حاتم طائی کا محل اورحائل کے سرخ پہاڑ۔۔منصور ندیم

برصغیر پاک و ہند میں بلکہ اہل عرب میں حاتم طائی کو سخاوت کا استعارہ مانا جاتا ہے، پچھلی صدی کے مشہور ادیب میر امن دہلوی نے حاتم طائی کے نام سے “باغ و بہار” کے عنوان سے قصہ چہار درویش لکھا ، جسے اردو زبان میں آج بھی ایک شاہکار سمجھا جاتا ہے ،میر امن دہلوی کی حاتم طائی کی کہانیاں تو خیر قصہ گوئی تھیں،مگر حاتم طائی حقیقتا ایک جیتا جاگتا کردار تھا، دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کی ایسی شخصیت رہے جن کی سخاوت تو خیر ضرب المثل رہی۔ مگر عرب کے اہل علم میں حاتم طائی کا شمار عرب کے نامور شعرا میں ہوتا ہے۔ حاتم طائی دورِ جاہلیت کا معروف شاعر تھا جسے بے مثال سخاوت کے سبب 1500 برس سے شہرت حاصل ہے۔

حاتم ابن عبد اللہ بن سعد بن أخزم بن أبي أخزم الطائی کا تعلق شمال مغربی سعودی عرب میں حائل سے تھا ۔ حالیہ سعودی عرب میں حائل کو صوبے کا مقام حاصل ہے۔ حائل شہر آنے والے لوگوں کو 2 چیزیں یہاں سحر میں لیتی ہیں ایک یہاں کے پہاڑ اور دوسرا حاتم طائی کا محل اور آتش دان۔

یہاں جبل سمرہ کی چوٹی پر واقع مقام ابھی تک “حاتم طائی کے آتش دان” کے نام سے معروف ہے۔ یہاں وہ رات کے وقت آگ جلایا کرتا تھا تا کہ علاقے سے گزرنے والوں کو راستے کی رہ نمائی حاصل ہو سکے۔حاتم طائی کے گھر کوئی بھی مہمان آجاتا وہ اس کی عزت و تکریم میں کوئی کسر اٹھانہ رکھتے تھے بلکہ وہ خود مہمانوں کی تلاش میں لگے رہتے تھے اور آگ روشن کرکے ان کو آوازیں دیا کرتے بلکہ اپنے غلام کو خوشخبری دیتے تھے کہ اگر اس آگ کی وجہ سے کوئی مہمان ہمارے گھر آگیا تو تم آزاد ہوجاوگے۔

حاتم طائی کا آتش دان معنوی طور پر گراں قدر اہمیت کا حامل ہے جو حائل کو سعودی عرب کے دیگر علاقوں سے ممتاز بناتا ہے۔ حائل کے مقامی باسیوں نے اس کو ضیافت اور مہمان نوازی کے حوالے سے اپنا شعار بنا رکھا ہے۔ اگرچہ آگ روشن کرنے کا یہ مقام حائل کی تاریخ میں بڑی اہمیت کا حامل ہے، تاہم اس کے باوجود یہ مقام گزشتہ چند دہائیوں سے اس توجہ اور دیکھ بھال سے محروم رہا جس کا یہ مستحق ہے۔ اگر پہاڑ پر موجود آتش دان کو اس کی اصلی حالت پر رہنے دیا جاتا تو کہیں بہتر ہوتا جب کہ اب زنگ آلود لوہے کی باڑ ، لوگوں کی جانب سے اندھا دھند تحریروں اور ہر طرف پھیلے کچرے نے اس مقام کے منظر کو مسخ کر دیا تھا، جسے اب سیاحتی پروگرام کے تحت دوبارہ  بہتر بنایا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ یہاں تاحد نظر نخلستانوں کا پرلطف منظر دیکھ کر اور پہاڑ کی چوٹیوں سے پھوٹنے والے آبشاروں کی گرجدار آواز سن کر کوئی بھی چند لمحوں کے لیے ضرور اس میں کھوجاتا ہے۔ یہاں سرخ رنگ کے اجا اور سلمی پہاڑ عرب دنیا کے مشہور سخی حاتم طائی کی فیاضی اور مہمان نوازی کی گواہی دیتے ہوئے لگتے ہیں۔ اجا اور سلمی پہاڑوں کے درمیان وادیاں اور زرعی فارم حائل کے مشہور ترین قابل دید مقامات میں شمار ہوتے ہیں۔ یہاں سیاح جدھر بھی نظر ڈالتے ہیں انہیں ہر طرف سبزہ زار، صاف ستھری ہوا، میدانی علاقے، حائل کے آثار قدیمہ، حاتم طائی کا محل اور دیوہیکل بے نظیر آتش فشانوں کے دہانے نظر اْتے ہیں۔

یہاں کا سب سے بڑا پہاڑ اجا ہے یہ حائل شہر کے مغرب میں واقع ہے۔ اس کا سلسلہ 40 کلو میٹر تک چلا گیا ہے۔ 30 کلو میٹر کے قریب اس کا عرض ہے۔ اجا پہاڑ توارن کے آثار قدیمہ اور ’العقدہ‘ قریے کے لیے معروف ہے۔ العقدہ قریہ اجا پہاڑ کے اندر بسا ہوا ہے۔ یہ زرعی فارموں اور وادیوں کے لیے مشہور ہے۔ یہ مویشیوں اور اونٹوں کی چراگاہ بھی ہے۔ حائل سے العقدہ قریہ آسانی سے پہنچا جاسکتا ہے۔ حائل شہر سے اجا پہاڑ کے اندرونی علاقے تک پکی سڑک چلی گئی ہے۔

جبل سلمی کا کوہستانی سلسلہ اجا پہاڑ کے کوہستانی سلسلے کے جنوب مشرق میں سو کلو میٹر تک چلا گیا ہے، سلمی کا نام اجا سے اسلامی تاریخ سے پہلے سے جڑا ہوا ہے۔ توارن قریہ (گاوں) اجا پہاڑ کے شمال میں واقع ہے۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ اس قریے میں حاتم طائی کا محل موجود ہے۔ محکمہ سیاحت و قومی آثار نے یہاں کھجور کی چھال سے اس کا سائبان تیار کیا ہے۔ یہاں آنے والوں کے لیے حجری بینچیں بنائی گئی ہیں۔

نوٹ :

1- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں پیغمبرِ اسلام اور حاتم طائی کی بیٹی سفانہ کا قصہ موجود ہے۔ نبی کریم نے سفانہ کے باپ   حاتم طائی کی سخاوت  کی نسبت  سے اس کے ساتھ خصوصی معاملہ فرمایا۔حاتم طائی کی بیٹی سفانہ جب قیدی بنا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کی گئی تو اس نے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “میں اپنی قوم کے سردار کی بیٹی ہوں اور میرا باپ تنگ دستوں کی مدد کرتا تھا ، بھوکوں کو کھانا کھلاتا تھا اور مہمان کی اعلی مدارات کرتا تھا لہذا میرے ساتھ رحم کا معاملہ فرمایا جائے”۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ “واقعتا یہ تو مومن کی صفات ہیں ، اگر تمہارا باپ مسلمان ہوتا تو یقینا ہم اس پر رحم کا معاملہ ہی فرماتے۔ اس لڑکی کو رہا کردو کیوں کہ اس کا باپ اعلی اخلاق کا خُوگر تھا اور اللہ اعلی اخلاق کو پسند فرماتا ہے”۔

2- حاتم طائی کا دیوان پہلی بار “رزق اللہ حسون” نے لندن سے 1876ء میں شائع کیا۔ 1897ء میں دیوان کا ترجمہ جرمن زبان میں چھپا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *