• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پاکستان میں فارن میڈیکل گریجویٹس کا مستقبل/ ڈاکٹر محمد شافع صابر

پاکستان میں فارن میڈیکل گریجویٹس کا مستقبل/ ڈاکٹر محمد شافع صابر

چند دن قبل پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ( پی ایم ڈی سی) نے نیا نوٹیفکیشن نکالا ہے،جس کے مطابق پاکستانی طلباء دنیا کے کسی بھی ملک میں ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، انہیں وطن واپسی پر ہاؤس جاب کے لئے provisional لائسنس نہیں جاری کیا جائے گا۔ پی ایم ڈی سی کی ویب سائٹ پر جو الحاق شدہ فارن میڈیکل کالجز / یونیورسٹیز کی لسٹیں تھیں وہ بھی null & void قرار دے دی گئی ہیں۔ اسی طرح انہی کالجوں سے فارغ التحصیل طلباء جنہوں نے ہاوس جاب کے لئے provisional لائسنس کے لئے اپلائی کیا ہوا تھا،وہ سبھی درخواستیں بھی ریجیکٹ کر دی گئی ہیں ۔ پاکستان بھر کے سرکاری و پرائیویٹ ٹیچنگ ہسپتالوں کو فارن گریجوایٹس کو ہر قسم کی ہاؤس جاب،انٹرن شپ اور آبزرور شپ دینے سے بھی روک دیا گیا ہے۔
اگر کوئی پاکستان طالب علم فارن میڈیکل کالج سے تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے،تو متعلقہ یونیورسٹی / کالج کو پی ایم ڈی سی سے recognition لینی ہو گی اور کم سے کم وہ کالج / یونیورسٹی ECFMG ( ایجوکیشنل کمیشن فار فارن میڈیکل گریجویٹس ) کی اپرول لسٹ میں شامل ہو۔
اب پاکستان کی میڈیکل کمیونٹی میں ایک نئی بحث چھڑ چکی ہے کہ یہ فیصلہ درست ہے یا غلط۔ اگر دیکھا جائے تو وسط ایشیائی ریاستوں میں قائم کچھ میڈیکل کالجز اتنے سب سٹینڈرڈ ہیں کہ پانچ مرلے کے مکان میں پورا میڈیکل کالج ہے، اسی طرح جو کیٹگری بی اینڈ سی کے میڈیکل کالجز بھی بس نارمل سے ہیں ۔
بنیادی طور پر یہ فیصلہ،وطن عزیز میں بڑھتی ہوئی ڈاکٹروں کی تعداد کو کم کرنے کی ایک کوشش لگتی ہے ۔ اسی طرح لوکل گریجویٹس کے لئے ایم بی بی ایس کے بعد این ایل ای ( نیشنل لائسنسنگ ایگزائم)دوبارہ لاگو کرنے کی بھی قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔
یہ سب رائتہ اسی لئے پھیلا ہے جب تحریک انصاف کی حکومت نے پی ایم ڈی سے پی ایم سی بنایا تھا تو انہوں نے نیا رول لاگو کیا تھا وہ یہ تھا کہ کیٹیگری اے کے فارن میڈیکل کالجز سے فارغ التحصیل طلباء کو یہ ایج دیا گیا کہ آپ ہاؤس جاب کے لئے provisional لائسنس حاصل کر سکتے ہیں اور NRE ( نیشنل رجسٹریشن ایگزائم) 1 & 2 جب مرضی دیں اور وہ پاس کر کے RMP (رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹیشنر ) لائسنس حاصل کر سکتے تھے۔
جو کہ پہلے ایسا نہیں تھا،پہلے آپ nre 1 پاس کرتے تھے،اسے پاس کرنے کے بعد آپکو ہاؤ س جاب کے لئے provisional لائسنس ملتا تھا،ہاؤس جاب کے بعد آپ NRE 2 دیتے تھے وہ پاس کرنے کے بعد آپکو پریکٹس کرنے کے لئے پرماننٹ لائسنس ملتا تھا۔
یوں وہ عوام جن کے عشروں سے nre 1 ایگزام لٹکے ہوئے تھے ( اور وہ کیٹگریA فارن میڈیکل کالجز کے فارغ التحصیل تھے)، وہ بنا NRE 1 پاس کیے ہاؤس جاب میں آ گئے اور بعد میں پرماننٹ لائسنس بھی مل گیا۔ یوں فیلڈ میں ڈاکٹروں کی ایک نئی فوج داخل ہوئی ۔
اب پی ایم ڈی سی اپنے پھیلائے ہوئے رائتے کو سمیٹنے کی کوشش میں ہے۔ اب احتجاج،لانگ مارچ و کورٹ کچہری کا ایک نیا دور شروع ہونے والا ہے۔ جب مجھ سمیت ہر آدمی اپنے جاننے والوں کو مشورہ دیتا تھا کہ ایم بی بی ایس کرو ہی نا اور بیرون ملک سے تو بلکل بھی نہیں ۔تب کوئی سنتا نہیں تھا اور سب کو ڈاکٹر بننے کا کیڑا تھا۔اب وہ کیڑا نا مر رہا ہے اور نا نکل رہا ہے۔
پاکستان میں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں فریش گریجویٹس فیلڈ میں داخل ہو رہے ہیں،جن میں سرکاری گریجویٹس،پرائیویٹ گریجویٹس اور فارن گریجویٹس شامل ہیں ۔ ابھی ہزاروں کی تعداد میں وہ فارن گریجویٹس جو کہ کیٹگری بی اور سی کالجز سے فارغ التحصیل ہیں،اور ابھی تک انکا NRE 1 نہیں پاس ہو پا رہا ،جس دن میں انکا امتحان پاس ہو گا،تو اتنی تعداد میں نئے گریجویٹس سسٹم میں داخل ہوں گے جنہیں سنبھلنا نامکن ہو گا۔
وطن عزیز میں سرکاری ہسپتالوں کی تعداد تو اتنی ہی ہے جتنی آج سے پچاس سال قبل تھی،لیکن اب آبادی دس گنا بڑھ چکی ہے، جبکہ ڈاکٹروں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے لیکن ہسپتال میں ڈاکٹروں کی تعداد میں اضافہ نا ہونے کے برابر ہے ۔ اسی وجہ سے ڈاکٹروں میں بیروزگاری حد سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔
اب دوسرا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہر ڈاکٹر خواہ وہ سرکاری گریجویٹ ہو یا پرائیویٹ یا پھر فارن گریجویٹ، نوکری سب کو سرکاری چاہیے اور ٹریننگ بھی سرکاری ہسپتالوں میں ہی کرنا چاہتا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں اتنے زیادہ ڈاکٹرز کو accommodate کرنا ممکن ہی نہیں۔
اس نئے نوٹیفکیشن میں کئی قانونی سقم موجود ہیں ۔ مثال کے طور پر،وہ پاکستانی طلبہ جو کہ اس وقت کی پی ایم ڈی سے سے الحاق شدہ فارن میڈیکل کالجز / یونیورسٹیز کیٹیگری اے میں تعلیم حاصل کرنے گے کہ واپس آ گر انہیں ہاوس جاب کرنے کے لیے بنا NRE 1 دئیے provisional لائسنس مل جائے گا۔ اب وہ کہاں جائیں گے؟ یا جو پی ایم ڈی سی کے اس نوٹیفکیشن کی وجہ سے تعلیم حاصل کر کے واپس آ چکے ہیں اور انہوں نے provisional لائسنس کے لئے درخواست دی تھی وہ ساری درخواستیں بھی ریجکیٹ کر دی گئی ہیں ۔ اب وہ کریں تو کریں کیا؟ کس سے منصفی چاہیں؟ یا تو پی ایم ڈی سی کا تب کا نوٹیفکیشن غلط ہے یا پھر یہ نیا نوٹیفکیشن غلط ہے، جو اہم بات ہے کہ کسی بھی نئے قانون کو ماضی (retrospective) کے فیصلوں پر نہیں لاگو کرنا چاہیے اور نا ہی لاگو ہونا چاہیے ۔ کونسل جو بھی نیا قانون بنانا چاہتی ہے وہ 2025 کے نئے بیچ پر لاگو ہو، پچھلے فارغ التحصیل بیچیز کو پرانے قوانین کے مطابق ہی ڈیل کیا جانا چاہیے ۔
یہ الگ بحث ہے کہ فارن میڈیکل کالجز/ یونیورسٹیز کے فارغ التحصیل طلباء کا کیا معیار ہے اور اس معیار کو کیسے جانچنا چاہیے،اسکے لیے ایک نئے میکنزم کی اشد ضرورت ہے۔
اگر فارن میڈیکل کالجز میں معیار تعلیم اتنا اچھا نہیں کہ انہیں پی ایم ڈی سی recognize کر سکے،تو پی ایم ڈی سی نے تب بنا کوئی تحقیق اور انسپکشن کے ایسے تمام فارن میڈیکل کالجز کو کیوں categorize کیا؟ مطلب کونسل کی اپنی غلطی ہے،جسکا خمیازہ اب ان کالجز کے فارغ التحصیل طلباء بھگت رہے ہیں ۔ اگر انکا معیار تعلیم اچھا نہیں،تو پی ایم ڈی سی طلبہ کو ان کالجز میں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہی نا دیتی ۔ اب اگر وہ طلبہ کونسل کے نوٹیفکیشن کی وجہ سے باہر سے تعلیم حاصل کرنے گے،اب جب وہ واپس آ گئے ہیں تو کونسل ان سے کیسے آنکھیں پھیر سکتی ہے۔ اب کونسل کو انکو کسی نا کسی طریقے سے ایڈجسٹ کرنا ہی پڑے گا۔
اب کوئی فارن میڈیکل کالج/ یونیوسٹی پی ایم ڈی سی اسے کیونکر الحاق حاصل کرے گا جب کہ وہ کالج پاکستان میں ہے ہی نہیں،اور اوپر سے پی ایم ڈی سی نے فارن کالجز کے الحاق کے لئے فیس لاکھوں ڈالر فیس رکھی ہے۔کوئی بھی فارن کالج ایسا ہرگز نہیں کرے گا۔
یہ نوٹیفکیشن بس فارن میڈیکل کالجز سے تعلیم حاصل کرنے کی حوصلہ شکنی کرنے اور فارن میڈیکل گریجویٹس کی تعداد کے سامنے بند باندھنے کی ایک کوشش ہے اور اس کے سوا اس نوٹیفکیشن کا کوئی مقصد نہیں ۔
اگر اس فیصلے سے ڈاکٹروں کے معیار کو بہتر کرنا مقصود ہے تو وہ اس سے حاصل ہونے والا نہیں،کیونکہ ایسا کرنے کے لئے وطن عزیز کے ہر گلی محلے میں کھلے پرائیویٹ میڈیکل کالجز بھی بند کرنے ہوں گے،وگرنہ اس نئے نوٹیفکیشن / قانون کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply