے اسلامی جمعیت طلبہ میں شمولیت کی دعوت پر انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ معذرت کی ” آپ ایک آزاد ملک کے شہری ہیں۔ آپ نظریاتی سیاست میں حصہ لے سکتے ہیں۔ لیکن میرا تعلق کشمیر سے ہے۔ ہم نے ہندوستان سے آزادی لینی ہے۔ میری یہ کوشش رہے گی کہ قومیت کے فلسفہ اور پلیٹ فارمز سے ہی کشمیری عوام کے درمیان ہم آہنگی اور اتفاق رائے رہےتاکہ مختلف نظریات کے پیروکار ہونے کی بجائے قومیت کے تصور کو لے کر آزادی کے لیے جدو جہد کی جائے”۔

مصنف نے 10 اکتوبر 1972ء کو معدنی و ترقیاتی کارپوریشن سے آزاد کشمیر میں ملازمت کا آغاز کیا اور یکم جولائی 2004 ء کو بحثیت سیکریٹری لوکل گورنمنٹ اپنی خدمات سے سبکدوش ہوئے۔کئی اور لوگ اس طرح کے اعلیٰ مناصب سے ریٹائر ہوئے ہیں، لیکن جس طرح انہوں نے سروس کی، کم لوگوں نے کی ہوگی۔ تاریخ سے آگاہی، حال کے نباض، مستقبل کی آنکھ اور دلائل کے مخزن، سردار صدیق کے پائے کے لوگ مشکل سے ملیں گے۔ وہ مشکل صورت حالات میں حکمت اور تدبر سے کام لیتے ہیں۔ ڈیویلپمنٹ کے شعبہ میں اعلیٰ تربیت، وسیع تجربہ ،کامیاب ریکارڈ اور عالمی ڈونرزاور دیگر اداروں کے ساتھ بہترین ورکنگ ریلیشن شپ کےباعث ملازمت سے فراغت کے بعد بھی طویل عرصہ تک حکومت آزاد کشمیر اور عالمی مالیاتی اور اداروں کو ان کی خدمات درکار رہیں۔آج بھی ہماری سول سروس میں ایسے لوگ ہوں گے جواعلیٰ صلاحیتوں، تعمیری سوچ و جذبوں اور اپنی اقدار، روایات کےامین ہوں گے۔دلیر اور جرات مند ہوں گے، جوڑ توڑ کے ماہر اور بااثر بھی ہوں گے۔ لیکن ایسے لوگ شاید ہی مل سکیں جو متذکرہ صلاحیتوں کے ساتھ ان صفات کے حامل بھی ہوں جو ہم پرانے دور کے بااثر بزرگوں کے بارے میں سنتے تھے، قصے کہانیوں میں پڑھتے تھے یا پھرجو تاریخ میں ہمیں ملتے ہیں۔ جن میں سب سے بڑی صفت وہ Indigenous wisdom تھی جو اعلیٰ تعلیم کی محتاج بھی نہ تھی، آج مفقود ہو چکی ہے۔ سردار صدیق اس نسل کا آخری ایڈیشن ہیں۔ میراماننا ہے کہ سردار صدیق سیاست میں ہوتے اور ان کا حلقہ انتخاب کوئی اور ہوتا تو آزاد کشمیر کو ان کی صورت میں ایک بہترین لیڈر دستیاب ہوتا۔

مصنف کی آزاد حکومت میں پہلی تعیناتی بطور بانی ناظم بلدیہ راولاکوٹ ہوئی اور وہ بحیثیت سیکریٹری لوکل گورنمنٹ ریٹائر ہوئے۔نا مساعد حالات میں بلدیہ کے ادارے کو کھڑا کرنا اور مقامی ٹیکسوں سے اسے خود کفیل بنانا خاصا مشکل کام تھا۔ لیکن انہوں نے کمال بہادری اور حکمت سے یہ کام انجام دیا۔ آج کی میونسپل کارپوریشن راولاکوٹ کی بنیادوں میں سردار صدیق خان کی شبانہ روز محنت کے ساتھ ان کا غم ، فکر اور عزم بھی شامل ہے۔ ٹیکس کی وصولی کے معاملے میں انہوں نے کسی کو رعایت نہیں دی۔ اس وجہ سے جنرل حیات صاحب کو غلط بریف کیا گیا اور وہ کافی عرصہ تک جنرل صاحب کی ناپسندہدہ شخصیات کی فہرست میں رہے۔آج راولاکوٹ میں بیسیوں نجی تعلیمی ادارے ہیں۔ مصنف کی اہلیہ محترمہ نے 1976ء میں نجی سکول کی بنیاد رکھی۔ صدیق صاحب کا جب تبادلہ ہو گیا تو انہوں نے یہ سکول کمیونٹی کے حوالے کیا جو آج دبستان بہادرعلی خان کے نام سے منسوب ہے۔

مصنف اپنی سروس کے دوران اہم عہدوں پر فائز رہے۔ انہوں نے تعلیم، خوراک، اوقاف، تعمیرات اور دیگر شعبوں میں بحیثیت سیکریٹری خدمات انجام دیں۔لیکن وہ ایک طویل عرصے تک محکمہ لوکل گورنمنٹ سے وابستہ رہے۔ انہوں نےبیرون ملک کئی ایک ٹریننگز حاصل کیں جس کا انہیں اور یہاں کے لوگوں کو خاطر خواہ فائدہ ہوا۔ اس کے ساتھ وہ اعلیٰ انتظامی اور قائدانہ صلاحیتوں کے حامل، ایک جرات مند ، درست وقت پر درست فیصلے کرنے اور ان پر عمل درآمد کروانے والے آفیسر تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ جس کام میں ہاتھ ڈالتے اسے بڑے سلیقے سے پایہ تکمیل تک پہنچاتے۔ لوکل گورنمنٹ اور ڈیویلپمنٹ کے سیکٹر کی پراگریس حکومتی کارکردگی پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ اسی لیے ہر حکومت کی کوشش ہوتی کہ سردار صدیق لوکل گورنمنٹ میں اپنی خدمات انجام دیں۔ حکومتوں کو جب بھی کسی محکمے میں کچھ چیلنجز درپیش ہوتے وہ سردار صدیق صاحب کو اس محکمے میں ٹرانسفر کر دیتے۔ ورلڈ بنک اور دیگر مالیاتی ادارے ان کی کارکردگی سے بہت متاثر تھے۔ چونکہ یہ ادارے لوکل گورنمنٹ کے اکثر منصوبوں کی فنڈنگ کرتے تھے اس لیے ان کی خواہش ہوتی تھی کہ سردار صدیق لوکل گورنمنٹ میں ہی رہیں۔ یوں انہیں ورلڈ بنک اور یو این ڈی پی کے ساتھ مل کر کام کرنے کا وسیع تجربہ حاصل ہوا۔ ان کی پرفارمنس کی بنا پر ان اداروں نے انہیں بارہا ملازمت کی پیشکش کی۔ انہوں نے چار سال تک ورلڈ بنک کی ملازمت بھی کی لیکن انہوں نے اپنے ملک کے لیے کام کرنے کو ترجیح دی۔اور ورلڈ بنک کی پر کشش سروس چھوڑ کر دوبارہ آزاد حکومت کو جائن کیا۔یہ کام کوئی مشنری شخص ہی کر سکتا ہے۔ کم ہی لوگ ہوں گے جنہوں نے صبح آٹھ بجے سے رات گیارہ بجے تک کام کیا ہو۔ سردار صدیق نے خدمت کے جذبے سے دلیری اور حکمت کے ساتھ سروس کی۔ آزاد کشمیر کی لوکل گورنمنٹ اوررورل ڈیویلپمنٹ میں ان کا قابل ذکر حصہ ہے۔ یوں اگر انہیں آزادکشمیر کا بابائے لوکل گورنمنٹ اور رورل ڈیولپمنٹ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔

سردار صدیق اقتدار کی راہ داریوں میں بھی متحرک رہے۔ وہ اپنی پیشہ ورانہ خدمات کے ساتھ سیاسی جور توڑ میں بھی مصروف نظر آتے ہیں۔ مسلم کانفرنس اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو ان کی مشاورت حاصل رہی۔ سرداریعقوب صاحب کو وزارت عظمیٰ تک پہنچانے میں ان کا ہم کردار ہے۔ مجھے چند ایک انٹرنیشنل کنسلٹنگ فرمز کے کام، ان کی منصوبہ بندی اور حمکت عملی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ ہر ایک کنسلٹنٹ ایک مخصوص فیلڈ کا ماہر ہے اور اس کی پوری زندگی اسی فیلڈ میں کام کرتے گزر جاتی ہے۔ سردار صدیق واحد کنسلٹنٹ ہیں جنہوں نے اپنے کمفرٹ زون سے ہٹ کر بھی سیاست سمیت دیگر میدانوں میں بہترین کنسلٹنسی فراہم کی ہے۔ وہ ایک بہترین مذاکرات کار ہیں۔ اپنی بات کو منوانے کے لیے ایسے ایسے دلائل پیش کرتے ہیں کہ مد مقابل کے پاس تسلیم ورضا کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ کامیاب ٹیم لیڈر ہیں، دوسروں سے کام لینا جانتے ہیں۔ فراخ دل ہیں، اپنے دشمنوں کو بھی نقصان پہنچانے کے روادار نہیں ہیں۔دیانت دار انسان ہیں، باصبراور مستقل مزاج ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹھنڈے مزاج کے مالک ہیں مگر غلط بات پر فی الفور خوفناک رد عمل دینے سے کتراتے ہیں نہ نتائج کی پرواہ کرتے ہیں۔

اتنی خوبیوں کی موجودگی میں خامیوں کی کیا مجال کہ وہ سر اٹھا سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایک کامیاب اور قابل تعریف پیشہ ورانہ زندگی گزاری۔ کامیاب لوگوں کی زندگیاں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ کئی ایک سوانح کے مطالعہ کے بعد مجھے کسی ناکام آدمی کی سوانح کی تلاش ہے۔ تاکہ انسان کی غلطیوں سے بھی سیکھا جاسکے۔ مگر ایسی کوئی سوانح میری نظر میں نہیں ہے۔ آج مجھے یہ خیال آیا ،کہیں وہ ناکام آدمی میں خود ہی تو نہیں ہوں؟ ‘سر بازار می رقصم’ نے میرے احساسِ زیاں کو بڑھا دیا ہے۔ آزادکشمیر کی سول سروس کبھی میری منزل مقصود نہیں رہی۔ مگر یہ دو خواہشیں اب تک دامن گیر ہیں کہ اپنے لوگوں کے کام آسکوں اور اپنے وطن کو جی بھر کر دیکھ سکوں۔ کوئی ایک بھی پوری نہیں ہوئی۔ سردار صدیق وہ خوش نصیب انسان ہیں جنہوں نےپورا ملک نہ سہی آزاد کشمیر کے 1300 دیہات نہ صرف دیکھے، بلکہ ان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کیا۔ بڑی عافیت کے ساتھ کہ پہاڑ کی کسی چوٹی پر، جنگل کے کسی گوشے میں، وادی کے کسی کونے میں یا بہتی ہوئی کسی ندی کے کنارے پر بنے ریسٹ ہاؤس کے ٹیرس پر، ڈوبتے سورج کی لالی میں، تعمیری کردار ادا کرنے کے اپنے خوابوں کی تصویر میں اپنی مرضی کے رنگ بھرے ہوں گے۔ راتوں کو جاگ کر پراجیکٹس پر کام کیا ہوگا اور اپنی محنت کا ثمر بھی دیکھا ہوگا۔ یہ ایک قابل رشک زندگی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ساتھ کئی ایک ملاقاتوں کے باوجود اتنے خوش نصیب انسان کو پھر سے دیکھنے کی خواہش پیدا ہو گئی ہے۔

لیکن کوئی نہ کوئی کمی زندگی میں ایسی رہ جاتی ہے جو اس کی خوشیوں میں حزن و ملال کی تلخی شامل کر دیتی ہے۔ ایسے ہی ان کی کتاب میں بھی ایک کمی نظر آرہی ہے۔ گو کہ چوہدری مجید صاحب کی بے اختیاری پر وہ بول اٹھے کہ “محترمہ فریال تالپور نے آزادکشمیر حکومت کے وائسرائے کے اختیارات حآصل کر لیے۔۔۔۔آزاد حکومت اور ریاست کا تشخص بری طرح متاثر ہوا۔ آزاد کشمیر کی حکومتی قیادت بے بس نظر آتی تھی۔۔۔۔۔شاید آزد کشمیر ریاست کے وقار اور اتھارٹی کو بحال کرنے کے لیے ایک نئی جدو جہد کا آغاز ناگزیر دکھائی دیتا ہے” (ص 452)۔ اسی طرح مہاجرین کی نشستوں کے بارے میں ان کا کہنا یہ ہے کہ ” سردار عتیق خان صاحب کے خلاف عدم اعتماد کے مرحلہ پر مجھے اس کا ادراک ہوا کہ جو ممبران اسمبلی مہاجرین کی نشست ہا سے کامیاب ہو کر آتے ہیں ، ان کی آزاد کشمیر کے سیاسی استحکام سماجی اور معاشی ترقی میں کوئی دلچسپی نہیں” (ص 446)۔ اس مختصر بیانیے یا موقف کی تفصیل کو سوانح میں بیان کرنا شاید مناسب نہیں سمجھا گیا۔ آزاد کشمیر کے بیروکریٹک سیٹ اپ کا یہاں کی پسماندگی میں کتنا حصہ ہے؟ ایک نو آبادیاتی سماج میں لوگوں کی محرومیاں کتنی شدید ہیں؟ سیاست میں کتنی کرپشن ہے، مراعات کا ریاست پر کتنا بوجھ ہے؟ اس کے علاوہ آزاد کشمیرمیں گورننس کے دیگرکیا ایشوز اور چیلنجز ہیں۔ وغیرہ جیسے موضوعات پر ان کے مشاہدات، تجزیہ اور رائے اہمیت کی حامل ہوتی۔ کتاب میں یہ کمی کانٹے کی طرح چھبتی ہے۔ سو اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو کسی حد تک یہ تاثر ابھرتا ہے کہ مصنف بیروکریسی اور نو آبادیاتی سیٹ اپ کے رول اور نقائص کو عمداً یا سہواً نظر انداز کر گئے ہیں۔ حالانکہ اپنی خواتین کے سروں سے گھڑوں کا بوجھ ہم نے اپنی آنکھوں سے اترتے دیکھا ہے۔ اس عظیم خدمت میں ان کا اپنا رول بہت شاندار رہا جسے تفصیلاً بیان کیا گیا۔ وہاں متذکرہ موضوعات کے حوالے سے مواد بھی اس کتاب کا حصہ بن سکتا تھا۔ شاید ان کے نزدیک یہ سب کچھ ایک مکمل کتاب کا متقاضی ہے۔

‘سر بازار می رقصم’ ایک بہترین کتاب ہے۔ جس میں مصنف نے اپنی آپ بیتی کے ساتھ جو دیکھا اسے خوبصورت پیرائے میں بیان کیا ہے۔ آزاد کشمیر کی سیاست اور مختلف حکومتوں کے بارے میں گراں قدر معلومات مہیا کی گئی ہیں۔ مستقبل میں تاریخ پر کام کرنے والوں کے لیے یہ کتاب ایک مستند Primary resourceکی حیثیت رکھتی ہے۔ کتاب کا کور پیج بہت خوبصورت ہے۔ اگر کسی ایڈیٹر سے کتاب کی ایڈیٹنگ کروالی جاتی، جیسے اس کی پروف ریڈنگ ہوئی ہے، تو یہ کتاب In Retrospect, The Story of a Bureaucrat کی جیسی ترتیب اور توازن میں آ جاتی۔ لیکن یہ کوئی ایسی کمی نہیں ہے جو کتاب کی اہمیت پر اثرانداز ہو۔ نوجوان سیاسی کارکنوں اور با لخصوص آزادی پسند طبقہ اور طلبہ کو اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ مادیت پرستی کےعفریت میں پروان چڑھنے والے اپنے بچوں کو یہ کتاب پڑھانی چاہیے۔ تاکہ انہیں معلوم ہو کہ دیہاتی پس منظر رکھنے والا ایک لڑکا کیسے سٹوڈنٹ لیڈر بنتا ہے۔کتنے صبر او ر ہمت سے ملازمت کے حصول کے لیے جدوجہد کرتا ہے اور پھر کیوں کر ایک کامیاب اور باعزت پیشہ ورانہ زندگی گزار اپنی خدمات سے سبکدوش ہوتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اس کے پاس بنک بیلینس ہیں، کوٹھیاں بنگلے کاریں ہیں نہ نوکر چاکر ہیں۔ حتیٰ کہ ذاتی ڈرائیور رکھنے کی استعداد بھی نہیں ہے۔ جو گھر آبائی گاؤں میں بنایا وہ بھی نامکمل اور سردیوں میں رہائش کے قابل نہیں ہے۔ مگر اس قدر نالائقیوں کے باوجود پورے آزادکشمیر میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ آخر کیوں؟

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply