سوال وہی ہے اور وہی پرانی بحث کہ ڈاکٹرز کو اپنے کولیگز (سنئیر / جونیئرز) ڈاکٹرز سے مشورہ فیس لینی چاہیے یا نہیں ۔ اگر ہم میڈیکل کالج کے دوران behavioural سائنسز میں پڑھی گئی بات کو یاد کریں تو اس میں واضح لکھا تھا کہ ایک ڈاکٹر کے شایانِ شان نہیں کہ وہ اپنے فیلو ڈاکٹرز/ کولیگز سے اور ان کی فیملی اور والدین سے مشورہ فیس لے،یہ عمل میڈیکل ethics اور گڈ کلینیکل پریکٹس (جی سی پی) کے خلاف ہے ۔
اس بارے میں ہمارے استاد محترم،پروفیسر ڈاکٹر ارشد مرحوم نے یہی بات سمجھائی تھی کہ اگر آپ کا کوئی ڈاکٹر کولیگ اپنے والدین یا اپنی بیوی بچوں کو آپ کے پاس چیک کروانے آئے تو آپ نے اس سے فیس چارج نہیں کرنی ۔
اب آج کے حالات میں اس بات کو لیکر دو آراء ہیں ۔ کچھ کنسلٹنٹس ڈاکٹرز سے فیس چارج نہیں کرتے،کچھ فل چارج کرتے ہیں۔ کچھ ڈاکٹرز کی فیملی سے تو چارج نہیں کرتے جبکہ انکے والدین کو چارج کرتے ہیں ۔ جو چارج کرتے ہیں انکا نکتہ نظر یہ ہے کہ اتنی مہنگائی کے دور میں، اگر ہم اپنے کولیگز سے چارج نہیں کریں گے تو اپنا گزارہ کیسے کریں گے۔ جبکہ جو چارج نہیں کرتے انکے مطابق ایسا کرنا میڈیکل Ethics کو فالو کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔
بدقسمتی کہہ لیجیے یا پھر مہنگائی اور افراتفری کو زہن میں لے آئیں،اسی سے نوے فیصد فیصد ڈاکٹر صاحبان اپنے فیلو کولیگز سے مشورہ فیس چارج کرتے ہیں ۔ جو کہ کم از کم میرے نزدیک درست عمل نہیں ۔ میرا ماننا ہے،بیشک مہنگائی ہے،خرچے زیادہ ہیں،لیکن بحثیت میڈیکل پروفیشنل،ہمیں اپنے کولیگز کو انٹرٹین کرنا چاہیے، انکو پروٹوکول دینا چاہیے اور ان سے فیس ہرگز نہیں چارج کرنی چاہیئے ۔
ہماری میڈیکل فیلڈ کی تباہی میں ایک اہم کردار اس لالچ کا بھی ہے کہ ہم چند پیسوں کو اپنے کولیگز سے زیادہ اہم ماننا شروع ہو گئے ہیں ۔ہمارے مقابلے میں باقی ہر پروفیشنل فلیڈ میں ایک دوسرے کو سپورٹ کیا جاتا ہے جبکہ میڈیکل فیلڈ میں لیگ پلنگ سب سے زیادہ ہے ۔
اب تو حالات یہ ہو گئے ہیں کہ ایک کولیگ / جونئیر ڈاکٹر اپنے کسی قریبی عزیز کو اپنے ہی ہسپتال کے کسی کنسلٹنٹ کو دکھانے لاتا ہے تو کنسلٹنٹ صاحبان انہیں نا ہی پروٹوکول دیتے ہیں،بلکہ انکا لہجہ اتنی حقیر ہوتا ہے کہ مت پوچھیے اور فیس بھی فل چارج کرتے ہیں ۔
ہمارے سینئیر ڈاکٹر حضرات کو اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہیے کہ ہم کس راہ پر چل پڑے ہیں ۔ آپ کے لئے بیشک وہ ایک جونئیر ڈاکٹر ہے،لیکن وہ اپنے پورے خاندان کے لئے وہ باعثِ فخر ہے،خدارا اس کی عزت نفس کا خیال رکھیں ۔۔ فیس چارج کر کے،آپ اپنی ویلیو تو ڈاؤن کر چکے ہیں کم از کم عزت تو بچا لیں۔
اس بات میں کوئی دو رائے نہیں،ایک ڈاکٹر کا اپنے کولیگز / ڈاکٹرز سے فیس چارج کرنا میڈیکل ethics کے سخت خلاف ہے ۔ آپ اسے کسی بھی طرح جسٹفائئ کر ہی نہیں سکتے ۔ بھاڑ میں گئی مہنگائی اور ایسی اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں ،جو ہمیں اتنا بھی نا سکھا سکیں کہ آپ نے اپنے فیلو کولیگز کو مفت مشورہ دینا ہیں ۔
اب یہ توجیہہ دینا کہ ایسا کریں گے تو خرچہ وغیرہ کیسے پورا کرنا ہے،یہ بلکل فضول لاجک بات ہے ۔ جو بات میڈیکل Ethics کے خلاف ہے،آپ اسے کسی بھی صورت نہیں جسٹفائی کر ہی نہیں سکتے ۔
ہماری میڈیکل فیلڈ ایسی ہے کہ آپکو کسی بھی کولیگ سے کھبی بھی واسطہ پڑ سکتا ہے۔ تو آپکا اخلاق و کردار اتنا اچھا اور مضبوط تو ہونا چاہیئے کہ اپکے کولیگ آپکے پاس آئیں بھی اور مریض ریفر بھی کریں ۔
یقین مانئے ،اپنے فیلو ڈاکٹر سے دو چار ہزار چارج کر کے آپ نے محل نہیں کھڑے کر لینے اور نا ہی وہ چھوڑکر آپکے محل ادھورے رہ جانے ہیں ۔ دل بڑا کیجیے، برکتیں بھی ہوں گی اور سکون بھی ملے گا.
وقت گزرنے کیساتھ ساتھ، میڈیسن پروفیشن میں ہم کولیگز کی آپس میں پروفیشنل جیلسی بھی بڑھتی جارہی ہے۔ ڈاکٹرز ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے ہر ہتھکنڈا استعمال کرتے نظر آتے ہیں ۔ میڈیسن پروفیشن میں اب لیگ پلنگ بھی حد سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔ زیادہ تر ڈاکٹرز ایک دوسرے کے خلاف ہی نظر آتے ہیں ۔ جبکہ ہمارے پروفیشن میں یونٹی بھی اب بہت کم ہو چکی ہے۔ پہلے کسی ایک ہسپتال میں کسی ڈاکٹر کیساتھ زیادتی ہوتی تھی تو پورے صوبے کے ڈاکٹرز اسکی سپورٹ میں نکل آتے تھے۔ اب ڈاکٹرز سپورٹ تو کیا، ایسی زیادتیوں کو جسٹفائی کرتے نظر آتے ہیں ۔ ایک ڈاکٹر کو بلاوجہ نوکری سے نکالے جانے پر بجائے اسکی مذمت کرنے کے،اگلے دن اسکی سیٹ لینے کے لئے ڈاکٹرز لائینوں میں کھڑے نظر آتے ہیں ۔
انہی چھوٹی حرکتوں کی وجہ سے ہمارے پروفیشن کو اب کوئی بھی حکومت سریس لینے کو تیار نہیں ۔ کوئی وزیر،مشیر حکومت یا ارباب اختیار ڈاکٹرز تنظیموں کی بات سننے کو تیار نہیں ۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ڈاکٹروں کی آپس کی نااتفاقی ہے۔
باقی رہی سہی کسر ہم ڈاکٹرز نے اپنے کولیگز کیساتھ اپنے روائیوں کی وجہ سے خراب کر لی ہے۔ اب جب بھی کوئی ڈاکٹر اپنے کولیگ کے پاس چیک کروانے جاتا ہے، اس سے مشورہ فیس بھی پوری لی جاتی ہے اور پروٹوکول بھی نہیں دیا جاتا،جسکی وہ ڈاکٹرز اپنے ہی پروفیشنل کولیگز سے متنفر ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام ڈاکٹر میڈیکل Ethics کو فالو کریں،اپنے فیلو کولیگز کو عزت دیں،اگر وہ کسی فیملی ممبر کو چیک کروانے آئیں تو ہم انہیں پروٹوکول دیں۔ ایسا کرنے سے ہی ہمارے میڈیکل پروفیشن کی کھوئی ہوئی عزت دوبارہ حاصل ہو سکتی ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں