امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد غزہ میں جنگ بندی بارے جو 20 نکاتی منصوبہ پیش کیا ،اس میں حماس کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ تو نمایاں ہے مگر غزہ پہ اسرائیلی حملے بند کرانے کی کوئی تجویز شامل نہیں ،چنانچہ حماس نے اپنے ابتدائی ردعمل میں غیر مسلح ہونے کی تجویز سے اتفاق نہیں کیا ۔ اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان 77سالوں میں آٹھ بڑی جنگوں کے علاوہ متعدد معاہدات ہوئے جن میں سے کسی ایک میں بھی مسلہ فلسطین کا مستقل حل شامل نہیں تھا ۔1947 میں اقوام متحدہ کا تقسیم منصوبہ (UN Partition Plan) جو دراصل عیسائیوں اور یہودیوں کا ایسا مشترکہ پلان تھا جس میں صلیب کے فرزندوں کی طرف سے صیہونیوں کو ارضِ فلسطین دینے کا خاکہ پیش کیا گیا جسے فلسطینی مسلمانوں سمیت عرب لیگ نے مسترد کر دیا تھا لیکن مغرب کی نصرانی طاقتوں نے1948 میں یک طرفہ طور پہ اسرائیل کو تسلیم کرکے پہلی عرب ،اسرائیل جنگ (First Arab-Israeli War) چھیڑ دی ، برطانیہ اور امریکہ کی فوجی معاونت سے اسرائیل نے پیدا ہوتے ہی مصر، اردن، عراق، لبنان اور شام سمیت دوسری جنگ عظیم کے اجڑے ہوئے مڈل ایسٹ کو پامال کرکے نوزائیدگی کے مرحلہ میں اپنی سرحدوں کو وسعت دینے کے علاوہ لاکھوں فلسطینیوں کو شام، اردن اور لبنان کی طرف دھکیل کر بے گھر کر دیا ۔1967 میں، اسرائیلی قیادت نے بیدخل کئے گئے فلسطینی کی وطن واپسی کی کوششوں کو جواز بنا کر پہلے شامی حکومت کا تختہ الٹنے کی دھمکی دی بعدازاں موسم بہار میں مصر اور شام پر فضائی حملوں سے چھ روزہ جنگ کا آغاز کردیا ،اسی جنگ میں اسرائیل نے جزیرہ نما سینائی، گولان کی پہاڑیوں، غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے پر زمینی حملے کئے، یہ جنگ بھی اسرائیل کی فتح پہ منتج ہوئی ۔ اسی دوران امریکہ نے عالمی صیہونی نیٹ ورک کی معاونت سے مڈل ایسٹ کے افق پہ سایہ فگن اُن سوشلسٹ تحریکوں، جو فطری طور پہ اسرائیل کے قیام کی مخالف تھیں ، سے نجات کے لئے خاموشی کے ساتھ مشرقی یوروپ”سرنڈر”کرنے کے بدلے سوویت یونین کو مڈل ایسٹ سے دستبردار ہونے پہ راضی کر لیا ، چنانچہ 1960کی دہائی میں سوویت یونین امریکہ کو جگہ دینے کے لئے مشرق وسطی سے بتدریج پیچھے ہٹتے ہوئے، ایران، عراق، شام ،لبیا، مصر اور لبنان کی سوشل ایسٹ تحریکوں کو بے یارو مددگار چھوڑ گیا ، جمال عبدلناصر اِسی کایا کلپ کا پہلا مہرہ تھا جس نے امریکی، برطانوی اور اسرائیلی ایجنسیوں کی مدد سے شاہ فاروق کا تختہ الٹ کر اقتدار تک رسائی پائی ۔ وہ پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں میں خاموشی کے ساتھ امریکی مقتدرہ سے ملکر کام کرتا رہا ، ناصر کی پراسرار موت کے بعد مصر کی صدارت پہ فائز ہونے والے انوار سادات (جو مبینہ طور پر دوسری جنگ عظیم کے دوران ایم آئی 6 سے منسلک ہو گیا تھا) نے اعلانیہ امریکی بلاک میں شرکت کرنے کے علاوہ 1979 میں کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کے ذریعے اسرائیل کو تسلم کرکے فلسطین کاز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ۔ حیرت ہے مصر و اسرائیل کے مابین جس (Camp David Accords) کو سب سے کامیاب معاہدہ تصور کیا جاتا ہے، اس میں سینائی کی مفتوحہ زمین تو مصر کو واپس مل گئی لیکن اس معاہدہ میں تنازعہ فلسطین کا کوئی حل موجود نہیں تھا ، اسی لئے معاہدہ انور سادات کے قتل اور مصر میں کبھی نہ تھمنے والی خانہ جنگی کا محرک بنا ۔ روس کی سرد مہری کی بدولت 1960 کی دہائی سے اسرائیل کے خلاف مسلح مزاحمت کرنے والی یاسر عرفات کی پی ایل او (فلسطین لبریشن آرگنائزیشن) نے بھی بلآخر اوسلو معاہدہ کے ذریعے اسرائیل کے خلاف مسلح مزاحمت ترک کرنے کے بدلے مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں فلسطینی ریاست بنانے کی پیشکش قبول کر لی ، بل کلنٹن انتظامیہ کے تحت 1993 میں ہونے والے اوسلو معاہدہ میں پہلی بار دو ریاستی حل کا نقشہ پیش کیا گیا ،اِسی معاہدہ میں مجوزہ فلسطینی ریاست کی سرحدوں، پناہ گزینوں کی واپسی اور یروشلم پر مستقل تصرف کے حق بارے بات چیت کے وعدے شامل تھے لیکن معاہدہ پہ عملدرآمد میں ناکامی نے پی ایل او کو معدوم کر دیا ۔ اسی خلاء کو پُر کرنے کے لئے فلسطین میں انتفادہ ، اسلامی جہاد اور حماس جیسی نظریاتی تحریکوں ابھریں ،جو آخرکار دنیا کو عالمی جنگ کے دہانے تک لے آئیں ۔ 1994میں اردن نے بھی تنازعہ فلسطین کو پس پشت ڈال کر اسرائیل کو تسلیم کرلیا ۔ پہلے کویت اور پھر عراق کی جنگوں کے علاوہ القاعدہ، جبتہ النصر اور داعش نے عربوں کے سماجی ڈھانچہ کو توڑ ڈالا،جس کے نتیجہ میں بہار عرب جیسی تحریکیں بھڑک اٹھیں جنہوں نے عرب نوجوانوں کو انسانیت کے عالمی دھارے کے ساتھ جوڑ دیا لیکن 2020 کا ابراہمیی معاہدہ ، جس کے تحت سعودی عرب اسرائیل کے قریب اور متحدہ عرب امارات (UAE) اور بحرین نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا ، اپنی جلو میں فلسطینی مسلمانوں کے لئے تباہ کن مصائب سمیٹ لایا ، اگرچہ ابراہیمی معاہدہ کے بعد مراکش اور سوڈان نے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات ہموار بنا لئے مگر یہ تمام معاہدے مسئلہِ فلسطین کو حل کرنے کی بجائے اس تنازعہ کی شدت میں اضافہ کرتے گئے ۔ چنانچہ اِس وقت سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان بقاء باہمی کے معاہدے کی راہ میں فلسطین کا لاینحل تنازعہ حائل ہے بلکہ جب تک مسئلہ فلسطین کا مستقل حل نہیں نکلتا اُس وقت تک اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے استوار ہونے کے باوجود اسرائیل کی سلامتی کا معاملہ سنگین سے سنگین تر اور سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک کے لئے بھی اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے عوامی ردعمل سے متصادم ہوتے جائیں گے ۔ عرب اسرائیل معاہدات میں مستقل مسائل (core issues) کو حل نہ کرنا ، معاہدات کو ایسے چھوڑ دینا جیسے عارضی ٹیمپلیٹ جسے وقت کے ساتھ نظر انداز کرنا ہو ، اسی طرح فریقین کی قیادت جو عوامی رائے کو امن معاہدات کی نفاذ کے لئے درکار مضبوط سیاسی رضا مندی تک لا کر معاہدات مکمل طور پر پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکی ۔ تقریباً ہر وہ مفروضہ جس نے اسرائیل-عرب تعلقات کو معمول پر لانے کیلئے معاہدوں کو زیر کیا ، تباہ کن طور پر غلط تھا ، اب امریکہ اور اسرائیل اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں ۔ غزہ جیسے حیران کن اور ہولناک تشدد کی پیشین گوئی کی گئی تھی جس نے مشرق وسطی میں موجودہ دشمنیوں کو غضب ناک کر دیا اور حماس کے عسکریت پسندوں نے اسرائیل کو کبھی نہ تھمنے والی جنگ میں گھسیٹ لیا ۔ قبل ازیں ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ ابراہیمی معاہدے کی وساطت سے مشرق وسطی کی تاریخ کا رخ ”عشروں کی تقسیم اور تنازعات” سے بدل جائے گا لیکن صورت حال اس کے بالکل برعکس نکلی ، کئی دہائیوں سے ، اسرائیل-فلسطینی تنازعہ کا پُرامن حل ، یعنی فلسطینی عوام کے لیے ایک آزاد ریاست کی فراہمی اور فلسطینی سر زمین پر اسرائیلی قبضے کا خاتمہ ، اسرائیل اور اس کے عرب پڑوسیوں کے درمیان امن کی انجینئرنگ کے کام میں مرکزی حیثیت رکھتا تھا ، مگر معمول کے نئے معاہدوں کے مذموم مفروضوں کی بدولت فلسطینیوں کی حالت زار کو خطے کی حکومتیں اور وسیع تر بین الاقوامی برادری، دونوں، بھول چکے ہیں ۔ درحقیقت، ماضی کے تمام معاہدوں کے متن میں فلسطینیوں کا بمشکل تذکرہ کیا گیا ، جیسے جیسے عرب ریاستوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو بتدریج گہرا کرنا شروع کیا ، وہ تیزی سے اپنے تاریخی موقف سے پیچھے ہٹتی گئیں ۔ محمد بن سلمان کا یہ اعلان کہ ”اسرائیلیوں کو اپنی سرزمین رکھنے کا حق ہے” ( بعد میں پیچھے ہٹ گیا ) موثر طریقے سے روایتی موقف کو نقصان پہنچا گیا ، جسے مسلم دنیا فلسطینیوں کی تاریخی سر زمین کے طور پر دیکھتی ہے۔ مسئلہ فلسطین حل کرنے کی محض خواہش کافی نہیں بلکہ بے مقصد معاہدوں پر دستخط کرنے سے تضادات کا ایسا ملغوبہ پیدا کیا گیا جو 7 اکتوبر کو شروع ہونے والی کشیدگی کا محرک بنا ۔ اردن کے شاہ عبداللہ نے کہا تھا کہ ”علاقائی سلامتی اور ترقی کا کوئی فن تعمیر اس تنازعہ کی جلتی ہوئی راکھ پر کھڑا نہیں ہو سکتا ” ۔ اسی طرح خود فلسطینیوں نے بھی رائے عامہ کے جائزوں میں ابراہمیی معاہدہ کو ”خیانت”، ”غدارانہ وار” اور”سنگین نقصان” قرار دیا ۔ 2020 کے بعد سے، جب ابراہمیی معاہدوں پر دستخط ہوئے، غیر قانونی بستیوں میں توسیع ہوئی ، یہاں تک کہ آبادکاروں کی طرف سے مقامی فلسطینیوں پر تشدد میں اضافہ ہو گیا ۔ چنانچہ حماس کا حملہ الاقصی میں برسوں کے یکطرفہ تشدد کا نتیجہ تھا، اس حملے کو فلسطینیوں کی قیمت پر اسرائیل-عرب تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے دو طرفہ دباو اور غم و غصہ اور مایوسی کو جانچے بغیر سمجھا نہیں جا سکتا ۔ جو بات واضح ہے – حماس کے غیر معمولی تشدد سے، وسیع علاقائی جنگ بھڑکنے کا خطرہ ہے اور یہی بڑی جنگ مسلمانوں کے حق میں ہو گی ، نیز اسرائیل کی بمباری مہم کے جواب میں عرب ممالک میں فلسطینیوں کی حمایت میں مظاہرے بڑھ گئے،تقریبا ہر وہ مفروضہ جو ابراہیمی معاہدے کے تحت تھا، تباہ کن طور پر غلط ثابت ہوا ، کم از کم یہ خیال باطل ثابت ہو گیا کہ فلسطینیوں کو نظرانداز کرنے سے مشرق وسطی پُرامن ہو جائے گا ۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں