رات کے آخری پہر میں شہر کے پرانے حصے کی سنسان گلیوں میں ایک آدمی چل رہا تھا۔ اُس کی چال میں ٹھہراؤ تھا، جیسے ہر قدم کے ساتھ وقت کی دھڑکن سن رہا ہو۔ دیواروں پر پرانے اعلانات کے پوسٹر چپکے تھے، اور کھڑکیوں کے پیچھے سوئے ہوئے لوگ خواب دیکھ رہے تھے۔ مگر مسافر جاگ رہا تھا، کیونکہ اُس کا ماننا تھا کہ نیند وقت کا ہلکا زہر ہے، اور جو جاگتا ہے وہ حقیقت کے قریب ہوتا ہے۔
وہ ایک پرانے مینار کے سامنے رک گیا۔ یہ مینار شہر کے وسط میں کھڑا تھا، مگر اُس کی گھڑی رکی ہوئی تھی۔ کوئی وقت نہ تھا، کوئی لمحہ نہ تھا۔ مسافر نے سوچا: ’’یہ مینار دراصل وہی لمحہ ہے جس میں تمام لمحے قید ہیں۔‘‘
اُس کے ذہن میں ایک سوال بجلی کی طرح گونجا: ’’کیا یاد ماضی کی گونج ہے یا مستقبل کی خبر؟‘‘
یہ سوال اُس کے سفر کا بوجھ بھی تھا اور اُس کا زاد راہ بھی۔
مسافر ایک رات پہلے ایک خواب دیکھ چکا تھا:
ایک وسیع صحرا تھا، جس میں وقت ریت کی طرح بہہ رہا تھا۔ ہر ذرہ ایک یاد تھی، ہر ریت کا ٹیلہ ایک عمر۔ صحرا کے بیچ ایک آئینہ نصب تھا۔ آئینے کے اندر اُس نے اپنا عکس دیکھا، مگر عکس جوان تھا جبکہ وہ خود بوڑھا تھا۔ عکس اُس سے بولا: ’’میں وہ ہوں جو تم ہونا چاہتے تھے، اور تم وہ ہو جو وقت نے بنا دیا۔‘‘
وہ چیخ کر بیدار ہو گیا۔ مگر اُس چیخ نے اُس کے اندر ایک سوال جگا دیا: ’’کیا یاد وہ چیز ہے جو ہم نے گزاری، یا وہ جو ہم گزارنا چاہتے تھے؟‘‘
مینار کے سائے میں بیٹھ کر اُس نے اپنی ڈائری کھولی اور لکھا:
’’یاد ایک مکان ہے جس کے دروازے ماضی میں ہیں اور کھڑکیاں مستقبل میں۔ ہم اُس مکان میں قید مسافر ہیں، مگر سمجھتے ہیں کہ آزاد ہیں۔‘‘
اُس نے مزید لکھا: ’’وقت وہ دریا نہیں جو بہتا ہے؛ ہم بہتے ہیں، وقت کھڑا ہے۔ یہ ہم ہیں جو لمحہ بہ لمحہ اُس کے اندر سے گزر کر نقش چھوڑتے ہیں۔‘‘
پھر اُس نے خود سے کہا: ’’اگر یاد ایک قید ہے تو فلسفہ اُس قید کی لکیر ہے جو نقشہ بناتی ہے، اور اگر یاد ایک روشنی ہے تو فلسفہ اُس کا سایہ ہے جو ہمیں اندھیرے میں بھی سمت دیتا ہے۔‘‘
اُسی لمحے اُس کے پاس ایک بوڑھا شخص آ کھڑا ہوا، جس کی داڑھی برف کی طرح سفید تھی اور آنکھوں میں کوئی گہرا خلا۔ اُس نے کہا: ’’میں وقت ہوں، اور تم یاد ہو۔‘‘
مسافر نے چونک کر پوچھا: ’’اگر تم وقت ہو تو پھر تم چلتے کیوں نہیں؟‘‘
بوڑھا مسکرا کر بولا: ’’وقت نہیں چلتا، یہ تم ہو جو میری سطح پر حرکت کرتے ہو۔ میں ایک آئینہ ہوں جس میں تمہارا ہر لمحہ قید ہے۔‘‘
مسافر نے کہا: ’’پھر یاد کیا ہے؟‘‘
بوڑھا بولا: ’’یاد وہ دھند ہے جو آئینے کو دھندلا کرتی ہے تاکہ تم حقیقت کی چمک سے اندھے نہ ہو جاؤ۔‘‘
یہ سن کر مسافر کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اُس نے سوچا: ’’اگر وقت آئینہ ہے اور یاد دھند، تو میں کون ہوں؟‘‘
بوڑھے نے کہا: ’’تم وہ سوال ہو جس کا جواب کبھی نہیں ملتا۔‘‘ اور پھر وہ غائب ہو گیا۔
تنہائی کے اس لمحے میں مسافر نے اپنے آپ سے کہا:
’’شاید انسان کی اصل قید ماضی نہیں بلکہ وہ خواہش ہے کہ ماضی بدلا جا سکتا تھا۔ یاد کا فلسفہ یہ نہیں کہ ہم نے کیا دیکھا بلکہ یہ کہ ہم اُس کو کیسے دیکھتے ہیں۔‘‘
اُس نے محسوس کیا کہ ہر یاد کے دو چہرے ہیں:
ایک جو حقیقت ہے،
دوسرا جو ہم نے خود تراشا۔
یہی دو چہرے اُس کی زندگی کے ہر لمحے کو دو حصوں میں بانٹ رہے تھے۔
مینار کی رکی ہوئی گھڑی نے اچانک ایک بار بج کر اپنی سوئیاں ہلائیں۔ لمحہ حال میں ایک ارتعاش پیدا ہوا۔ مسافر نے محسوس کیا کہ وہ خود بھی دو وجودوں میں بٹ رہا ہے—ایک جو گزر چکا ہے اور ایک جو ابھی گزرے گا۔
اُس نے سوچا: ’’اصل فلسفہ یہ نہیں کہ وقت گزرتا ہے، بلکہ یہ کہ یادیں گزرنے کے باوجود باقی رہتی ہیں۔ یاد دراصل لمحہ حال کی آخری پناہ گاہ ہے۔‘‘
صبح کی پہلی روشنی میں مسافر نے مینار کے سائے سے باہر قدم رکھا۔ وہ جان گیا کہ اُس کا سفر کسی منزل کے لیے نہیں بلکہ ایک دائرے کے لیے تھا۔ وہ دائرہ جسے ہم سب زندگی کہتے ہیں—جس میں وقت اور یاد ایک دوسرے کو تعاقب کرتے رہتے ہیں مگر کبھی نہیں پکڑتے۔
اُس نے آخری بار پیچھے مڑ کر مینار کو دیکھا اور کہا: ’’تم وقت ہو یا میں؟‘‘
ہوا نے اُس کے سوال کو اُٹھایا اور شہر کی سنسان گلیوں میں گم کر دیا۔
مکالمہ ہم سے کچھ روٹھا روٹھا لگنے لگا ہے شاید
سوچا منانے کی ایک کوشش ہی سہی۔۔۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں