رات کا ساحر/ علی عبداللہ

رات کا ساحر اندھیرے کے دھاگوں پر خاموشی کا سحر پھونک کر مجھے ماضی کے مسحور کن قلعوں میں قید کرنے کی بھرپور کوشش میں ہے- گو کہ ابھی جاڑا نہیں اترا، مگر خنکی اب جاڑے کا پتا دینے لگی ہے- چاندنی اپنے عروج پہ ہے اور میرے کانوں میں رات کے ساحر کی سرگوشیاں ہیں- جیسے یہ کہہ رہا ہو کہ سنو! رات کیا کہہ رہی ہے؟ کسی گمنام پرچھائی کی راہ تک رہی ہے یا شاید یادوں کے کارواں کو گزر جانے کا بول رہی ہے- وہ ساحر پھر سرگوشی کرتا ہے، “ہے کوئی جو سن سکے رات کی وہ آواز، جو اک بار کانوں میں رس گھول دے تو پھر کئی ساز اپنی اوقات کھو بیٹھتے ہیں-”

میں یونہی خاموش بیٹھا چاندنی کے گرد منڈلاتی چند آوارہ بدلیوں کو دیکھتا ہوں اور پھر اس ساحر کی سننے لگتا ہوں- فطرت بھی عجیب شے ہے کہ اس سے زیادہ روح کی تربیت کرنے والی اس کائنات میں شاید اور کوئی شے نہیں ہے- مگر افسوس کہ فطرت کے مناظر اب تصویروں، اسکرینوں اور ڈیجیٹل وال پیپرز میں قید ہو چکے ہیں۔ اب بہتے جھرنوں کی آواز موبائل کی رِنگ ٹون بن چکی ہے- ایک زمانہ تھا جب پہاڑ، بادل، ندی اور سبزہ روح کی تربیت کا ذریعہ تھے۔ مگر آج روح کے سکون اور ذہنی آرام کے لیے بیرونی شور کو روکنے والے ہیڈفون لگانا واحد حل بن چکا ہے-

یہ ساحر اب اپنا مکمل سحر مجھ پر پھونک چکا ہے- کہیں سے مست ہوا کا ایک جھونکا مجھ سے ٹکرایا اور کچھ لمحوں کے لیے مجھے تخیل سے واپس ہوش کی دنیا میں لے آیا ہے- یہ ہوا کا جھونکا بھی شاید ورڈز ورتھ کی مشہور زمانہ نظم “Prelude” سے کچھ گنگنا رہا تھا؛
“There is a blessing in the gentle breeze,
A meek and quiet spirit, breathing balm;
So pure, so deep, so serene, that I became
A living soul; and from this moment there began
The calm existence that is mine.”
اسے مکمل بیان کرنے کو مجھے ایک اور تحریر لکھنی پڑے گی- لہذا یہی سمجھ لو کہ فطرت انسان کی روح کو پرسکون اور زندہ کرتی ہے- میں سوچ رہا ہوں کہ سورج غروب ہونے سے پہلے ہی ہم مصنوعی روشنی سے خود کو منور رکھنے لگے ہیں، مگر دل اندھیر وادی میں کہیں بھٹکتا رہتا ہے- مطلب وہ ہم ہی تو ہیں جنہوں نے نیون لائٹس سے شام کا مفہوم بدل دیا ہے-

فطرت یقیناً ایک استاد ہے، جو انسان کو اپنی اصل کی یاد دلاتی ہے- تمام مصنوعی پن میں رہنے کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ جب بھی کوئی بچہ، جو شہر کی بھیڑ میں کسی پھول کو دیکھ کر رُک جاتا ہے، دراصل اسی “Prelude” کی نئی سطر لکھ رہا ہوتا ہے۔ کوئی نوجوان جو بارش کے بعد زمین کی خوشبو محسوس کرتا ہے، وہ بھی اسی نظم میں ایک نئے قطعے کا اضافہ کر رہا ہوتا ہے- اور وہ جو رات کی خاموشی اور چاندنی کے حسن کو اپنی رگوں میں کشید کرتا ہے وہ بھی اسی Prelude کا ایک حصہ بن جاتا ہے-

یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے یہ “Postlude” ہے جس میں، میں اقرار کر رہا ہوں کہ ہم نے فطرت کو کھو دیا ہے- لیکن ہم میں سے کچھ اب بھی معنی کے مسافر ہیں۔ وہ مصنوعی روشنیوں سے چندھیاتے نہیں بلکہ فطرت سے ہم آہنگ ہونے کی جستجو کرتے ہیں- وہ ہوا، بادل، بارش، رات کے اندھیرے اور چاندنی سے کچھ ایسا کشید کرتے ہیں جو انہیں آگہی کے نئے دریچوں سے اور سکون کے نئے زاویوں سے آشنا کرواتا ہے-

julia rana solicitors london

اس سے پہلے کے رات یونہی بیت جائے اور خواب پلکوں پر ہی دھرے رہ جائیں، بس یہ جان لو کہ فطرت انسان کی روح کو اخلاقی سمت دیتی ہے- لہذا اس سمت آنے کے لیے دوبارہ فطرت کے قریب ہونا ناگزیر ہے- اک نئی Prelude لکھنا ضروری ہے- سو فطرت کی رفتار اپناؤ، اس کا راز صبر ہے-

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply