دنیا اس قدر تیزی سے بدل رہی ہے کہ اب تو حیرت بھی نہیں ہوتی۔ انہی تبدیلیوں کی وجہ سے اج کل ہماری زندگیوں میں نئی نئی چیزیں اور نئے نئے کردار اس قدر تیزی سے شامل ہو رہے ہیں اور فراڈ کے ایسے نئے نئے طریقے سامنے آ رہے ہیں جو پہلے دیکھے نہ سنے یا پھر جو بظاہر فراڈ نہیں لگتے لیکن ہوتے دھوکہ ہی ہیں۔ اسی لیے ان دو نمبر لوگوں کی وجہ سے انسان مجبور ہو جاتا ہے کہ کچھ لوگوں کو چند مخصوص ناموں سے یاد کرے۔!
اس دفعہ میں آپ کی ڈکشنری میں دو الفاظ کا اضافہ کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔ یہ دونوں الفاظ یقینا آپ کے لیے نئے ہوں گے۔ لیکن ان الفاظ کو تخلیق کرنے کے پیچھے بہت سے تلخ تجربات اور بہت سی کہانیاں ہیں ۔۔ جب اپ یہ مضمون پورا پڑھ لیں گے تو آپ اس بات سے ضرور اتفاق کریں گے کہ ان پیشوں میں بہت سے افراد کے لیے یہ نام نہایت ہی موزوں ہیں ۔
سوشل میڈیا پر آنے والے انقلاب کے بعد اور خاص طور پر کمائی کا دھندا بن جانے کے بعد دھوکا بازی کے نت نئے طریقے بھی سامنے آرہے ہیں۔ جس میں یوٹیوب اور دوسری سوشل ایپلیکیشنز شامل ہیں۔ ان پر موجود ویڈیوز اور ریلز وغیرہ کے عنوان اور تھمب نیلز میں دھوکہ دہی کی جاتی ہے اور غیر متعلقہ یا جذباتی مواد پیش کیا جاتا ہے تاکہ ان کے ویوز بڑھیں۔ اکثران ویڈیوز میں مواد کے سیاق و سباق کو یکسر تبدیل کر کے پیش کیا جاتا ہے۔ جبکہ بعض ویڈیوز میں وہ مواد ہی نہیں ہوتا جس کا ٹائٹل میں ذکر ہوتا ہے یا جیسے خبروں یا واقعات کو غلط تناظر میں پیش کیا جاتاہے۔ بہت سی پرانی ویڈیوز کو حالیہ واقعات کے تناظر میں یوں دکھایا جاتا ہے جیسے یہ آج کل کی ہی بات ہے۔۔ یا پھر کچھ ویڈیو میں ایک ایک خاص قسم کی دھوکہ دہی کی جاتی ہے مثلاً عنوان ہوتا ہے شیر کا شکار مگر ویڈیو میں صرف بلی دکھائی جاتی ہے یہ بتاتے ہوئے کہ خالہ ہوتے ہوئے اس کا تعلق بھی شیر سے بنتا ہے۔
پہلے یہ چیزیں اکا دکا ہی ہوتی تھیں لیکن اب تو بیشتر ویڈیو میں یہی دھندا چل رہا ہوتا ہے۔ اور لوگوں کو اس خوبصورتی سے بے وقوف بنایا جاتا ہے کہ لوگوں کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ اصل معاملہ کیا ہے۔
اسی لیے بہت سی ویڈیوز شروع سے اخر تک دیکھنے کے باوجود جب کچھ نتیجہ نہیں نکلا اور مجھے احساس ہوا کہ میری طرح اور ہزاروں لاکھوں لوگوں کو بے وقوف بنایا گیا ہے تو میں نے اس قسم کے لوگوں کے لیے ایک خاص لقب “جھوٹیوبر” تجویز کیا ہے اور اس صورتحال یہ انہیں یہ لقب دینا کچھ زیادہ غلط بھی نہیں لگتا۔اگرچہ یہ لفظ “جھوٹ” + “یوٹیوبر” کا مزاحیہ امتزاج ہے، اور سوشل میڈیا کی اس دھوکہ دہی پر ایک طنزیہ تبصرہ بھی۔ لیکن یہ سوشل میڈیا کی تمام ایپلیکیشن پر دھوکہ کرنے والے تمام افراد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
دھوکہ دہی کرنے والے “جھوٹیوبرز” محض چند پیسے کمانے کی خاطر درحقیقت اپنے ناظرین کے ساتھ خیانت کرتے ہیں، جو اسلامی اصولوں کے خلاف ہے۔ ایک تو اس قسم کے مواد سے عوامی اعتماد کم ہوتا ہے اور دوسرے ایمانداری سے کام کرنے والے تخلیق کاروں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔
جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا: “وہ اللہ اور ایمان والوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں، مگر درحقیقت وہ اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں” ۔
لہٰذا، ان تمام لوگوں کے لیے “جھوٹیوبر” جیسی اصطلاح استعمال کرنا نہ صرف ان کے رویے کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ معاشرے میں ایمانداری کو فروغ دینے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ اور اگر تمام صارفین اگر ایسے لوگوں کو “جھوٹیوبر” کہہ کر شناخت کرنا شروع کردیں تو ان کا احتساب کرنا آسان ہو جائے گا۔۔ اور ہو سکتا ہے کہ وہ اس قسم کی ویڈیوز بنانے سے باز بھی ا جائیں۔
۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔
اب اتے ہیں دوسرے لقب “ڈاکٹو” کی طرف۔۔ڈاکٹو کا لقب بھی جھوٹیوبر کی طرح ، ڈاکٹر + ڈاکو، کے الفاظ کا ملاپ کر کے اس لئے ایجاد ہوگیاکہ۔۔۔۔ یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ آج کل زیادہ تر ڈاکٹر یا تو پرائیویٹلی یا پرائیویٹ ہسپتالوں کی کمائی کے چکر میں لوگوں کو لوٹنے پر لگے ہوئے ہیں۔ اور اگر مریض خاص طور پر کمپنی کے پینل پر ہسپتال میں آیا ہے تو سمجھیں پھر وہ لوٹ کا مال ہے اور لاکھوں کا بل بنائے بغیر ہسپتال سے اسانی سے باہر نہیں نکل سکتا۔۔ اسی لئے بعض جگہ تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ڈاکو تو ایک دفعہ معاف بھی کر دیتے ہیں لیکن ڈاکٹر پوری طرح کھال کھینچنے تک اپنا سرجیکل بلیڈ نیچے نہیں رکھتا۔۔
پہلے بے ایمان اور دو نمبر ڈاکٹروں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی تھی اور لوگ نہ صرف انہیں برا سمجھتے تھے بلکہ ایسے ڈاکٹروں کا احتساب بھی کیا جاتا تھا مگر اب صورتحال اس کے برعکس ہو گئی ہے یعنی بے شمار ڈاکٹر حضرات اپنے مقدس پیشے کو مالی مفادات کے لیے استعمال کررہے ہیں اور نیک اور ایماندار ڈاکٹروں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ لالچ کی اس دوڑ میں ہسپتالوں کے مالکان بھی شامل ہیں جن میں سے چند ایک تو فلاحی اداروں کے نام پر بھی قائم ہیں۔ان تمام چیزوں کے علاوہ اب تو یہ شکایت بھی عام ہے کہ بعض ڈاکٹر تو ان سے بھی دو ہاتھ اگے ہوتے ہیں اگر مریض ان کے پاس پھنس جائے تو شاید وہ ہسپتال کے دباؤ میں یا اپنے پیسے کمانے کے چکر میں مریض کا غیر ضروری اپریشن بھی کر ڈالتے ہیں۔۔
مضمون لکھتے ہوئے خیال آگیا برسوں پہلے “ڈاکٹو امتیاز زہر” (اصلی نام نہیں ہے۔)نے میرے صحت مند کو، پتہ جس میں ایک “ذرہ” بھی پتھری کا نہیں تھا۔۔ محض اپنی کمائی کے لیے نکال کر میرے ہاتھ میں پکڑا دیا۔۔انہوں نے ہمیں کچھ اس طرح گھبرایا کہ سیکنڈ اوپینین بھی لینے نہیں دی اور ایک مہنگے ہسپتال میں میرا آپریشن کر دیا اور جو کام پتے کی خرابی کی صورت میں میرے گھر کے نزدیک ایک اچھے ہسپتال میں 15 ہزار میں ہوتا۔ اس کے لیے، بلکہ اپنا صحت مند پتہ نکلوانے مجھے 89 ہزار روپے دینے پڑے۔
لیکن افسوس ابھی ان اداروں کے لیے ایسا کوئی لفظ تجویز نہیں کیا گیا۔
اپنے پیشے سے یہ خیانت نہ صرف اخلاقیات کے خلاف ہے بلکہ مریضوں کے ساتھ دھوکہ دہی کے مترادف بھی ہے۔ جس طرح “جھوٹیوبر” کا لقب دھوکہ باز یوٹیوبرز کے لیے موزوں ہے۔۔ اسی طرح “ڈاکٹو” کی طنزیہ اصطلاح ان ڈاکٹرز کے لیے بھی درست محسوس ہوتی ہے جو طب کے بجائے لوٹ مار کو ترجیح دیتے ہیں ۔
اگرچہ “ڈاکٹو” جیسی وضع شدہ اصطلاح پر عام لوگوں کو شاید نہ صرف طنزیہ ہنسی بھی آتی ہوگی بلکہ دل کی گہرائیوں سے وہ اس لفظ کو خوش امدید بھی کہنے کے لیے تیار ہوں گے۔ کیونکہ اب تو ایسا لگتا ہے کہ ہر شخص کسی نہ کسی طرح کسی ڈاکٹر کے ہاتھوں لٹا ضرور ہے۔ اس کے علاوہ ”ڈاکٹو” لفظ کو سن کر ایک گہرا سماجی سوال بھی اٹھتا ہے اور وہ یہ کہ ڈاکٹری تو خدمت کا پیشہ ہے، نہ کہ لوٹ مار اور کمیشن خوری کا۔۔ جب لوگ ڈاکٹر بنتے ہیں تو حلف اٹھاتے ہیں کہ میں مریضوں کی خدمت کروں گا اور طب کا یہ پیشہ اسی بات کا تقاضا کرتا ہے۔
جب ڈاکٹر مریضوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں تو بلاشبہ وہ “ڈاکوؤں” جیسا رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔ جس میں بلا ضرورت مہنگے ٹیسٹ کروانا، فالتو ادویات لکھنا، یا نجی ہسپتالوں/لیبارٹریز سے کمیشن لینا۔ یہ سب مریض کے ساتھ نہ صرف دغا بازی ہےبلکہ اس کی جیب کے ساتھ ظلم بھی ہے۔ جبکہ بعض اوقات تو غریب مریض علاج کے قابل ہی نہیں رہتے، کیونکہ ڈاکٹرز کی فیس اور ٹیسٹس کی فہرست ان کی پہنچ سے باہر ہوتی ہے۔۔
– قرآن میں فرمایا گیا: “اور لوگوں کے مال ناحق مت کھاؤ”(البقرہ: 188)۔
ایک ڈاکٹر اور ڈاکٹر کو اسانی سے اپ پہچان سکتے ہیں جو ڈاکٹر۔۔
– معمولی بیماری پر بھی MRI، سی ٹی اسکن جیسے مہنگے ٹیسٹ کا مشورہ دینا۔
* -مخصوص دواساز کمپنیوں کی ادویات، جن پر ڈاکٹر کو کمیشن ملتا ہو۔
– نجی ہسپتال/کلینک کی طرف رجوع کرانا: جہاں ڈاکٹر کا ذاتی مفاد وابستہ ہو۔
– غیر شفاف فیس: علاج شروع کرنے سے پہلے مریض کو مکمل خرچہ نہ بتانا۔
ان میں سے ایک چیز بھی جس ڈاکٹر میں موجود ہوگی وہ ڈاکٹر نہیں سیدھا سیدھا “ڈاکٹو” ہی کہلائے گا۔
غریب سیدھے سادے عوام بلکہ پڑھے لکھے عوام لوگوں کے لیے بھی ایسے ڈاکٹروں سے بچنا بہت مشکل ہے سو اس سلسلے میں ۔۔
پہلے تو سرکاری ہسپتالوں یا قابل اعتماد ڈاکٹرز سے مشورہ کریں۔
اور دوسرے ڈاکٹر سے رائے لینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔
لیکن پھر بھی اگر مسئلہ ہو تو ہمت کریں اور میڈیکل ایسوسی ایشنز میں شکایت کریں تاکہ وہ ایسے ڈاکٹرز کے خلاف کارروائی کریں۔۔ جو بظاہر ایک مشکل کام لگتا ہے۔کیونکہ اول تو اتنی درد سری کوئی مول لے گا نہیں اور دوسرے ایسا لگتا ہے کہ اس دھندے کو اب مافیا کے طور پر چلایا جا رہا ہے
اس کا دوسرا بہترین طریقہ سوشل میڈیا پر آگاہی پھیلانا ہے۔ ایسے ڈاکٹرز کو معاشرتی طور پر بے نقاب کرنا چاہیے تاکہ طب جیسی عظیم خدمت کا تقدس برقرار رہے۔۔
اس کے علاوہ ان ڈاکٹرز کی تعریف کی جانا ضروری ہے جو ایمانداری سے کام کرتے ہیں، تاکہ معیار قائم رہے۔

اگرچہ تمام ڈاکٹرز قابل مذمت نہیں ہیں۔۔ دنیا میں ابھی گنے چنے ڈاکٹر بھی ہیں جو ایمانداری سے اپنا کام کرتے ہیں اور وہ دنیامیں بھی رشک کی نگاہ سے دیکھے جانے لگتے ہیں اور ان کی عاقبت بھی بھلی ہوتی جاتی ہے، لیکن جو لوگ اس مقدس پیشے کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں، وہ واقعی “ڈاکٹو” (ڈاکو+ ڈاکٹر) کے لقب کے مستحق ہیں۔
جیسا کہ اقبال نے کہا تھا:
وہ علم نہیں، زہر ہے احرار کے حق میں
جس علم کا حاصل ہے فقط روزی کا حصول۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں