دریا ہمیشہ سے کوئی “عفریت” (monster) نہیں تھا۔ اسے خوفناک بنایا گیا اُن انسانوں نے جو اسے زنجیروں میں جکڑنا چاہتے تھے۔ کلف دار یونیفارم پہنے انجینئر، ورلڈ بینک کے ڈالرز اور آئی ایم ایف کے خاکوں کی پشت پر، دریاؤں کو باندھنے، نہروں کو سیدھا کرنے، اور فلڈ پلینز پر بند باندھنے نکلے۔ وہ جدیدیت اور “کنٹرول” کے بت کے پجاری تھے، یہ سمجھتے ہوئے کہ ان کے فارمولے فطرت اور سماج کی پیچیدہ حقیقتوں سے بالاتر ہیں۔
ان کا نتیجہ یہ نکلا کہ آبی نظام (hydrology) مسخ ہو گیا: دریا اپنی موسمی روانیوں سے محروم ہو گئے، فلڈ پلینز تنگ اور کمزور کر دیے گئے، اور ماحولیاتی توازن جڑ سے اکھاڑ دیا گیا۔
بدعنوان بیوروکریٹس اور ٹھیکیدار بھی ان انجینئروں کے ساتھ شامل ہو گئے، کیونکہ ہر بند (embankment) ان کے لیے ایک نیا ٹھیکہ، ایک نیا کمیشن، اور اپنی کوتاہ نظری کا سیمنٹ سے بنا ہوا ایک نیا یادگار بن جاتا تھا۔ ڈیم اور بیراج عوام کو ترقی کے معجزے کے طور پر بیچے گئے۔ لیکن ان کے کناروں پر بسنے والے لوگوں کے لیے یہ محض ٹائم بم تھے۔ ہر بار بند کا ٹوٹ جانا کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسے ذہنی رویے کا منطقی نتیجہ ہے جو دریاؤں/فطرت پر قابو پانے کا خواب دیکھتا ہے، بجائے اس کے کہ ان کے ساتھ جینا سیکھے۔
تاریخ کھلے ثبوت دیتی ہے کہ ان منصوبوں سے اصل فائدہ کن کو ملا ۔۔۔ اور وہ یقیناً غریب یا عام لوگ نہیں تھے۔ پیٹرک مککلی نے اپنی مشہور کتاب Silenced Rivers: The Ecology and Politics of Large Dams میں لکھا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے عالمی جنوب (Global South) میں ڈیم منصوبے دھکیلے، انہیں ترقی کے نام پر بیچا، لیکن اصل منافع ٹھیکیداروں، کنسلٹنٹس اور ایلیٹ بیوروکریسی کو پہنچا۔ پاکستان بھی اس سے کوئی مستثنا نہیں۔
1960 کا سندھ طاس معاہدہ، جو ورلڈ بینک کی ثالثی سے طے پایا، سفارت کاری کی کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا۔ مگر دریاؤں کے لیے یہ ایک تقسیم تھی ۔۔ ایک بے رحم کٹائی کا عمل (amputation)۔ ستلج، بیاس، راوی: وہ دریا جو کبھی زندگی سے بھرپور دھڑکتے تھے، قربان کر دیے گئے۔ ان کے بہاؤ کو سیمنٹ کی نہروں اور ذخیرہ ڈیموں میں موڑ دیا گیا۔ اس معاہدے نے سندھ طاس کے قدرتی نظام کی ماحولیاتی وحدت توڑ دی، اور دریاؤں کو محض “قابلِ استعمال پانی” کی پائپ لائنز میں بدل دیا۔ منگلا اور تربیلا جیسے ڈیم سامنے آئے، جنہیں قومی فخر کے طور پر پیش کیا گیا، لیکن حقیقت میں وہ بڑے زمینداروں اور عالمی ہریالی انقلاب (Green Revolution) کے صنعتی زرعی ماڈل کی آبپاشی کی ضرورتیں پوری کرتے تھے۔
کہیں بھی یہ ماحولیاتی تشدد اتنا واضح نہیں جتنا کہ سندھ ڈیلٹا میں ہے وہ جگہ جو کبھی مینگرووز، مچھلیوں اور زرخیز زمینوں کا سرسبز گہوارہ تھی۔ اوپر کے بہاؤ روکنے کے باعث ڈیلٹا میٹھے پانی سے محروم ہو کر نمکین ویرانے میں بدل گیا ہے، اور ان ماہی گیروں اور کسانوں کی روزی تباہ ہو گئی ہے جو صدیوں سے دریا کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ہم آہنگ زندگی گزارتے آئے تھے۔ ان کی بربادی ایک سخت یاد دہانی ہے کہ دریاؤں کی تقسیم کی سیاست صرف نہروں اور ڈیموں تک محدود نہیں رہتی ، یہ سمندر تک جا پہنچتی ہے۔
فائدہ کسے ہوا؟ ڈیم بنانے والوں کو، مالیاتی اداروں کو، اور ان انجینئروں کو جو طاقتور بیوروکریسی مثلاً واپڈا میں جمع ہیں، جس پر زیادہ تر پنجاب کے ٹیکنوکریٹس کا غلبہ ہے۔ اور نقصان کسے ہوا؟ ان چھوٹے کسانوں کو جن کی خودکفیل ماحولیاتی معیشتیں ۔۔۔ متنوع کاشتکاری، سیلابی زمینوں پر کھیتی، اور ماہی گیری کی معیشتیں ۔۔۔ کو حاشیے پر دھکیل دیا گیا۔ مقامی مزاحمت اور استقامت کی ثقافتوں کی جگہ یکساں کاشتکاری (monocropping)، کیمیائی انحصار، اور ایسے آبپاشی نظام نے لے لی جو قحط اور سیلاب دونوں کے سامنے کمزور ہیں۔
اسی دوران فوسل فیول لابیاں اور شہری مڈل کلاس جو توانائی کے سب سے بڑے صارف ہیں اور “معاشی ترقی” کے سب سے بڑے فائدہ اٹھانے والے ۔۔۔ نسبتاً محفوظ رہتے ہیں ۔ اس کے برعکس، غریبوں کے حصے میں صرف قحط اور سیلاب بچتے ہیں: گرمیوں میں دریا ان سے چھین لیے جاتے ہیں اور برسات میں انہی پر کھول دیے جاتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی اس شیطانی دائرے کو اور تیز کر دیتی ہے، اور ایک ایسے نظام میں مزید بے یقینی شامل کر دیتی ہے جو پہلے ہی دہائیوں کی خراب پالیسیوں اور لالچ سے بگڑ چکا ہے۔
حالیہ برسوں میں خطرے کی ایک نئی پرت سامنے آئی ہے، جو شہری رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز اور اداروں … جیسے پاکستان میں راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (RUDA) نے پیدا کی ہے۔ یہ ادارے بڑے پیمانے پر ہاؤسنگ اور کمرشل منصوبے سیدھے دریاؤں کے بیڈ اور فلڈ پلینز پر تعمیر کر رہے ہیں۔
روایتی ڈیموں کے برعکس جو دریاؤں کو روکتے اور ان کے بہاؤ کو قابو میں لاتے ہیں، یہ تجاوزات قدرتی سیلابی راستوں کو گھونٹ دیتی ہیں، شہری سیلاب کو اور شدید بناتی ہیں، اور دریا کنارے بسنے والی کمزور برادریوں کو بے دخل کر دیتی ہیں۔
دریاؤں کو زندہ ماحولیاتی نظام سمجھنے کے بجائے جب انہیں رئیل اسٹیٹ سمجھا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مختصر مدت کے منافع کو ماحولیاتی تحفظ اور اجتماعی فلاح پر ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس طرح ان منصوبوں کے نقصانات کا بوجھ عام لوگوں پر ڈالا جاتا ہے جبکہ قدرتی لچک … جو سیلاب اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ڈھال ہے … مسلسل کمزور کی جاتی ہے۔
سیلاب کو محض “الٰہی انصاف” کہہ کر اصل مجرموں سے روگردانی کر جانا بھی بہت بڑا اخلاقی مغالطہ ہے ۔ جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ دریاؤں کے تو “حقوق” ہیں مگر ان میں ڈوبنے والے انسانوں کے نہیں ۔ شہروں کے کٹے ہوئے ماہر ماحولیات اور رومانوی شاعر اُس عورت کو کوئی سہارا نہیں دیتے جسے اپنی اولاد کو کمر تک پانی میں کندھوں پر اٹھا کر لے جانا پڑتا ہے۔ صرف ایک ایسی سیاست جو جواب دہی کا مطالبہ کرے ۔۔۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں، ڈیم لابیوں، بیوروکریسی، اور تیل و گیس کے سرداروں کے نام لے ۔۔ وہی ان مظلوموں کو عزت واپس دے سکتی ہے۔
اگر ہمیں دیوتاؤں کی بات کرنی ہے تو صاف کہہ دینا چاہیے: عوام کو دھوکہ دریا نے نہیں دیا۔ دھوکہ دیا طاقتور اداروں، امیر طبقوں اور رئیل اسٹیٹ کے سرمایہ کاروں نے ، جنہوں نے نہ صرف دریاؤں کو بلکہ انسانوں کو بھی بیچا۔ اصل عفریت پانی نہیں ہیں، بلکہ وہ ادارے ہیں جو دریاؤں پر قابض ہو کر منافع کما گئے، اور وہ ایلیٹ طبقے جو خود محفوظ بیٹھے رہے جبکہ غریب ڈوب گئے۔
جب تک ہم ڈیم بنانے والوں، سرمایہ فراہم کرنے والوں اور تیل و گیس کے منافع خوروں کو کٹہرے میں نہیں لاتے، ہم اسی تباہی کے چکر میں پھنسے رہیں گے۔ رومانوی شاعری گھروں کو دوبارہ تعمیر نہیں کرتی۔ دریاؤں کو دیوتا بنا دینا مویشیوں کو چارہ نہیں دیتا۔ انصاف کے بغیر ہمدردی ایک کھوکھلا دکھاوا ہے۔
پاکستان کے سیلاب صرف سوگ نہیں مانگتے۔ وہ ہم سے وضاحت اور جرات مانگتے ہیں ۔۔ ایسی جرات جو بگڑی ہوئی ماحولیاتی سوچ کو رد کرے اور تباہی کے اصل ذمے داروں کا سامنا کرے۔ وہ غریب جو دریا کے کنارے جیتے اور وہیں اپنی جان گنواتے ہیں، اس سے کم کسی بات کے مستحق نہیں۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں