خود آگہی یا ” غیر آگہی “/ڈاکٹر مختیار ملغانی

چنیدہ لوگ دوسروں کی ان نفسیاتی باریکیوں کو بھی بھانپ لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں جنہیں متوسط ذہن دیکھنے سے مکمل قاصر رہتا ہے، یہ نفسیاتی باریکیاں شعور اور لاشعور، دونوں سطحوں سے تعلق رکھتی ہیں۔

ہمارے ہاں ” خود آگہی عذاب ہے ” والے معروف قول نے بہت دھوم مچائی اور دہائیوں تک یہ جملہ استعمال کرنے والے لوگ داد سمیٹتے رہے ، لیکن سوچا جانا چاہئے کہ خود آگہی عذاب کیسے ہے ؟ اسے تو نعمت ہونا چاہئے کہ خود کو پہچاننا کسی بھی شخص کیلئے عذاب کیسے ہو سکتا ہے ، راقم الحروف کے نزدیک اصل عذاب ” غیر آگہی ” ہے، یعنی دوسرے لوگوں کو ان کے لاشعور کی تہہ تک پہچان پانا اصل عذاب ہے، ( معلوم نہیں کی ، غیر آگہی، کی اصطلاح درست ہے یا غلط ، فقط بات سمجھانے کیلئے علامتاً اور مجبوراً استعمال کی گئی ) ۔

یہ چنیدہ لوگ ایسے تفاضلی ادراک کے مالک ہوتے ہیں کہ وہ سامنے والے کے لاشعور کے جام کو اپنے شعور میں انڈیل سکتے ہیں، ان لوگوں کی نفسیاتی ساخت کچھ ایسی ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ تعلقات میں صرف شعوری کمیونیکیشن تک محدود نہیں رہتے بلکہ لاشعوری فضا کو بھی حیرت انگیز تفصیل تک محسوس کر لیتے ہیں، وہ عمومی سماجی روابط سے آگے بڑھ کر احساسات میں چھپی دنیا دیکھ لیتے ہیں، ایسے لوگوں کے سامنے آپ اپنے اضطراب کو ہنسی سے نہیں چھپا سکتے۔

یہ ” غیر آگہی ” کی کیفیت نہایت خطرناک ہے ، کیونکہ یہ فرد کو ایسی نفسیاتی تنہائی میں دھکیل سکتی ہے جہاں پھر بقول شخصے ،

” You have to fight with your own demons”

دوسرا یہ کہ اگر آپ لوگوں کے ان کے ماسک کے پیچھے چھپے ہوئے حقیقی چہرے کو دیکھ رہے ہیں جو دوسرے نہیں دیکھ پا رہے تو گویا کہ آپ ایک آئینہ بن جاتے ہیں، ایسا آئینہ جو سماج کیلئے کسی صورت فائدہ مند نہیں ہے، کیونکہ لوگ اپنی اصلی چہرہ ہر حال میں چھپا کے رکھنا چاہتے ہیں، آپ جونہی ان کی شخصیت کے سائے ( سیاہ پہلو ) کو پہچان لیتے ہیں تو یہی سیاہ پہلو لاشعوری سطح پر واپس آپ پہ حملہ آور ہوتا ہے، یہاں سے آپ کی یہ غیر معمولی صلاحیت بہت لوگوں کیلئے کڑوا گھونٹ ثابت ہوتی ہے کہ سماج کا اجتماعی لاشعور آپ کو قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔

یعنی کہ آپ کو ان مسائل کی جڑ قرار دیا جائے گا جو مسائل آپ نے پیدا نہیں کئے ، صرف ان کا مشاہدہ کیا ہے، آپ پر over thinker ہونے کا الزام دھرا جائے گا اور ادائے دلربائی ( مگر آنکھیں چراتے ہوئے ) سے کہا جائے گا کہ بات کا بتنگڑ بنانا تو کوئی آپ سے سیکھے۔

ایسے لوگ شدید حساس اور خاموش طبع ہونے کی وجہ سے بہت آسانی سے قربانی کا بکرا بنا دیئے جاتے ہیں کہ اجتماعی لاشعور ان کے خلاف برسر پیکار ہوتا ہے، گاہے وہ منطقی طور پر اپنی بات سمجھا نہیں سکتے لیکن محسوس کرتے ہیں کہ کوئی غائبی طاقت ان کا گلا دبائے ہوئے ہے۔

تفاضلی ادراک کے مالک ایسے لوگوں کی کئی اقسام ہو سکتی ہیں جو مختلف طریقے سے دوسروں کے لاشعور تک پہنچتے ہیں، ایک وہ جو نہایت حساس وجدان رکھتے ہیں، یہ لوگ دوسروں کے احساسات کو صرف سمجھتے ہیں نہیں بلکہ اپنے جسم پر ان احساسات کا اثر یوں محسوس کرتے ہیں کہ کبھی کبھار فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کونسے احساسات اس کے اپنے ہیں اور کونسے دوسرے کے ،،،،، دوسری قسم وہ ہے جو اپنی ذہنی حساسیت کی مدد سے دوسروں کے لاشعور میں جھانک کر ان کے مستقبل کی باقاعدہ پیشنگوئی کر سکتے ہیں کہ یہ شخص کیا کرنے والا ہے یا اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے، گویا کہ ایسے لوگ مافوق الفطرت شعور رکھتے ہیں۔ ،،،، تیسری قسم وہ ہے جن کی چھٹی حس بہت تیز ہوتی ہے، وہ کسی بھی شخص کے لاشعور سے ابھرتے اشارات کو اس کے جسم پر آتی تبدیلیوں سے پہچان جاتے ہیں، ،،، چوتھی قسم وہ جن میں مذکورہ بالا تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں، ان کی زندگی نہایت کٹھن ہوتی ہے کہ معلومات کا جو سیلاب ان کے ادراک اور شعور میں گھر کر رہا ہوتا ہے وہ اسے کسی طور ترتیب نہیں دے پاتے، مسلسل ایک بے ترتیبی اور نہایت ذہنی تھکاوٹ کا شکار ہوتے ہیں، اپنے مشاہدات کا اظہار بھی نہیں کر پاتے کہ ہر چیز گڈ مڈ ہوئی ہوتی ہے۔

جیسا کہ عرض کیا کہ کسی بھی فرد کیلئے اس ” غیر آگہی” کیفیت نہایت خطرناک ہے،
سب سے پہلے تو وہ سماجی اقدار کے خلاف جدوجہد شروع کرے گا، سماجی ساخت کو ادھیڑنے کی کوشش کرے گا، اب جو بھی اقدار کسی خاندان یا سماج میں رائج ہیں، ان اقدار کے سراب کو وہ توڑنا چاہے گا مگر بھیانک صورتحال یہ ہے کہ پورا نظام اسی سراب پہ کھڑا ہے، اب کوئی بھی سماج یا خاندان کسی فرد کی ” اندرونی تصدیق ” کی بنا پر سراب کو یوں آسانی سے توڑنے نہیں دے گا،،،،،، اور پھر ایسے فرد کے اپنے لئے نفسیاتی تنہائی مقدر یے کیونکہ وہ اپنی کیفیات کو دوسروں کے ساتھ اس لئے نہیں بانٹ سکتا کہ گہرے پانی کے جانور کبھی سطح پر تیرنے والوں سے دوستی نہیں کر سکتے کہ دونوں مختلف دنیاؤں کے باشندے ہیں، یہ نفسیاتی تنہائی صرف سماجی نہیں بلکہ وجودی سطح پر ہے، یہیں سے پھر شناخت اور شخصیت تحلیل ہونا شروع ہو جاتی ہے جسے سنبھالنے کیلئے اپنے اندرونی شیطانوں سے لڑنا پڑتا ہے .

julia rana solicitors

یہیاں سے پھر شخصیت کے دو روپ سامنے آتے ہیں، ایک وہ جو ان شیطانوں سے لڑتے ہوئے خود کو تباہ کر بیٹھتے ہیں، اور دوسرے وہ جو اس مقام سے کامیاب ہو کر گزرتے ہیں اور اپنی تمام تر توانائیاں سماجی اصلاحات یا تخلیق پہ صرف کرتے ہیں۔
کارل یونگ کی رائے میں نیطشے کا تعلق اول الذکر والی قسم سے ہے، وہ ایک چھلانگ نہ لگا سکنے کی وجہ سے خود کو تباہ کر بیٹھے، جبکہ جرمنی کے خدا شناس ماسٹر ایکارٹ یہ چھلانگ لگانے میں کامیاب ہوئے اور سماج کیلئے مفید ٹھہرے، حالانکہ دونوں تفاضلی ادراک سے مالا مال تھے، نیطشے کے ادراکی اظہار نے مزاحمت کی راہ اپنائی کیونکہ وہ اس خدا داد صلاحیت کو ہتھیار سمجھتے تھے جبکہ ماسٹر ایکارٹ کا اظہاریہ تفہیمی تھا کیونکہ انہوں نے اس صلاحیت کو نعمت کا نام دیا ۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply