شکراللہ و الحمدللہ/عارف خٹک

اللہ مرقد کو نور سے بھرے، ہمارے دادا واقعی جلالی شخصیت کے مالک تھے۔ جس جرگے میں بیٹھ کر فیصلہ کرتے، مجال تھی کہ کوئی ان کے فیصلے کے خلاف بولے، بلکہ منہ بنا کر دیکھنے کی جرات بھی نہ کرتا۔

اگر بیٹے حجرے میں چارپائیوں پر بیٹھے ہوتے اور دادا وارد ہوتے تو سب فوراً کھڑے ہوجاتے۔ تب تک دوبارہ نہ بیٹھتے جب تک دادا خود انڈین فلموں کی طرح ہاتھ کے اشارے سے اجازت نہ دیتے۔ دادا ابو میری ہمیشہ سے پسندیدہ شخصیت تھے اور آج بھی ہیں۔ میں نے بچپن ہی سے فیصلہ کرلیا تھا کہ بڑا ہوکر دادا جیسا بنوں گا، ان جیسا بارعب اور دبنگ۔

بچپن میں دادا ابو کے ساتھ بہت وقت گزرا۔ جرگوں میں ان کے پہلو میں بیٹھا اور یہ سیکھا کہ لوگوں سے کس طرح ملا جاتا ہے۔ یہ بھی جانا کہ مرد ایک بار زبان دے دے تو چاہے سورج مغرب سے نکلے اور مشرق میں غروب ہو، مگر اپنی بات سے پھرنا نہیں چاہیے۔

ایک بار میری تائی کا دادی کے ساتھ گھر میں جھگڑا ہوگیا۔ دادی بھی دبنگ خاتون تھیں، سو انہوں نے غصے میں آکر تائی کا خاندانی شجرہ نسب کی شلوار گھر کے بیچ میں لٹکا دی۔ شام کو دادا نے اپنے بیٹے (یعنی میرے تایا) کو مخاطب کرکے کہا
“بیوی کو سنبھالنا مرد کی ذمہ داری ہے۔ ایک بار بندوق سے گولی نکل جائے یا بیوی کی زبان کھل جائے تو الزام نہ بندوق پر آتا ہے نہ عورت پر، قصور اس کا ہوتا ہے جس کی ملکیت ہے۔”

رات کو تایا نے بیوی پر ہاتھ اٹھایا، تو اگلے دن تائی میکے جا کر بیٹھ گئیں۔ دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں بدل گئے، مگر تائی واپس نہ آئیں۔ آخرکار جرگے میں فیصلہ ہوا کہ جیسے جوتی پیر کاٹ لے تو بدلنی پڑتی ہے، ویسے ہی اگر عورت مرد کا احترام کھو دے تو بنا سوچے اسے بدل دینا چاہیے۔

چنانچہ اگلے مہینے تایا نے دوسری شادی کرلی۔ پہلی بیوی کو طلاق دیے بغیر ہمیشہ کے لیے میکے بٹھا دیا۔ اس حرکت کے بعد گھر کی ساری خواتین دبک گئیں۔

اس دن مجھے یہ یقین ہوا کہ دادا کی مردانگی وہی اصل مردانگی ہے جو عورت پر چلتی ہے۔

برسوں بعد جب میرے اپنے بچے جوان ہوگئے تو ایک دن بیگم نے شدید غصے میں مجھے کھری کھری سنا دیں۔ میں نے آئیں بائیں دیکھا، اطمینان کیا کہ کسی نے سنا تو نہیں۔ جب مطمئن ہوگیا کہ معاملہ اندر ہی ہے تو بیگم سے ہاتھ جوڑ کر کہا:
“جیسے چاہو سناؤ، مگر خدارا کسی کے سامنے نہیں۔”

یہ الگ بات ہے کہ کبھی کسی بیوی نے شوہر کی بات سنجیدہ لی ہو! سو میری والی بھی مریخ سے نہیں آئی تھی۔ ان کے ہر لفظ کا خنجر دل کو کچوکے لگاتا رہا۔ میں ایک کمرے سے باہر نکلا تو سامنے منجھلا بیٹا کھڑا مسکرا رہا تھا۔ تاؤ تو بہت آیا کہ ایک لگا دوں، مگر سوچا بچہ ہے، ایسا نہ ہو کہ میری ماں کے سامنے زبان درازی نہ کردے اور رہی سہی عزت بھی جائے۔ میں نظر انداز کرکے نکلنے ہی والا تھا کہ اس نے طنزیہ لہجے میں کہا
“پاپا! آپ تو دادا کی کہانیاں سناتے رہتے ہیں۔ آج دادا کی روح کو بڑی تکلیف ہوئی ہوگی۔”

میں نے سنی ان سنی کر کے قدم بڑھا دیے۔ اب میں اپنے بیٹے کو کیا بتاتا کہ ایک رات کے پہر میں نے دادا کی کیا درگت بنتے دیکھی ہے۔ اللہ معاف کرے، دادی نے دادا کو ماں بہن کی گالیاں دیں، اور دادا لجاجت سے بس یہی کہہ رہے تھے
“سپین گلے، ذرا آہستہ۔۔ کوئی سن نہ لے۔”

julia rana solicitors london

میں تو اللہ کا شکرگزار ہوں کہ میری بیگم کم از کم مجھے ماں بہن کی ننگی گالیاں نہیں دیتی، زیادہ سے زیادہ  کھوتا یا “ھ” دو چشمی ہٹالیں باقی الحمدللہ دادی جیسی بستی نہیں کرتی۔

Facebook Comments

عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply