اسیر/ انعام رانا

سوشل میڈیا جب آیا تو اسکے مقاصد میں سیاست، مذہبی پروپیگنڈا اور کئی دیگر رواج شامل ہی نہ تھے۔ اسی لیے اسے سوشل میڈیا یا “سماجی رابطے کی سائٹس” کہا گیا۔ پچھلے ایک عشرے نے مگر اسے ایسی شکل دے دی ہے کہ اسکی ابتدائی صورت کسی کو یاد بھی نہیں۔ آج سوشل میڈیا ہر قسم کے گروپوں کیلئے پروپیگنڈا مشین بھی ہے، “علمی و ادبی” مباحثوں کیلئے اک جریدہ بھی بلکہ بھیک مانگنے کا جدید ترین کشکول بھی۔

سوشل میڈیا کے اس جدید دور کے ابتدائی برسوں میں قارئین نے ہر مختلف بات کرنے والے کو “فالو” کیا۔ نئے خیالات سنے اور سیکھے۔ سیاسی اور سماجی ایشوز پہ “رہنمائی” لی، کیونکہ کچھ لوگ تھے جو دلیل اور گہرائی سے کسی بھی معاملے پہ گفتگو کرتے تھے۔ پھر کچھ لوگ تھے جو عام زندگی میں اپنے فن کے ماہر تھے یا پھر کچھ لوگ جو قاری کی پسند کی مذہبی/غیر مذہبی و سیاسی/غیر سیاسی وابستگی کے نمائندہ لکھاری بن جاتے تھے۔ ان ابتدائی برسوں کی ایک “بائی پراڈکٹ” سوشل میڈیا سیلیبریٹیز ہیں۔ ان کو سراہا گیا، چاہا گیا، بت بنایا گیا اور عام زندگی میں بھی تعلقات بنائے گئے۔ پچھلے دو تین برس میں جب سوشل میڈیا نے موجودہ شکل اختیار کر لی تو اب سوشل میڈیا جو ایک بیٹھک تھا، ہائیڈ پارک کارنر بن گیا۔ جہاں ہر دو چار فٹ پہ کرسی پہ کھڑا ایک مقرر بس بولے چلا جا رہا ہے، اسکے گرد ایک گروہ ہے جس میں کچھ لوگ وہ ہیں جن کے مطلب کی وہ بات کر رہا ہے، کچھ وہ ہیں جو اسکی بات کا رد کرنے کیلئے آن کھڑے ہوئے ہیں اور کچھ بس آگے بڑھنے سے قبل موجودہ  صورتحال سے لطف کشید کر رہے ہیں۔ کرسی پہ کھڑا وہ شخص جسے “سوشل میڈیا سیلیبریٹی” سمجھا جا رہا ہے، دراصل اسیر ہے۔

اسیر عموماً کسی اور اسیر کا “کمنٹئیا” ہوتا ہے، پھر کچھ عرصے بعد جب اس نے لکھنا یا بولنا شروع کیا تو اسکے گرد تالی بجی۔ وہ چونکا اور اسے احساس ہوا کہ اسکے اندر تو ایک دانشور چھپا بیٹھا تھا جسے آج تک رونمائی کا موقع نہ مل سکا تھا۔ اس نے مزید لکھا، مزید بولا اور اسکے گرد ہجوم اکٹھا ہونے لگا۔ اسے احساس ہی نہیں ہوا کہ کب وہ تالی کا اسیر ہو چکا ہے، میلان کندرا کا رقاص بن چکا ہے جسے اب بس مسلسل ناچنا ہے، اپنے لیے نہیں بلکہ آڈئنس کیلئے۔

اسیر کو یہ احساس ہے کہ اسکے گرد جو ہجوم ہے وہ محض تماشائی ہے سو تماشا مسلسل جاری رہنا چاہیے۔ تماشے میں بوریت پیدا نہیں ہونی چاہیے، ہر کچھ دیر بعد کچھ نیا ہونا چاہیے وگرنہ تماشائی کو تماشے بہت۔ کچھ تماشائیوں کا تقاضا ہے اور کچھ تماشے کا، ہر واقعہ، ہر موضوع پہ اسکا بات کرنا، “اپنا موقف دینا” اور گیان بانٹنا ضروری ہے۔ اسکے “معتقدین” اور تماشائی اگر اسکا موقف نہ پائیں گے تو رفتہ رفتہ ہر اہم واقعہ پہ اسکی وال ڈھونڈنے کے بجائے کسی اور اسیر کی جانب چل پڑیں گے۔

ہر وقت “دوکان” کو آباد رکھنے کی یہ خواہش مضحکہ خیر بنتی چلی جاتی ہے۔ دوکان میں طرح طرح کا سودا رکھنا پڑتا ہے اور منافع کمانے کیلئے دوکان لمبے اوقات تک کھلی رکھنی پڑتی ہے۔ منافع وہ تالی ہے جسکا یہ سیلیبریٹی اسیر ہو چکا اور اس تالی کو جدید دور میں لائیک کہتے ہیں۔ اب اگرچہ اسیر کی مہارت ہو نہ ہو، وہ ایسے موضوعات پہ بھی “بطور ماہر” گفتگو کرتا ہے جن پہ اسے بطور طالب علم بھی دسترس حاصل نہیں ہوتی۔ وہ کبھی جان بوجھ کر ایسی متنازعہ گفتگو کرتا ہے جو سنسنی پھیلائے، وہ جھوٹ گھڑتا ہے، جذباتی استحصال کرتا ہے۔ اسے اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ وہ غلط کر رہا ہے، اسے لائیک چاہیے، مجمع چاہیے۔ وہ دن میں چار پانچ بار ایک مختلف موضوع کے ساتھ تماشائیوں کے سامنے رقص پیش کرتا ہے اور درمیانی وقفے میں وہ اپنی پوسٹ پہ “ری ایکشنز” گنتا ہے۔

“ریچ” اور “ری ایکشن”، یہ دو اصطلاحیں آپ کو اسیر کے منہ سے بارہا سننے کو ملتی ہیں۔ ریچ یعنی اسکی پوسٹ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے، کیونکہ جتنی زیادہ ریچ ہو گی اتنے ہی تالی کے زیادہ امکانات۔ چنانچہ آپ نے اکثر “اسیروں” کو ریچ کم ہونے کا شکوہ و غم کرتے دیکھا ہو گا اور پھر اسے بڑھانے کیلئے دوسروں سے درخواست، سائنسی بنیادوں پہ تجربات بلکہ دیسی ٹوٹکے اور دعائیں کرتے بھی۔ اگر ریچ قابل اطمینان ہے تو اب اسے فکر ری ایکشنز کی ہے۔ اگر پوسٹ پہ پہلے آدھ گھنٹے میں حسب توقع ری ایکشن (یعنی کمنٹ، لائک، ہارٹ، شیئر) وغیرہ نہیں آئے تو اسیر کو ڈپریشن ہونے لگتا ہے۔ وہ پوسٹ کو دو چار بار خود پڑھتا ہے، مسکراتا ہے یا دکھی ہوتا ہے جیسے ایک قاری اور پھر مزید دکھی ہو جاتا ہے کہ ابھی تک ری ایکشنز کیوں نہیں آ رہے۔ اگر ری ایکشنز کی کثیر اور حسب توقع تعداد اکٹھی ہو جائے تو اسیر کا اگلا ٹاسک شروع ہو جاتا ہے۔ اب وہ گنتا ہے کہ لائیک کتنے ہیں، دل کتنے ہیں، لافٹر کتنے ہیں اور ارے یہ غصے والا ایموجی کیوں اور کس کا ہے؟ وہ اس اینگری ایموجی والے کی وال پہ جاتا ہے کہ اسے جان سکے۔ کچھ تو بس ایسے ایموجی والے کو فوراً بلاک کر دیتے ہیں (اگرچہ اپنی کسی دوسری آئی ڈی سے اسے فالو بھی کرتے ہیں کہ مخالف پہ نظر رکھنا ضروری ہے) اور کچھ اس کے اپنے مشترکہ دوست ڈھونڈ کر اسکی شکایت لگاتے ہیں کہ دیکھیے آپ کے ہارون کی پوسٹ پہ قارون نے غصہ والا ایموجی دیا ہے، اب شارون کے ہوتے ایسا ہو تو یہ پھر دوستی تو نہ  ہوئی نا۔

ایک عذاب مرحلہ کمنٹس کا ہے۔ اسیر ہر کمنٹ کو پڑھتا ہے، اکثر کا جواب دیتا ہے یا پھر کم از کم لائیک کرتا ہے، ایک تو اس سے تماشائیوں سے انگیجمنٹ بڑھتی ہے اور دوسرا ایسا مانا جاتا ہے کہ اس سے ریچ بھی بڑھتی ہے۔ اسکے علاوہ ایک دو دن بعد پوسٹ کو “ترونکا” مار کر تازہ بھی کیا جاتا ہے۔ اسیر کو اب اس پوسٹ پہ مسلسل پہرہ بھی دینا ہے کیونکہ کچھ بدتمیز لوگ ناگفتہ قسم کا کمنٹ کر دیتے ہیں جو اسیرِ برداشت نہیں کر سکتا اور اسکا بلڈپریشر بڑھ جاتا ہے۔ چنانچہ یا تو وہ ایسے ناخلف تماشائی کو فوراً بلاک کر دیتا ہے یا پھر ہارون بھائی قارون   بھائی والی کہانی شروع ہو جاتی ہے۔

اس بدتمیزی کا شکوہ آپ کو اکثر اسیروں کی وال پہ ملے گا۔ وہ شکوہ گو رہتے ہیں کہ بدتمیزی بہت بڑھ گئی ہے۔ انکے لئے لکھنا بولنا مشکل ہو چکا ہے۔ اس پہ وہ ایک علیحدہ سے پوسٹ کر سکتے ہیں بلکہ جب کرنے کو کچھ نہ ہو تو یہی کچھ کر لیتے ہیں۔ ایسی پوسٹ التجائیہ بھی ہوتی ہے اور دھمکی آمیز بھی۔ کچھ اسیر ہر ایک دو ماہ بعد “نئے آنے والوں” کیلئے ایک “ہدایت نامہ” بھی جاری کرتے ہیں۔ “تماشے کے رہنما اصول” قاری کو سکھاتے ہیں کہ اگر وہ واقعی دانش کشید کرنا چاہتا ہے تو کیسے اسے صمُٗ بکمُٗ ہو کر فقط “واہ مرشد، آپ لیجنڈ ہیں” ٹائپ تالی   بجانی ہے۔ کیسے کسی بات پہ ہنسی یا رونا آئے تو اسیر کی نظر سے بچ  کر نکالنا ہے۔ اور ساتھ بتایا جاتا ہے کہ ہدایت نامے کی خلاف ورزی آرٹیکل چھ سے زیادہ مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔ کچھ اسیر اپنے بلاک شدگان کی فہرست گاہے بہ گاہے جاری کرتے رہتے ہیں تاکہ عوام میں خوف برقرار رہے اور وہ انڈے کے چھلکوں پہ چلتے ہوئے تماشا دیکھیں۔

آپ کسی اسیر سے ملیے، وہ آپ سے مل کر بھی آپ کے ساتھ نہیں ہو گا۔ وہ دوران گفتگو اپنی کسی پوسٹ پہ یا مسکرا رہا ہو گا یا اس پہ آئے کسی کمنٹ پہ  پیچ و تاب کھا  رہا ہو گا۔ اسی لاتعلقی میں ہو سکتا ہے کہ آپ اسے اپنے والد کی وفات کا قصہ سنا رہے ہوں اور وہ کھلکھلا کر ہنس پڑے کیونکہ اس نے اچانک دیکھا کہ اسکی پوسٹ پہ شازیہ ویزوں والی یا معاذ کینگرو نے کوئی چٹکلا چھوڑ دیا ہے۔ ہو سکتا ہے آپ کوئی فلسفیانہ سی گفتگو کرنے کی کوشش کر رہے ہوں کہ سیکھ سکیں اور وہ یکدم خودکلامی کرے “ایس بندے نُو ں تے بلاک کرو”۔ آپ سوچتے ہیں کہ “دکھ تو یہ ہے کہ وہ ہمارے نہ  ہوئے”۔ اگر اسیر گفتگو پہ مائل بھی ہو تو وہ اس بات میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے کہ آپ اسکی چار چھ پوسٹوں کا ذکر کر کے اسے لیجنڈ کہیں، نا کہ اس سے حالات حاضرہ پہ فضول گفتگو کریں۔ اس گفتگو کے دوران وہ آہ بھر کر زمانے کی ناشناسی، ریچ، ری ایکشن اور بدتمیزی پہ فلسفیانہ گفتگو بھی کرے گا اور اگلی پوسٹ کا کانٹینٹ بھی سوچے گا۔

آپ کسی اسیر سے بھی کہیے کہ وہ اسیر ہے، وہ کبھی نہیں مانے گا۔ ہر سگریٹ نوش کی مانند بتائے گا کہ وہ جب چاہے سوشل میڈیا چھوڑ سکتا ہے گو وہ ‘جب کبھی” اب نہیں بنتی۔ پھر وہ اپنے لکھنے بولنے کو اپنا ایکسپریشن، ذات کا اظہار وغیرہ وغیرہ بتائے گا۔ پوچھیے کہ آخر اتنے جھمیلوں میں پڑنا ضروری ہی کیوں ہے؟ وہ کہے گا “میں تو بس اس قوم کا قرض اتار رہا ہوں” یا “میں تو بس اپنے لیے لکھتا ہوں، ذات کا اظہار وغیرہ وغیرہ”۔ آپ مسکرا کر کہیے کہ پھر تو کمنٹس کو “فرینڈز اونلی” کر کے یا کمنٹس بند کر کے بھی لکھا جا سکتا ہے، پھر ریچ اور ری ایکشن کے شکوے کیوں؟ پھر سوائے اپنی پوسٹ کے، کسی اور کو نہ  پڑھنا کیوں، پھر یہ بے چینی اور اینگزائٹی کیوں؟

مگر رکیے، یہ مت پوچھیے گا،ورنہ  آپ بلاک ہو جائیں گے۔

Facebook Comments

انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply