پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ/اسلم اعوان

سعودی عرب اور جوہری ہتھیاروں سے لیس پاکستان نے ایسے دفاعی معاہدے پر دستخط کر لئے جس کے تحت کسی ایک پہ حملہ دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا ۔ پاک سعودیہ پہلا دفاعی معاہدہ 1980 میں ہوا جسے دونوں ممالک نے امریکی دباو کے باعث التواء میں رکھ دیا تھا ممکنہ طور پر جوہری تعاون پہ مبنی تازہ دفاعی معاہدہ ماضی کے اُسی عہد و پیماں کا احیاء ہو گا تاہم معاہدہ کا وقت اور مشرق وسطی میں تیزی سے بگڑتے حالات کے باعث اِس غیرمعمولی پیش رفت نے امریکہ سمیت پورے یورپ کو چونکا دیا ۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ تیل کی دولت سے مالا مال خلیجی ریاستیں ہر قسم کی جارحیت سے بچنے کی خاطر امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدات کے علاوہ اسلحہ اور دیگر اشیاء ضروریہ بھی مغرب سے خریدتی رہیں مگر امریکی دفاعی معاہدات انہیں اسرائیلی جارحیت سے بچا سکے نہ وہ صیہونی حملے روکنے کے لئے یورپ سے خریدا اسلحہ استعمال کر سکتے ہیں بلکہ امریکی دفاعی معاہدات عرب مملکتوں کو باہمی جنگوں میں الجھانے کے اسباب مہیا کرتے رہے ، اب جب نصرانی صیہونیت کا طوفان سر پہ آن پہچا تو بقاء کی آزمائش نے خلیجی ریاستوں کو امریکہ کے ”دفاعی تعلق ” کا جال توڑنے پہ مجبور کردیا ، یہی وہ حالات تھے جو اُس پاک سعودی دفاعی معاہدہ کا محرک بنے جو مشرق وسطی میں بھڑکنے والی جنگ کو یوروپ کی دہلیز تک پہنچا سکتا ہے ۔

علی ہذالقیاس ، قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد حالات کی سنگینی نے خلیجی ممالک خاصکر سعودی عرب کو اس یقین تک پہنچ دیا کہ اسرائیل کسی بھی وقت کسی بھی خلیجی ملک کو شکار بنانے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا جبکہ ان کا دفاعی اتحادی امریکہ ، اسرائیل کو آگے رکھ کر بتدریج عربوں کے وسائل پہ قبضہ اور اپنی مرضی کے مطابق مڈل ایسٹ کی نئی جغرافیائی تقسیم کی راہیں ہموار بناتا رہے گا ۔ چنانچہ وقت آن پہنچا ہے کہ اقتصادی طور پہ مضبوط عرب ریاستیں امریکہ کا ہاتھ جھٹک کر مشترکہ خطرات سے نمٹنے کی خاطر  جارحیت کے طور پر پاکستان کی فوجی قوت اور ایٹمی ڈیٹرنس کو بروکار لانے کی راہ بنائیں ، حالات کے تیور بتاتے ہیں کہ عنقریب پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ میں قطر، ایران ، ترکی اور مصر سمیت گلف کے دیگر ممالک کی تلویث اِسی معاہدہ کو نیٹو طرز پر مسلم مالک کا دفاعی الائنس بنا دے گی ، اِس لحاظ سے پاک سعودی دفاعی معاہدہ جغرافیائی سیاسی اعتبار سے ایسی مکمل پیراڈائم شفٹ ہے جو ریاض کے لئے کلی طور پر واشنگٹن کی طلسماتی چھتری پر انحصار کا اختتام اور عرب مملکتوں کے قومی سلامتی اتحاد کو متنوع بنانے کی پہلی بامعنی کوشش ثابت ہو گا ۔ بلاشبہ یہ محض عام دفاعی معاہدہ نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں عالمی افق پہ ابھرتا وہ وسیع منظرنامہ کھڑا ہے جو امریکہ کو دنیا کی رہنمائی کے منصب سے بیدخل کرکے عالمی امور میں چین کے کردار کو بڑھاتا نظر آتا ہے ، بیجنگ اپنے دو قریبی شراکت داروں کے تال میل سے جنوبی ایشیا کی مانند مشرق وسطی سے بھی امریکی فوجی انخلا کی راہیں ہموار کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے یعنی پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ کے ذریعے مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا نئی جغرافیائی سیاسی حقیقت میں داخل ہونے والے ہیں ۔ پچھلے دو سالوں سے جاری جنگ کے دوران عالمی برادری خاص کر امریکہ نے ثالثی کے جال میں پھنسا کر مصر اور قطر سمیت کئی ممالک میں کم و بیش حماس کی پوری قیادت کو مروا دیا ، عربوں کے خلاف اسرائیل و امریکہ کی اِسی سٹریٹیجک کوارڈینیٹو پارٹنرشپ ، جسے عالمی اداروں اور یورپی ممالک کی سیاسی و تکنیکی حمایت حاصل ہے ، نے بتدریج جنگ کے دائروں کو بڑھا کر پورے مشرق وسطی تک پھیلا دیا ، اسی دوغلی حکمت عملی نے عربوں کو امریکی”دوستی”کے لبادے اتار کر اجتماعی بقاء کی خاطر اسرائیل کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑنے پہ مجبور کر دیا ۔

قطر پر حملہ نے امریکہ کے کردار اور خطہ میں اُس کی سکیورٹی گارنٹی کو عالمی سطح پر دوبارہ زیرِِِِ بحث رکھ دیا ، کیا امریکہ ایسے حملوں کا علم رکھتا تھا ؟ اس نے انہیں روکا کیوں نہیں ؟ کیا امریکہ اپنی خاص حکمت عملی کے تحت عرب ممالک کو منقسم اور ان کی دفاعی قوت کو مفلوج رکھ کے دانستہ اسرائیل کی جارحانہ پیشقدمی کی راہیں بنا رہا ہے ؟ کیا یوروپی ممالک اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل جیسے عالمی فورم پُرجوش تقریروں اور خوشنما مطالبات پہ مبنی غیرموثر قرارداوں سے امریکہ اسرائیل اسٹریٹیجک پارٹنرشپ کو نقابِ ابہام فراہم کرتے ہیں ؟ یہ اور ایسے دیگر سوالات مزید اجاگر ہوئے ہیں ۔ قطر پہ امریکہ و اسرائیل کا مشترکہ حملہ ممکنہ طور پر خطہ میں بڑی جنگ کی شروعات اور عوامی سطح پر تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ کا سبب بنے گا کیونکہ مغربی حمایت کی حامل اسرائیلی جارحیت نے جنگ بندی کے امکانات کو بعید تر کرکے ثالثی جیسے مقدس عمل کو بھی جنگی حربہ کے طور منعکس کیا ، چنانچہ خطے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال اور اسرائیلی توسیع پسندی نے پاک سعودی دفاعی معاہدہ کو ایسی فطری پش رفت کے طور پہ پیش کیا جس کا مقصد مسلم ممالک کے مابین دفاعی تعاون بڑھانا اور باہمی دفاعی ردعمل کو مربوط کرکے جارحیت کو روکنے کی صلاحیت کو مضبوط اور مشترکہ سدجارحیت پیدا کرنا ہے ۔

سعودی عرب پچھلے کچھ عرصے میں سکیورٹی شراکت داریوں کو متنوع بنانے کی کاوشوں میں سرگرداں تھا ، خاص طور پر امریکہ کی وابستگیوں کے حوالے سے اس کے طرز عمل میں واضح تبدیلی آئی چنانچہ اب اگر اسرائیل، امریکہ یا کوئی اور کسی عرب ریاست کو نشانہ بنائے ، جیسے کہ قطر میں حملہ ہوا، تو پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ ایسے حملوں کے دفاع کے لئے مشترکہ ردعمل کو یقینی بنائے گا ، اس معاہدہ کی بدولت خطے میں طاقت کا توازن یکسر بدل گیا ، پاک سعودی دفاعی معاہدہ امریکہ کو یہ سوچنے پر مجبور کرے گا کہ کسی بھی اسرائیلی کارروائی کی صورت میں متحدہ ردِعمل صیہونی حملوں کی قیمت بڑھا سکتا ہے بلکہ ایران، ترکی اور دیگر قوتیں بھی اب اس بنیاد پر ردِعمل دیں گی کہ کس طرح یہ دفاعی اتحاد علاقائی طاقتوں کو متاثر کرتا ہے حتیٰ کہ اسی غیر معمولی پیش رفت نے مشرق وسطی بارے امریکہ اور یوروپی ممالک کی روایتی پالیسیوں کو متروکہ بنا کر امریکہ کو مسلم ممالک کے دفاعی اتحادوں کو نئے زوایہ سے دیکھنے پہ مجبور کر دیا ، خاص طور پرجب مڈل ایسٹ میں بڑھتی ہوئی غیر ملکی فوجی مداخلت ممکنہ طور پہ ایک بڑی جنگ کے خطرات کو قریب لا رہی ہو ، امریکہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عرب ممالک اب اپنی سلامتی کی موثر گارنٹی خود بنانا چاہتے ہیں ۔ امر واقعہ بھی یہی ہے کہ سعودی عرب نے امریکی ایما پر حال ہی میں اسرائیل کے ساتھ نارملائزیشن کی کوششیں شروع کیں لیکن اسرائیل کی طرف سے قطر جیسے قریبی دوست ملک کی خود مختیاری پہ حملہ نے تمام عرب ممالک کے لئے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کو جنگی ٹریپ کے طور پہ دیکھنے ، پُرامن بقاء باہمی کے خوبصورت تصور کو فریب کاری اور دوستانہ تعلقات پہ اعتماد کی سنہری اقدار کو موت کا پھندہ سمجھنے کے علاوہ اقوام متحدہ جیسے عالمی اداروں اور مغرب کے مہذب اقوام کے مجموعی کردار کو بھیانک خواب کی طرح پایا چنانچہ اب اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیاں فیصلہ کن جنگ کے سوا کوئی اور راہ باقی نہیں بچی ۔

واشنگٹن کے پالیسی تضادات نے مڈل ایسٹ سمیت پوری دنیا کو غیر یقینی صورت حال سے دوچار کردیا ایک طرف امریکہ جنگ بندی کے لیے ثالثی کو فروغ دیتا ، دوسری جانب اسرائیل اگر ثالث ریاستوں پر حملے کرے تو بغیر کسی تردّد کے واشنگٹن اپنی پوری حمایت اسرائیل کے پلڑے میں ڈال کر نوع انسانی کے اجتماعی ارادے کو ٹھکرا دیتا ہے ۔ یورپ جو پہلے ہی اپنے داخلی مسائل جیسے تارکین وطن ، معاشی بحران اور یوکرین جنگ میں الجھنے کی وجہ سے دگرگوں ہے ، مشرق وسطی میں طاقت کا توازن بدلنے کی صورت میں انتشار اور تشدد میں اضافہ کا سامنا کرے گا ۔ قصہ کوتاہ ، قطر جیسی غیر جنگی ریاست پر اسرائیلی حملے کے بعد جہاں عالمی ثالثی کا تصور فریب ثابت ہوا وہاں غیر جانبداری کی اپروچ بھی وقعت کھو بیٹھی ۔ خلیجی مملکتیں جان چکی ہیں کہ جنگ کے دوران کسی کے لئے بھی غیرجانبدار رہنا ممکن نہیں ہوتا ۔ عرب اس حقیقت کو بھی پا گئے ہیں کہ طویل خوشحالی اور پُرامن زندگی جیسی احمقانہ خواہش نے انہیں دشمن کیلئے نرم چارہ بنا دیا چنانچہ ایک بڑی جنگ ہی انہیں قوت دوام عطا کر سکتی ہے ۔ شاید اسی لئے عربوں نے قطر پر اسرائیلی حملہ کو صرف عسکری کارروائی نہیں بلکہ تاریخی اور جغرافیائی پیغام کے طور پہ سمجھا ، پاک سعودی دفاعی معاہدہ اسی پیغام کا عملی ردعمل اور پالیسی جواب ہے، جو یہ واضح کرتا ہے کہ اسلامی دنیا اب محض مذمت نہیں بلکہ ایسے دفاعی اشتراک کی طرف بڑھے گی جو غزہ کے مظلوم شہریوں کے خون کا حساب اور ارض فلسطین کی بازیابی تک جنگ لڑنے کو تیار ہے ۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply