• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پاکستان بھارت تعلقات معمول پر لانے کا وقت؟-ارشد بٹ

پاکستان بھارت تعلقات معمول پر لانے کا وقت؟-ارشد بٹ

پاک سعودی سٹریٹجک دفاعی معاہدہ کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں پاکستان ایک بڑاعسکری اور سفارتی پلیئر بن کر ابھرا ہے۔ اس معاہدہ کے بعد مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن بدلنے کی پیش گوئی کی جارہی ہے۔ ایک نیوکلیئر پاور مگر کمزور معیشت کے حامل پاکستان نے سعودی عرب کے علاوہ دیگر عرب ممالک کو سیکورٹی تحفظات فراہم کرنے کے سوال پر مثبت رویے کا اظہار کیا ہے۔ بدلتے ہوئے عالمی پس منظر میں مشرق وسطیٰ میں پاکستان کے کردار کو اہم گردانا جا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کے علاوہ ترکیہ، ایران اور مصر نے بھی اس معاہدہ کا خیر مقدم کیا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ پاکستان نہ صرف ایک بڑا ملک بلکہ ایک بڑی عسکری طاقت بھی ہے۔ مگر یہ بات بھی ڈھکی چھپی نہیں کہ نیوکلئیر پاورہونے کے باوجود پاکستان کی معیشت بحرانوں کے زد میں ہے۔ قرضوں کی محتاج معیشت نے صنعتی ، زرعی اور جدید ٹیکنالوجی کی ترقی کی راہ میں بند باندھ رکھے ہیں۔ ہمسایہ ملک بھارت سے کشیدگی اور دہشت گردی نے معاشی بحران کی جڑیں مزید گہری کی ہیں۔ حکمران اشرافیہ کی ناقص معاشی پالیسیوں سے ملکی برآمدات بڑھنے کا نام نہیں لے رہیں جبکہ درآمدات پر بڑھتے ہوئے انحصار نے ملکی معیشت کی کمر توڑ رکھی ہے۔ ملکی معیشت کا ایک بڑا سہارا اوورسیز پاکستانیوں کا سالانہ اٹھتیس ارب ڈالر کا زرمبادلہ بھیجنا ہے۔ ان حالات میں انسانی ترقی اور خوشحالی پر وسائل خرچ کرنا ریاست کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی پچیس فیصد سے زیادہ آبادی یعنی چھ کڑوڑ انسان غربت کی لکیر سے نیچے زندہ رہنے پر مجبور ہیں۔ دہی علاقوں میں غریب عوام کی بڑی اکثریت تعلیم، طبی سہولیات اور روزگار کے حصول سے محروم ہیں۔ جس سے مزید کڑوڑوں غریبوں کا غربت کی لکیر سے نیچے گرنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ سیاسی عدم استحکام کا تسلسل الگ مسائل کی پرورش کرتا رہتا ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ دنوں لندن میں اوورسیز پاکستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ پاکستان بھارت معرکہ کے بعد جنگ بند ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا اب ہم امن، ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں۔مسئلہ کشمیر، پانی کے مسائل، تجارت اور انسداد دہشگردی پر بھارت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بیان واضع اقرار ہے کہ ہمسایہ ممالک خصوصا بھارت کے ساتھ پر امن تعلقات کی بحالی کے بغیر ترقی اور خوشحالی حاصل بہت دشوار ہے۔ متنازعہ مسائل کے حل کے لئے بات چیت کے دروازے کھولنے کی پاکستانی خواہش کو ایک اہم پیش رفت کہا جا سکتا ہے۔ مگربھارتی حکومت نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے بیان پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف کے مذکورہ بیان سے اخذ کیا جا سکتا ہے کہ بھارت کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع کر کے پاکستان جنوبی ایشیاء میں حالات کو معمول پر لانے کی طرف بڑھنا چاہتا ہے۔ تاکہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں سرگرم کردار ادا کرتے ہوئے اپنی سرحدوں پر بھارتی دباو محسوس نہ کرے۔ یہاں غور طلب پہلو ہے کہ کیا بھارت، پاکستان کے بین الاقوامی کردار میں اضافے کی راہ میں حائل مشکلات کو کم ہونے دے گا۔ کیا مودی سرکار چار روزہ فضائی معرکہ آرائی میں خفت اٹھانے کے بعد پاکستان کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات پر آمادہ ہو جائے گی۔ اس وقت مودی سرکار کو ملک میں حزب مخالف کی شدید مزاخمت کا سامنا ہے۔ اس لئےبھارتی سرکار کا پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہونا آسان فیصلہ نہیں ہو گا۔
ایک طویل عرصہ سے دونوں ملکوں کے حکمرانوں میں باہمی اعتماد، سیاسی ارادے اور فیصلہ سازی کا فقدان پایا جاتا ہے۔پاکستان کی طرف سےبلوچستان میں علیحدگی پسند شورش اور خیبر پختون خواہ میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے پیچھے بھارتی ہاتھ ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ دوسری طرف انڈیا میں دہشت گردی کے واقعات میں پاکستان کے ملوث ہونے کے دعوےٰ کئے جاتے ہیں۔پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ تنازعہ کشمیر ہے۔ اس تنازعہ کا قابل قبول حل تلاش کئے بغیر جنوبی ایشیاء میں کشیدگی اور جنگی ماحول سے نجات حاصل کرنا بہت کٹھن ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان متعد جنگیں تقسیم شدہ جموں کشمیر کے سٹیٹس میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکیں۔ اگست ۲۰۱۹ کو انڈین آئین میں ترمیم کرکے ریاست جمو ں و کشمیر کو انڈین یونین کا حصہ بنا کر اسکی نیم خودمختارانہ حثیت کا خاتمہ کر دیا گیا تھا۔ در حقیقت ایل او سی دونوں ملکوں کے درمیان ڈی فیکٹو سر حد کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ مگر دونوں ملک اعلانیہ یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اب عالمی سفارتی حلقوں میں کشمیر میں لائن آف کنٹرول کو مستقل بین الاقوامی سرحد تسلیم کرنے کی گفتگو کا چرچاہے۔ کہا جا رہا ہے کہ عالمی طاقتیں اور مشرق وسطیٰ میں پاکستان کے دوست ممالک تنازعہ کشمیر کو تبدیل ہوئے عالمی پس منظر میں حل کرانے میں دلچسپی ظاہر کر سکتے ہیں۔
پاک سعودی دفاعی معاہدہ کے باوجود سعودی عرب اور بھارت کے سفارتی اور تجارتی تعلقات میں سرد مہری آنے کے آثار نہیں ہیں۔ سعودیہ میں لاکھوں بھارتی شہریوں کا بر سر روزگار ہونا اور دونوں ممالک کے باہمی معاشی مفادات انہیں دوستانہ رشتوں میں باندھے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی عسکری طاقت میں اضافہ اور اسکی معاشی ترقی و استحکام ، سعودی عرب کے سٹریٹجک مفادات سے ہم آہنگ ہوں گے۔ دیگر عرب ممالک خصوصا متحدہ عرب امارات کے پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ ان ممالک میں لاکھوں پاکستانی اور بھارتی شہری بر سر روزگار ہیں۔ یہ ممالک سعودی عرب سے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے عسکری کردار کے بعد پاکستان کی معاشی بحالی اور ترقی بنیادی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ عوامی خوشحالی اورعسکری طاقت کے لئے ترقی یافتہ اور مضبوط معیشت ریڑ کی ہڈی کی حثیت رکھتی ہے۔ ایک کمزور اور محتاج معیشت کے ساتھ عالمی سطح پر موثر آزادانہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت برقرار رکھنا ممکن نہ رہے گا۔ جنوبی ایشیاء میں پر امن حالات پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی کنجی ہے۔
اس وقت جہاں مشرق وسطیٰ میں پاکستان کا کردار نمایاں ہو رہا ہے وہاں جنوبی ایشیاء میں سعودی عرب ایک اہم کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آچکا ہے۔ اس پس منظر میں قیاس آرائی کی جا سکتی ہے کہ پاکستان اور بھارت کو مذاکرات جی میز پر بٹھانے میں سعودی عرب سرگرمی دکھا سکتا ہے۔ اس تناظر میں سعودی ولی عہد محمد بن سلیمان کی بیک ڈور سفارتی کاوشوں کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ ملٹی پولر ورلڈ آرڈر کی طرف قدم بڑھاتے حالات میں محمد بن سلیمان کی بیک ڈور سفارتی سرگرمیوں کو امریکہ، چین، روس ۔ ایران اور ترکیہ کے علاوہ کئی ممالک کی حمائت میسر آ سکتی ہے۔ سعودی عرب کے افغانستان کے ساتھ قریبی رشتے استوار ہیں۔ بلوچستان میں شورش اور خیبر پختون خواہ میں دہشت گردی کا تعلق افغانستان اور بھارت سے جوڑا جا تا ہے۔ اس سلسلہ میں بھی سعودی عرب اہم کردار اد کر سکتا ہے۔

julia rana solicitors

مبصرین کا کہنا ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں پاکستان سرگرمی سے اپنا کردار ادا کرنے کی تیاریوں میں ہے۔ پاک سعودی دفاعی معاہدہ کے بعد پاکستان بھارت کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے کے لئے مذاکراتی میز سجانا چاہتا ہے۔ شائد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بھی پاکستان کے ساتھ پس پردہ اس خواہش کا اظہار کر چکے ہوں۔ اس لئے پاک سعودی دفاعی معاہدہ کے بعد وزیر اعظم پاکستان کا لندن میں بھارت کو مذاکرات کی دعوت دینا اہم تصور کیا جاتا ہے۔ مگر بھارت کی طرف سے کوئی تائیدی یاتردیدی بیان سامنے نہیں آیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ نومبر میں صوبہ بہار میں صوبائی انتخابات کے بعد بھارتی حکومت کی طرف سے کوئی موقف سامنے آ سکتا ہے۔ مودی سرکار کو اندرون اور بیرون ملک در پیش مشکلات اپنی جگہ مگر بھارتی حکمران بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے سے زیادہ عر صہ غیر متعلق نہیں رہ سکتے۔ عالمی سطح پر موثر کردار ادا کرنے کے لئے بھارت کو بھی جنوبی ایشیاء میں امن کی ضرورت ہے۔ متنازعہ مسائل کے لئے پرامن مذاکرات شروع کرنے کے سوا پاکستان اور بھارت دونوں کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply