امتناع محبت۔۔۔۔اجمل صدیقی

امتناع محبت ۔۔۔۔۔prohibiting love

خدا کیلئے مجھے پیار نہ کرو ,
میں تمہیں کھونا نہیں چاہتی.
محبت کرکے کیا کرو گے؟
نیند سے لڑو گے,
خوابوں سے ڈروگے,
اندیشوں کے طوفان اٹھیں گے,
اَن جانے گمان اٹھیں گے،
آنکھوں کے سیلاب میں رہو گے،
دھڑکنوں کے اضطراب میں رہو گے،
اک ناجائز خواہش  ہے،
ایک بے مصرف خواہش ہے،
نزع کی کشمکش  ہے،
ہجر و وصل کی کشاکش ہے،
ایک رنگین یاس ہے ،اک سنگین آس ہے ۔۔۔

میں تم سے محبت نہیں کرتی
میں تمہیں کھونا نہیں چا ہتی
بے اشک رونا نہیں چاہتی
میں تم سے محبت نہیں کرتی
میں تم سے بیگانہ ہونا نہیں چاہتی
تم بھی
خدا کیلئے مجھے پیار نہ کرو!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *