• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • لندن : تارکینِ وطن کے خلاف سفید فام قوم پرستوں کا مظاہرہ اور مذہب بیزار پاکستانیوں کا کردار /وحید مراد

لندن : تارکینِ وطن کے خلاف سفید فام قوم پرستوں کا مظاہرہ اور مذہب بیزار پاکستانیوں کا کردار /وحید مراد

چند روز قبل لندن میں دائیں بازو کے سفید فام قوم پرستوں کی جانب سے ایک اینٹی امیگریشن مظاہرہ(Unite The Kingdom) منعقد ہوا جس میں میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک لاکھ دس ہزار سے زائد افراد شریک ہوئے۔ یہ ریلی برطانوی پارلیمنٹ کے قریب منعقد کی گئی جس کے منتظم دائیں بازو کے سخت گیر رہنما ٹامی رابنسن تھے۔

مظاہرین نے نہ صرف امیگریشن مخالف بلکہ کھلے عام اینٹی مسلم نعرے بھی لگائے۔ پولیس نے مظاہرین اور ان کے مخالفین کو علیحدہ رکھنے کے لیے بیریئر لگائے مگر شرپسند عناصر نے بیریئر توڑنے، پولیس پر پتھراؤ اور حملے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں 26 پولیس افسر زخمی اور 25 مظاہرین گرفتار ہوئے۔ بعض افراد نے حال ہی میں قتل ہونے والے امریکی دائیں بازو کے رہنما چارلی کرک کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور اس کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ ٹامی رابنسن نے اپنے خطاب میں کہا کہ “برطانیہ جاگ چکا ہے، سرحدیں ہمارا مستقبل ہیں اور ہمیں اپنی آزادی چاہیے”۔

جیسا کہ پہلے سے خدشہ ظاہر کیا گیا تھا، مظاہرے میں مسلم تارکینِ وطن کو نشانہ بناتے ہوئے نعرے لگائے گئے کہ انہیں برطانیہ سے نکال کر اپنے ممالک واپس بھیجا جائے۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ ریلی صرف امیگریشن مخالف نہیں بلکہ مسلمانوں کے خلاف خوف اور نفرت کو ہوا دینے کا ذریعہ تھی۔

کچھ اطلاعات کے مطابق ایلون مسک نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے مظاہرے سے خطاب کیا اور کہا کہ برطانیہ میں حکومت کو بدلنا چاہیے، پارلیمنٹ کو تحلیل کر کے نئے انتخابات کرائے جائیں، لوگ باہر نکلیں اور لڑنے یا مرنے کے لیے تیار ہوجائیں (fight back or die) ۔ برطانوی حکومت نے ان بیانات کو اشتعال انگیز اور امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا جبکہ میٹروپولیٹن پولیس نے اعلان کیا کہ شناخت شدہ شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ لندن کے میئر صادق خان نے کہا کہ پولیس پر تشدد ناقابل قبول ہے۔ لیفٹ وِنگ سیاستدانوں نے فاشزم کو لندن کی پرامن گلیوں میں ناقابلِ برداشت قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کی اصل قدریں کثرتیت، رواداری اور کمیونٹی کی یکجہتی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں برطانوی پارلیمنٹ میں مذہبی عدالتوں اور شریعہ کونسلز کے معاملات بھی زیرِ بحث آئے۔ جب یہ سوال اٹھایا گیا کہ آیا حکومت شریعہ کورٹ پر پابندی لگانے پر غور کر رہی ہے تو وزارتِ انصاف نے وضاحت کی کہ ایسی کوئی منصوبہ بندی نہیں ہو رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک تمام فریق راضی ہوں، شریعہ کونسلز اپنے کام جاری رکھ سکتی ہیں۔ لوگ شادی، طلاق اور خاندانی مسائل میں رہنمائی کے لیے مذہبی کونسلز کا رخ کر سکتے ہیں اور حکومت اس عمل کو سماجی طور پر برداشت کرتی ہے۔

یہ عدالتیں صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ عیسائی، یہودی اور دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی اپنی مذہبی عدالتوں یا کونسلز کے ذریعے نجی معاملات (مثلاً شادی، طلاق، کاروباری تنازعات، کوشر خوراک، سرٹیفیکیٹس وغیرہ) طے کرتے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ برطانوی اقدار اور مذہبی رواداری کے اصول کے عین مطابق ہے۔

یہ بات بھی واضح کر دی گئی کہ برطانیہ میں شرعی قانون کوئی متوازی ریاستی قانون نہیں بلکہ صرف مذہبی و خاندانی سطح پر صلح صفائی تک محدود ہے۔ ممبر پارلیمنٹ طاہر علی نے تجویز دی کہ مذہبی نصوص کی توہین کے خلاف قانون بنایا جائے تاکہ نفرت اور تشدد کو روکا جا سکے۔ وزراء نے تسلیم کیا کہ مذہبی آزادی برطانیہ کی ایک بنیادی قدر ہے اور لوگوں کو اپنے عقیدے کے مطابق بلا خوف عبادت کا تحفظ اور حق حاصل ہونا چاہیے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری بھی ہے۔

ان سارے معاملات میں سب سے دلچسپ کردار پاکستانی مذہب بیزار طبقے کا ہے جو برطانیہ، یورپ اور امریکہ میں مقیم ہے۔ ان میں کئی اعلانیہ ملحد ہیں مگر زیادہ تر جعلی شناخت اور آئی ڈیز کے سہارے اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں۔ یہ لوگ محدود حلقوں میں مل بیٹھتے ہیں یا فیس بک، ٹوئٹر، یوٹیوب اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات پھیلاتے ہیں۔ ان کا عام مؤقف یہی ہوتا ہے کہ مذہبی روایات تحقیق کے بغیر تسلیم کی جاتی ہیں ۔ ان کے مباحثوں میں آزادی اظہار، حقوقِ نسواں اور مذہبی انتہا پسندی کے نعروں کی بھرمار ہوتی ہے۔

یہ لوگ “سابقہ مسلمز” کی ایک تنظیم بھی چلا رہے ہیں جس کا نام CEMB ہے۔ بظاہر یہ تنظیم آزادی ضمیر اور اظہار رائے کا دفاع کرتی ہے اور دائیں بازو کی نفرت انگیز تحریکوں کے خلاف دعوے کرتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ سفید فام شاؤنزم کا سب سے بڑا سہارا بھی یہی لوگ ہیں۔ سوشل میڈیا پر شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بن کر یورپی اور امریکی عوام کو اکساتے ہیں کہ وہ مسلمان تارکینِ وطن کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور حکومت کو مجبور کریں کہ مسلمانوں کو واپس ان کے ملکوں میں بھیجے۔

یہ لوگ برطانوی حکومت کی مذہبی رواداری پر بھی مسلسل تنقید کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ لیبر پارٹی اسلامسٹوں کی ہمدرد ہے، اسی لیے مسلمانوں کو عبادات اور رسومات کی آزادی دے رکھی ہے۔ اپنی تحریروں میں یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ برسوں سے مغرب میں مقیم ہیں اور یہاں مسلمانوں کے خلاف شدید نفرت دیکھ رہے ہیں۔ ان کے بقول مسلمان اپنی عیدیں، محرم کے جلوس، مساجد اور مدارس کی وجہ سے مغربی سماج کے لیے بوجھ ہیں، جرائم بڑھا رہے ہیں اور صفائی کے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ گویا یہ حضرات اپنے ہی لوگوں کو مغربی تہذیب کے لیے “زہر قاتل” قرار دیتے ہیں۔ ہو سکتا ہے ان معاملات میں جزوی صداقت بھی ہو لیکن یہ لوگ رائی کو پہاڑ بنا کر دکھاتے ہیں۔

مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ یہی حضرات خود انہی ممالک میں ویزوں، قومیت یا پناہ گزینی کی بدولت رہ رہے ہیں۔ اکثر نے سیاسی پناہ کے لیے کہانیاں گھڑیں کہ ہمیں اپنے عقائد کی وجہ سے جان کا خطرہ ہے۔ انہی معاشروں کے ٹیکس پر پلتے ہیں، انہی کی آسائشوں اور سہولتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں مگر دن رات انہیں نصیحت کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو یہاں سے نکال دو۔ جیسے کسی شادی میں مہمان شور مچاتے ہوئے میزبان سے مطالبہ کرنے لگے کہ بریانی کم ہے اور قورمہ بھی پھیکا ہے نمک زیادہ ہونا چاہیے تھا۔

مطلب وہ گورے جو صدیوں سے وہاں رہتے ہیں، ان کے نزدیک کم فہم ہیں اور یہ صاحب جو کل تک اپنے محلے کی دکان سے ادھار پر سگریٹ لیا کرتے تھے آج مغرب کو بتا رہے ہیں کہ مسلمانوں سے کیسے ڈیل کرنا چاہیے۔ ان کا حال اس کرائے دار کی طرح ہے جو مالک مکان کو ہی سمجھانے لگے کہ یہ دیوار ہٹا دو، کھڑکی دوسری طرف لگا دو اور صحن میری مرضی سے ڈیزائن کرو۔

یہ مغربی معاشروں کی سہولتوں پر جیتے ہیں لیکن لبرل سیاست کو حماقت قرار دیتے ہیں۔ مغرب کے صدیوں پرانے قوانین اور تجربے کو اپنی فیس بکی دانشوری سے پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے کوئی نکڑ کا کھلاڑی آئی سی سی کے قوانین پر بھاشن دینے لگے۔یہ نہ اپنی معاشرت میں برداشت پیدا کر سکے، نہ سیکولرازم کو سمجھ سکے مگر مغرب کو لیکچر دیتے ہیں کہ اصل سیکولرازم کیا ہوتا ہے۔

julia rana solicitors

اصل میں یہ سب ذہنی، نفسیاتی اور روحانی خلا کا شکار ہیں۔ اپنی جڑوں سے کٹے ہوئے، دوسروں کی زمین پر کھڑے ہو کر اپنے آپ کو “اصل وارث” ثابت کرنے کی کوشش میں لگے ہیں۔ ان کی تحریریں فکر و فلسفہ سے زیادہ تھکے ہوئے ذہن کی چیخیں معلوم ہوتی ہیں۔ ان کا مسئلہ نہ اسلام ہے نہ مسلمان، بلکہ ان کا اپنا وجودی بحران ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے اور مغرب کو خوش کرنے کے لیے اپنے ہی لوگوں کے خلاف زہر اگلتے رہتے ہیں۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply