سماع سماعت سے ہے۔ ہدایت کے باب میں سننا دیکھنے سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ ماننے کے باب میں سننا اہم ہے، دیکھنا اہم نہیں۔ نہ ماننے والوں نے دیکھ کر بھی نہ مانا اور ماننے والے بن دیکھے مانتے چلے آ رہے ہیں۔ ایمان کے بعد اطاعت بھی ماننے سے تعلق رکھتی ہے۔ نیل کی عبرتناک لہریں دیکھنے کے بعد ماننا قبول نہیں ہوتا۔ ابلیس براہِ راست مکالمہ کرتا ہے لیکن حکم ماننے سے انکار کرتا ہے، استکبار کرتا ہے۔ قرآن میں مومنین کی صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ کہتے ہیں: سمعنا و اطعنا… ’’ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی‘‘۔ ایمان کا تعلق خبر اور مخبر کی تصدیق کرنے سے ہے۔ خبردار کرنے والے آتے رہے ہیں۔ نبیٔ اوّل آدمؑ سے لے کر نبیٔ آخر الزماں خاتم النّبیین حضرت محمد مصطفیﷺ تک من جانب ربِ کائنات اہل دنیا کو خبردار کرنے والے پیَ دَر پیَ مبعوث ہوتے رہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا ارشاد ہے کہ جو چیز گنتی میں آ جائے وہ محدود ہوتی ہے۔ انبیا کی گنتی موجود ہے، ایک لاکھ چوبیس ہزار … لازم ہے کہ سلسلہِ نبوت کی اگر ابتدا ہے تو یہ اپنے اختتام تک بھی پہنچے۔ سو! نبی آخر الزمانؐ مکمل، کامل اور اکمل ہدایت لے کر مبعوث ہوئے۔ دین اسلام بنی نوعِ انسان کے لیے مکمل کر دیا گیا، اب مزید کسی نبی کی ضرورت نہ رہی … کیونکہ انسانِ کاملؐ نے نوعِ انسان تک خالق کائنات اللہ جل جلالہ کا ایک جامع اور مکمل پیغامِ ہدایت پہنچا دیا … اور یوں سلسلہ نبوّت اپنے اختتام تک پہنچ گیا۔
سلسلہ ولایت تاقیامت جاری و ساری ہے، کیونکہ پیغامِ نبوت کی تشریح جاری ہے۔ تشریح کرنے والا منصوص من اللہ ہونا چاہیے۔ پیغامِ نبوت کی حفاظت کارِ امامت ہے اور اس کی تشریح و تصریح کارِ ولایت ہے۔ اللہ کی ایک صفت ولی ہے، اللہ نے خود کو صفتِ ولی سے موصوف کیا ہے۔ اُس نے خود کو ولی کہا ہے، نبی نہیں کہا … اور کسی نبی نے خود کو خدا نہیں کہا۔ نبوت و رسالت … توحید کی علم بردار ہے، وہ اپنے عَمَف کو سرنگوں کیوں ہونے دے گی۔ یہود و نصاریٰ نے اپنے انبیا کو خدا کہہ دیا … شرک کیا، ظلم عظیم کیا۔ قرآن میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰؑ سے دریافت کرے گا کہ کیا تُو نے ان سے یہ کہا تھا کہ وہ تیری عبادت کریں، اور حضرت عیسیٰ ؑ کہیں گے: حاشاللہ … یہ مجھ پر بہتان ہے۔ نبی کو نبی ماننے والا … انبیاء کو فرستادہِ
خدا ماننے والا شرک کی نجاست سے پاک ہو جاتا ہے … کہ فرستادہِ خدا، خدا نہیں ہوتا۔ کلمہ توحید، توحید و رسالت کا مرکب ہے۔ کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے اور محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔ کلمہ شہادت میں رسول خدا کے عبد ہونے اور رسول ہونے کی بیک وقت گواہی دی جاتی ہے۔ معلوم ہوا کہ رسولؐ کو عبد اور رسول کہنے والا انہیں خدا ہرگز نہیں کہے گا۔ پس! کلمہِ توحید پڑھنے والا، کلمہِ شہادت پڑھنے والا … محمد رسول اللہ کی عبدیت اور رسالت کی گواہی دینے والا … شرک اور کفر سے پاک ہے۔ اسی لیے تو کلمہِ توحید کو کلمہ طیبہ بھی کہتے ہیں۔ اس لیے یہ وہم عبث ہے کہ ایک کلمہ گو کبھی شرک کر سکتا ہے۔ زیادہ جاننے والے کم جاننے والوں پر کفر و شرک کے فتاویٰ نہ لگایا کریں … ممکن ہے کم جاننے والے زیادہ ماننے والے ہوں۔ نجات ماننے میں ہے، جاننے میں نہیں۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے: جس کا یومِ پیدایش ہو اور یومِ وفات ہو، وہ خدا نہیں ہوتا۔ توحید کی پہچان رسالت ہے۔ آپؒ کا یہ فرمان کیا خوب ہے: جس طاقت (ذات) کو رسولِ کریمؐ سجدہ کرتے ہیں، اسے اللہ کہتے ہیں۔
ولایت، نبوت کے انتہائی قرب میں ہے اور اس انتہائے قرب کی وجہ سے ولایت رسالت کی مستند ترجمان بھی ہے اور برزخِ کبریٰ (حقیقتِ محمدیہؐ) کے دونوں اطراف کی شاہد بھی ہے۔ توحید و رسالتؐ کے اِس تقرب و اَقرب کی وجہ سے بعض اوقات مخلوقِ خدا کو اولیاء اللہ کی ذات پر الوہیت کا شبہ گزر جاتا ہے … اس لیے ولی اس بہتان سے بچنے کے لیے ہمیشہ خود کو شریعتِ محمدیؐ کی متابعت میں رکھتا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سجدے کی حالت میں جان، جانِ آفریں کے سپرد کرتے ہیں۔ اس کے باوجود گمراہی پر تلے ہوئے نُصیری اُن پر اُلوہیت کا بہتان عظیم باندھتے ہیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم یداللہ اور وجہہ اللہ ہونے کے باوجود اس بہتان سے خود کو بری قرار دیتے ہیں۔
حضرت واصف علی واصفؒ اپنی ایک منقبت در شانِ علیؓ میں کیا خوب فرماتے ہیں:
علی کو میں علیٰ کہہ دوں ولیکن
علی سجدے میں خود تسبیح خواں ہے
بات سماع سے شروع ہوئی تھی۔ سننا اور پھر سنانا سماع ہے۔ اہلِ ولایت وہ سب کچھ سنا دیتے ہیں جو وہ سن چکے ہوتے ہیں … ایک قدیم بات کو … قبل اَز وجود سُنی ہوئی بات کو اپنے زمانے کے طلب اور تقاضوں کے مطابق سُنا دیتے ہیں۔ ان کے خانہِ سماعت و یادداشت میں وہ قول بھی گونجتا رہتا ہے جو باقی لوگ غفلت کی وجہ سے بھلا چکے ہوتے ہیں۔ وہ اپنا عہدِ الست یاد رکھتے ہیں، اور اُس کے جواب میں اپنا قول ’’بلیٰ‘‘ بھی انہیں خوب یاد رہتا ہے۔ یہ عہد و پیمان چونکہ روحوں سے لیا گیا تھا، اِس لیے وہ اسے روح کی سطح پر پہنچ کر یاد کرتے ہیں، اور پھر اجسام و آلام کی دنیا میں آ کر فریاد کرتے ہیں۔ کبھی وہ ’’نَے‘‘ کی تمثیل استعمال کرتے ہیں اور ’’چنبے کی بوٹی‘‘ سے اس حقیقت ِ ازلی کو ہمارے خانہِ شعور تک پہنچاتے ہیں، جس کی کوئی مثال ممکن ہی نہیں۔ کس قدر دشوار ہے … یہ کارِ ولایت! ولایت سے مراد اگر صرف محبت بھی لیا جائے تو محبت سے گزرنا کب آسان ہوا کرتا ہے۔ اولیاء اللہ کو، عارفین حق کو اس عالمِ اجسام میں اپنے عہدِ وفا کی بات سنانے کے لیے انہیں عقلی پلیٹ فارم پر اتر کر بات بیان کرنا ہوتی ہے۔ چونکہ وہ مخلوق کے لیے حتمی حجت نہیں، اس لیے انہیں تمثیل کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ عرفان کی تفہیم و ترسیل کے سلسلے میں کوئی یہاں شعر کی صورت میں بات بتاتا ہے، اور کوئی نثر کے قالب میں ڈھال کر بتاتا ہے۔ بہرحال ازل سے بارِ امانت اٹھانے والا اُس امانت کو اپنے مطلوبہ گوش و ہوش کے سپرد کرنے میں کمال دیانت داری سے کام لیتا ہے اور قرآنی حکم … ’’اور امانت ان کے اہل کے سپرد کرو‘‘ کی بجا آوری میں عمر کی تپسیا کو بروئے کار لاتا ہے۔ کبھی نَے نوازی کرتا ہے، کہیں شعر کہتا ہے اور کہیں نثر رقم کرتا ہے۔ ہمارے دورِ حاضر کے ایک ولی کامل حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں:
ازل سے بارِ امانت ہمیں ملا واصف
ہزار بار تھے اس ایک بار سے پہلے
سننے اور سنانے کے حوالے سے آپؒ کا یہ شعر کس قدر برجستہ و برمحل ہے:
جو سنا تھا، سنا دیا میں نے
یعنی سب کچھ بتا دیا میں نے
اِتفاق کی بات ہے، چند روز قبل قصور سے ذوالفقار علی خان نے اِس شعر کا مطلب دریافت کیا تھا، وائس میسیج میں اگرچہ انہیں اِس کا جواب دے دیا گیا تھا، لیکن دل میں تمنا تھی کہ فرصت کے لمحات میں اسے لفظوں کی صورت میں بھی قلم بند کریں گے۔ اب اِس سفر نامے میں قدرتی طور پر یہ ذکر وارد ہوتا چلا آیا ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں