ڈاکٹر ایرک برگ، ایک مشہور چیروپریکٹر اور غذائی ماہر، ویکسین کے حوالے سے اپنے مؤقف میں کہتے ہیں کہ سائنس عام طور پر اختلافِ رائے اور مباحثے پر مشتمل ہوتی ہے، لیکن جب بات ویکسینز کی آتی ہے تو عالمی ادارہ صحت (WHO) اور سی ڈی سی (CDC) جیسی میڈیکل اتھارٹیز کی مخالفت کو “میڈیکل غلط معلومات” قرار دیا جاتا ہے۔ اور ہم فوراً یہ مان لیتے ہیں کہ یہ سب سائنس کی بنیاد پر ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ادارے کہاں سے فنڈنگ لیتے ہیں؟ ان کے پیچھے کون سی کارپوریشنز ہیں؟ ان کے اربوں ڈالر کے تعلقات کن کمپنیوں سے جڑے ہیں؟
ہمیں بار بار بتایا جاتا ہے کہ ویکسینز محفوظ، مؤثر اور ہماری صحت کے لیے ضروری ہیں۔ جب زیادہ تر دواؤں کی حفاظت اور مؤثریت کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو انہیں ایک پلیسیبو (ایسی چیز جس کا کوئی اثر نہ ہو) کے مقابلے میں آزمایا جاتا ہے۔ لیکن بچوں کے لیے ویکسین کی حفاظت کے مطالعے اس طریقے سے نہیں کیے جاتے۔زیادہ تر مطالعات میں ایک فعال(active) ویکسین کو دوسری فعال ویکسین کے مقابلے میں آزمایا جاتا ہے، اور دونوں میں ایڈجُوونٹس (جیسے ایلومینیم) شامل ہوتے ہیں۔
بچوں کے لیے ویکسینز کے کوئی حقیقی پلیسیبو-کنٹرولڈ مطالعات نہیں کیے گئے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بچوں کو پلیسیبو دینا نقصان دہ ہے بجائے اس کے کہ انہیں ویکسین دی جائے۔
ماضی میں کئی دوائیں اور مادے محفوظ اور مؤثر قرار دیے گئے، لیکن بعد میں یہ نقصان دہ ثابت ہوئے۔ اس کی واضح مثالیں ہیں: وائیوکس (Vioxx)، پیکسل (Paxil)، ٹرانس فیٹس، اور ایس بیسٹاس (Asbestos)۔ اکثر اوقات کسی دوا کے اجرا کے وقت دستیاب خام اعداد و شمار کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔
تقریباً 87 فیصد فارما کمپنیوں کے اسپانسر کردہ مطالعات شائع ہی نہیں کیے جاتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دوا ساز کمپنیاں صرف وہی معلومات شائع کر سکتی ہیں جو کسی دوا کی حفاظت اور مؤثریت کو سپورٹ کرتی ہوں۔ ہیلتھ پالیسی اور رہنما اصول پھر انہی گمراہ کن معلومات پر مبنی ہوتے ہیں۔
آسٹروٹرفنگ ایک ایسا عمل ہے جس میں جعلی گروپس قائم کیے جاتے ہیں جو عوامی رائے کی نمائندگی کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔ ان گروپس میں شامل ہیں: سِٹیزنز فار پیشنٹ سیفٹی، پارٹنرشپ ٹو پروٹیکٹ پیشنٹ ہیلتھ، امریکا کا ایکشن نیٹ ورک، اور ڈاکٹرس فار امریکا۔ یہ گروپس آر ایف کے جونیئر (RFK Jr.) جیسے لوگوں کے خلاف پی آر مہمات منظم کرتے ہیں۔
اصل سوال ویکسین کی سائنس نہیں ہے۔ بلکہ یہ ہے کہ اس کے پیچھے کون ہے؟ یہ فیصلے کون کرتا ہے؟ یہ بیانیہ کن اداروں سے آتا ہے؟
یہ بات درست ہے کہ دنیا بھر کے لاکھوں سائنسدان و ادارے ایک ‘کنسینسَس’ پیدا کرتے ہیں، لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ آج کے دور میں یہ کنسینسَس کس حد تک کارپوریٹ مفادات اور پاور اسٹرکچر سے جڑا ہوا ہے۔ میڈیکل نالج اور ہیلتھ پالیسی صرف سائنس کی بنیاد پر نہیں بلکہ بڑی فارما کمپنیوں کے سرمایہ، فنڈنگ، اور پالیسی ڈرائیونگ پر بھی کھڑی ہوتی ہے۔ اس کو ہی dominant discourse کہتے ہیں یعنی وہ بیانیہ جو طاقتور ادارے رائج کرتے ہیں اور باقی دنیا اسی پر ‘blindly’ چلتی ہے۔
ایسے میں وہ چند مخالف آوازیں جو اس بیانیے کو چیلنج کرتی ہیں، ہمیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ نالج ہمیشہ ‘neutral’ نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے طاقت اور سرمایہ کار فرما ہوتے ہیں۔ فلسفہٴ علم میں اسے epistemological violence کہا جاتا ہے کہ ایک خاص narrative کو اتنا غالب کر دیا جائے کہ باقی سب علم اور تجربہ غیر معتبر یا
‘anti-science’ قرار دے دیا جائے۔
جب WHO اور CDC جیسی طاقتور باڈیز یہ طے کریں کہ کون سی تحقیق عوام تک پہنچے اور کون سی دبادی جائے، تو یہ سائنس نہیں رہتا، یہ کنٹرول آف انفارمیشن بن جاتا ہے۔ اور جو بھی ان پر سوال اٹھائے، اسے ‘misinformation’ کا لیبل لگا کر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔جب علم کو کنٹرول کیا جاتا ہے تو یہ صرف سائنس کا مسئلہ نہیں رہتا، یہ freedom of choice کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر معلومات شفاف ہیں تو پھر سوال کرنے سے ڈر کیوں لگتا ہے؟

میرے نزدیک جو شخص آج کے dominant discourse پر اندھا دھند چلتا ہے، وہ اصل میں نظام کا غلام ہے، کیونکہ وہ سوال اٹھانے اور متبادل امکانات (alternative possibilities )دیکھنے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔ اصل سائنس تو سوال کرنے اور تنقید کرنے کا نام ہے، نہ کہ صرف سرمایہ کار اداروں کے دیے ہوئے ڈیٹا کو دہرانے کا۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں