سیاست ایک ثقافتی عمل ہے۔ ثقافتی ورثہ ہے۔ ثقافتی یلغار ہے۔ ہمارے جراثیم آہستہ آہستہ ہمارا ہی خون پی پی کر بوڑھے ہو چکے ہیں۔ کبھی کبھی کہے درست ثابت ہو جاتے ہیں جیسے گناہ بانجھ نہیں ہوتے بچے دیتے رہتے ہیں۔ بس وہی بچے یہ گند پھیلا رہے ہیں جس کے نتیجے میں کبھی انڈے اور کبھی سیاہی پھینک دی جاتی ہے۔ یہ جو بھی ہے ایک رد عمل ہے۔ یہ معاشرتی تنزلی ہے۔ ایسا مجموعی ہے۔ ہماری تمام قیادت بشمول حکمران ، اپوزیشن ، احتجاج کنندگان اور ملک کے اصل وارث سبھی اس سلسلے کے ذمہ دار ہیں۔ عوام بھی ذمہ دار ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ عوام کی مجموعی عقل و دانش (collective wisdom) ایسی ہے۔ جو بظاہر و خفیہ مسلط یا براجمان قوت ہے وہ زیادہ عقل و شعور سے پیدل محسوس ہوتی ہے۔ تربیت نہیں کر پارہے! یہاں جمہوریت کے لیکچرز دے کر گلے پھاڑنے سے قوت ضائع ہوتی ہے جبکہ بدقسمتی سے یہاں بد مست جمہوریت تو کپڑے ٹاکی کے قابل بھی نہیں رہ گئی! یہاں کارکن خود اپنی قیادت کا احتساب کرنے کے قابل نہیں چھوڑا گیا۔ اس سو کالڈ سیاسی کارکن کو کبھی نہیں چاہیے کہ وہ لولی لنگڑی جمہوریت کے گن گاتا پھرے۔ جب ملک کی نمائندگی کے لیے کوئی منتخب یا غیر منتخب وزیراعظم ملک کی بین الاقوامی نمائندگی کر رہا ہوتا ہے تو اسے یہی غیر جمہوری شگوفے کارکنان برا بھلا کہہ رہے ہوتے ہیں اور اس کی تذلیل سے خوشی سمیٹ رہے ہوتے ہیں جبکہ یہی کارکنان اپنی ہی قیادت کے احتساب سے ڈرتے ہیں شرم نہیں دلاتے! جب ملک جنگ کی سی صورت اختیار کر جاتا ہے تو یہی کارکنان حب الوطنی سے جڑے جیسے تیسے قومی بیانیے کو تہس نہس کرتے جاتے ہیں۔ بہرحال یہ وہ بچے ہیں جو اوپر بیٹھی سو کالڈ جمہوری یا غیر جمہوری قیادت کے بطن سے پیدا ہوئے ہیں! اب تربیت کا کیا نظام ہے سیلاب و دیگر آفات سے ذہنی آزادی کے بعد ہی کوئی سوچ پائے گا! لگتا ہے بری و بحری فساد یہی ہوتا ہے! ظہر الفساد فی البر و البحر!
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں