کیا تاریخ اور شناخت کا خاتمہ ہی آزادی ہے ؟-سائرہ رباب

“Who controls the past controls the
future. Who controls the present controls the past.” — George Orwell
(جو ماضی پر قابض ہے وہ مستقبل پر قابض ہے، اور جو حال پر قابض ہے وہ ماضی کو اپنی مرضی سے لکھ سکتا ہے۔)
یہ جملہ 1984 کے مصنف جارج آرویل نے لکھا تھا، مگر آج کی ڈیجیٹل اور الگورتھمک دنیا میں یہ پہلے سے زیادہ سچ محسوس ہوتا ہے۔
صاحبِ تحریر نے دو متضاد چیزوں کو ایک ساتھ جوڑنے کی کوشش کی ہے .. ایک طرف وہ مذہبی اور تاریخی نظم کے خاتمے کو “ترقی” کہتے ہیں، اور دوسری طرف ٹیکنالوجی، AI اور ڈیجیٹل انقلاب کو انسان کی “نجات” کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں سمتیں ایک ہی طاقت یعنی جدید سرمایہ دارانہ نظام (neoliberal capitalist system) کے ہاتھ میں ہیں، جو کبھی “religious order” کے زوال کو celebrate کرتا ہے اور کبھی اسی مذہبی آرڈر کو “امن” کے جھانسے کے لئے استمال کرتا ہے (Abraham accord) ۔ یہی نظام “AI supremacy” کو بھی اپنی نجات کا بیانیہ بناتا ہے۔
یہی وہ تضاد ہے جسے Herbert Marcuse نے One-Dimensional Man میں بہت خوبصورتی سے سمجھایا کہ جدید سرمایہ دارانہ معاشرہ ہمیں ایک رُخی بنا دیتا ہے، وہی آج ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مارکیٹ اکانومی کے بیانیے میں جھلکتا ہے۔ یعنی شناخت (identity) کو اتنا dilute اور fluid کر دیا گیا ہے کہ انسان ہر وقت مارکیٹ کی مانگ کے حساب سے اپنی شکل بدلتا ہے…کبھی صارف، کبھی برانڈ، کبھی ڈیٹا پوائنٹ، کبھی ٹرینڈ ۔
Eric Fromm
نے بھی کہا تھا کہ انسان نے مادی ترقی کے بدلے اپنی روحانی و فکری آزادی بیچ دی ہے، اور اب وہ “freedom from” کے بجائے “freedom to consume” میں الجھ گیا ہے۔
Mark Fisher
کے مطابق سرمایہ داری کا سب سے بڑا جادو یہ ہے کہ اس نے دنیا سے مستقبل چھین لیا ۔۔۔
اب کسی کو لگتا ہی نہیں کہ اس نظام کے سوا کوئی اور راستہ ممکن ہے۔
اسی لیے “تاریخ کا خاتمہ” دراصل “مارکیٹ کی فتح” ہے، نہ کہ انسان کی آزادی۔
جب “fixed identity” ٹوٹتی ہے تو اس کی جگہ آزاد خودی نہیں بنتی، بلکہ مارکیٹ کی “fluid identity” آ جاتی ہے، جو ہر لمحہ بدلتی ہے تاکہ خریدار ہمیشہ نیا رہے۔ مارکیٹ کی fluid مانگیں ہمیں define کرتی ہیں۔
یہی وہ Orwellian دنیا ہے، جہاں “تاریخ مٹتی نہیں”، بلکہ نئے algorithmic narrative کی شکل میں دوبارہ لکھی جاتی ہے۔
ابراہم اکارڈ کو اگر صرف “سیاسی امن معاہدہ” سمجھا جائے تو بات ادھوری ہے۔ درحقیقت یہ اسی technological-military-industrial complex کا حصہ ہے جو امریکہ، اسرائیل اور مغرب کے ہاتھ میں ہے۔
یہی طاقتیں AI، biotechnology، cybersecurity، surveillance systems میں سب سے آگے ہیں، اور ان ٹیکنالوجیز کو صرف سائنسی ترقی نہیں بلکہ کنٹرول، پالیسی اور narrative building کے اوزار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔جیسے ڈیٹا کے ذریعے تاریخ اور شناخت کو reshape کرنا۔
یوں دیکھا جائے تو “Abraham Accord” مذہب کے نام پر امن کا چہرہ ضرور دکھاتا ہے،
مگر پسِ پردہ یہ ایک نیا معاشی اور فکری نظم ہے جو دنیا کو ایک ہی بیانیے، ایک ہی منڈی اور ایک ہی ڈیجیٹل کنٹرول میں لانا چاہتا ہے۔
آخر میں سوال وہی بنتا ہے جو مارکوز نے اٹھایا تھا:
کیا یہ نئی AI/biotech دنیا ہمیں واقعی آزاد کر رہی ہے یا صرف neoliberal بازار کی نئی شکل میں قید کر رہی ہے؟

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply