آؤ بچو آپ کو دبئی گھماؤں ۔۔۔ عارف خٹک

ہم جب پشاور میں تھے، تو گل زمین خان بولتا تھا کہ یار ایک بار آجاؤ دُبئی۔ آپ کو مزے نا کرائے،تو نام بدل دینا۔ خیر پروگرام بناتے ہوئے میں نے اُس سے کہا کہ دُبئی میں نہ گُھومنے پھرنے کا شوق ہے نہ ہی کھانے پینے کا۔ بس اگر بُھنا ہوا بیف کھلا دو۔ سینے پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا تم خوچہ آ تو جاؤ۔ پورا دُبئی بُھون کر سامنے رکھ دوں گا۔
ہم نے نائٹ کلب کا پُوچھا تو جواب ملا آپ صرف ہاتھ رکھ دینا بچی سامنے ہوگی۔

اگلی صُبح دُبئی پہنچے۔ ایئرپورٹ سے باہر آتے ہی گل زمین خان گلے پڑ گیا کہ عارف جانہ ستڑے ماشے یو چونڈی نسوار خو راتہ جوڑ کہ۔ نسوار کا تبادلہ کرنے کے بعد جب دونوں کو ہوش آیا تو پوچھنے لگا کہ خان جی اب کیا ارادے ہیں۔ میں نے کہا جناب آپ کو دبئی میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ آپ میرے ساتھ بُھنا گوشت کھائیں گے؟ اس نے جواب دیا ہاں کیوں نہیں۔ پھر کھسیانی ہنسی ہنس کر گاڑی میں سوار کر کے مُجھ سے سیٹ بیلٹ باندھنے کی ہدایت کی اور خود بغیر سیٹ بیلٹ باندھے گاڑی چلا دی۔ گاڑی سٹارٹ کرکے مُجھ پر رعب جھاڑ کر کہا کہ خان جی دُبئی تو اپنا دوسرا گھر ہے۔ بس حکم کرو جہاں جانا ہو۔ یہ کہتے ہی موبائل پر گوگل میپ لگا کر بڑبڑانے لگا کہ ہوٹل کا رستہ کون سا ہے؟میپ پر تو ڈیرہ دبئی کا پتہ درج ہے۔ خیر اللہ کا نام لے کر چلتے ہیں۔
اللہ کا شکر کہ ہم آدھے گھنٹے میں ہوٹل پہنچ گئے۔ ہوٹل پہنچ کر کھیرے، گاجریں اور بُھنے ہوئے کالے چنے دکھائے کہ خان جی آپ کی ڈائٹ کا پورا پلان یہی ہے۔ میں نے اسے رخصت کرتے وقت پوچھا کہ گل زمین یہ تو بتادو کہ دُبئی کے کھیرے اور تازی گاجریں کہاں سے لوں؟جواب دیا آپ مہمان ہو مرضی آپ کی چلی گی جناب۔

شام آیا کہ خان جی آجاؤ آپ کو دبئی مال گھما کر لاؤں۔ آپ کو ناچتا پانی دکھا دوں۔ سوچا چلو تھوڑا سا ہم بھی رومینٹک ہو جائیں۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی پھر سے بڑبڑاہٹ شروع ہوگئی اُس کی کہ دُبئی مال کہاں اور کدھر واقع ہوگا۔ گوگل میپ کی مدد سے اللہ کا نام لے کر گاڑی چلا دی اور کہا خان جی دبئی اپنا دوسرا پشاور ہے۔ “کونے کونے” کا معلوم ہے۔ کونے کا لفظ کہتے ہی اس کی نسوار منہ سے باہر نکل آئی۔ گل زمین خان نے دوبارہ سے نسوار سیٹ کرکے گاڑی آگے بڑھا دی تو ہم پُرسکون ہوگئے۔ گُل زمین خان کی ڈرائیونگ کی اور کیا تعریف کروں۔ فاسٹ لین میں گاڑی 60 کی سپیڈ سے چلا رہا تھا۔ اور سائیڈ لائن پر 120 کی اسپیڈ سے چلانے لگتا۔ میں نے ٹوکتے ہوئے کہا کہ گل زمین خان ایسی ڈرائیونگ تو کراچی حیدرآباد موٹروے پر اللہ وسایا نہیں کرتا۔ کم از دونوں جگہ سپیڈ ایک ہی رکھتا ہے۔ تو آگے سے کہنے لگا خان جی ٹینشن ما جوڑہ وہ۔ یہ سُن کر میں اپنا سا مُنہ لے کر چُپ ہوجاتا کہ گاڑی اس کی ہے۔ لائسنس اس کا ہے۔ ویزہ اس کا ہے۔میں خوامخواہ کا دانشور بن کر حکومت وقت کو کیوں مشورے دوں۔ پینتالیس منٹ بعد جب دبئی مال نہیں آیا تو میں نے پوچھا گل زمین خان ہم آدھے گھنٹے بعد ابوظہبی پُہنچ جائیں گے۔ قہقہہ لگاتے ہوئے میری ران پر ہاتھ مارا خان جی ٹینشن ما جوڑا وہ۔ اُوپر آسمان پر نگاہ رکھو جو سب سے اونچی بلڈنگ نظر آئے گی سمجھو وہ بُرج الخلیفہ ہے۔ میں نے آسمان پر نگاہ دوڑائی تو سامنے بُرج الخلیفہ نظر آیا۔ میں نے خوشی سے نعرہ مارا گل زمین خانہ وہ رہی ہماری منزل مقصود۔ کہنے لگا اوہ یہ تو ابھی بُہت دور ہے۔ خیر ایک گھنٹے بعد دبئی مال پہنچے تو یہ نہیں معلوم تھا کہ گاڑی کہاں پارک کرنی ہے۔ اس کےلئے پھر گوگل میپ۔ بالآخر پینتالیس منٹ بعد گاڑی پارک کی تو گوگل میپ سے مال کے داخلے دروازے مل گئے۔ اندر گئے تو اب ناچتا پانی ڈھونڈنے لگ گئے۔ چالیس منٹ بعد گوگل میپ پکڑے اب فوارے ڈھونڈنے لگے۔یہ الگ بات ہے کہ رستے میں آنے والے ہر بندے سے بھی پوچھتے رہے کہ فوارے کدھر ہیں۔ بالآخر فواروں تک جا پہنچے۔ تو آدھی سے زیادہ رات بیت چکی تھی بلکہ مال والے تو اب ہمیں مشکوک نظروں سے گھورنے لگے۔ بڑی مُشکل سے واپس گاڑی تک پہنچے۔
وہاں سے نکلتے ہی گل زمین خان نے خشمگیں نظروں سے مجھے گُھورا کہ خان جی آپ مجھے ٹینشن دیتے ہو۔ دبئی میں میں رہتا ہوں یا آپ؟ میں نے جواب دیا آپ۔ تو کہنے لگا کہ مہمان کی عزت کھانے کی ٹیبل تک ہوتی ہے۔مشورے مہمانوں سے نہیں لئے جاتے۔ لہٰذا ٹینشن مہ جوڑہ وہ۔ بس مجھ پر بھروسہ رکھو۔

میں نے گُل زمین خان پر بھروسہ کرکے اپنا سر سیٹ سے ٹِکا دیا۔ گُل زمین خان ایک گھنٹے تک ڈرائیو کرتا رہا۔ میں نے آنکھیں کھولے بغیر پوچھا خان صاب ہوٹل آگیا؟ جواب دیا آجائےگا۔ یہ سُن کر میں نے جھٹ پٹ آنکھیں کھول دیں۔ سامنے دیکھا تو برج الخلیفہ نظر آرہا ہے۔ میں نے پھر بتانے کی کوشش کی کہ گل زمین پچھلے ایک گھنٹے سے آپ برج الخلیفہ کا طواف کئے جارہے ہو۔ مگر ہمت نہیں ہوئی۔ کیونکہ مہمان مشورہ تھوڑی دے سکتے ہیں۔ مزید آدھا گھنٹہ خوار ہونے کے بعد میں چیخ کر بولا۔گُل زمین خان گاڑی آپ نے ابوظہبی والے مرکزی روڈ پر ڈال دی ہے،آپ ابوظہبی جارہے ہیں۔ پُرسکون لہجے میں جواب دیا کہ خان جی دبئی آپ رہتے ہو یا میں؟ میں چپ کر گیا۔

پینتالیس منٹ بعد ہم ایک ویرانے میں پہنچ گئے جس کو لاسٹ ایگزٹ کہا جاتا ہے۔ گل زمین خان نے گاڑی وہاں ایک موٹیل کی طرف موڑ دی کہ آؤ خان جی حیران کُن چیزیں دکھادوں۔ میں نے پلاسٹک والے ڈائنوسار اور عجیب و غریب تباہ شدہ گاڑیوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔کہ گل زمین ایسی چیزیں ہمارے بنوں اور وزیرستان میں وافر مقدار میں ملتی ہیں۔

وہاں 5 درہم کی کافی 20 درہم میں پلائی اور پھر گوگل میپ جیسے ہی دیکھنے لگا میں نے دھکا دے کر اس کو گاڑی سے نیچے اُتارا۔ اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔وہ نہ چاہتے ہوئے پسینجر سیٹ پر جا بیٹھا۔اور کہنے لگا کہ خان جی یہاں لیفٹ ہینڈ ڈرائیو ہوتی ہے۔ میں اُس کو یاد دلاتے ہوئے بولا،میں نے ایک بار پولینڈ میں لائسنس لیا تھا اور آج کل بھی افغانستان میں گاڑی چلا لیتا ہوں۔ آپ چپ کرو ٹینشن مہ جوڑہ وہ۔

دبئی انٹر ہوتے ہی اس نے مُجھ سے گاڑی لے لی کہ ہوٹل کا رستہ اب اسے یاد آگیا ہے۔

صُبح سات بجے ہوٹل پر مُجھے اُتار کر کہا خان جی آپ تھوڑی دیر سو جانا میں آپ کو میریکل گارڈن لیکر جاؤں گا۔ آپ کیا یاد کرو گے۔ میں نے ہاتھ جوڑتےہوئے کہا گل زمین بیف سٹیک کھلا دو۔ بس میریکل گارڈن چھوڑ دو ادھر اپنے وطن میں بہت گارڈنز ہیں۔

شام کو ڈرتے ڈرتے نائٹ کلب کا پوچھا تو آنکھیں میچ کر کہا کہ خان جی شرم تو نہیں آتی۔ ادھر بیوی انتظار کررہی ہے گاؤں میں آپ کی۔ کتنے بھروسے کےساتھ آپ کو میرے پاس بھیجا ہے اور یہاں آپ کو ہری ہری سُوجھ رہی ہیں؟ آخر میں کہنے لگا کہ فی داخلہ کلب میں دو سو درہم ہوتا ہے۔ چار سو درہم میں ہم دونوں پانچ دن مزید رہ سکتے ہیں۔ لہٰذا جمعہ کی نماز پڑھتے ہیں اور آپ کو قاری حنیف ڈار سے ملا آتے ہیں۔ یہ الگ بات اگلی صبح ابوظہبی کیلئے نکلے تو دونوں نے آپس میں صلاح مشورہ کیا کہ گوگل میپ کو طلاق دے دیتے ہیں۔ بورڈز پڑھ کر آرام سے پہنچیں گے۔ ڈھائی گھنٹے کے بعد ہم دونوں کی آنکھ العین میں کُھل گئی۔

باقی باتیں اس لئے نہیں لکھ سکتا کہ اگر گل زمین خان کو اس مضمون کا پتہ چل گیا تو وہ مجھے گولی مار دے گا۔ اس کے پاس مُجھ سے بھی بڑی پستول بھی ہے۔

جب بھی لنچ ٹائم یا ڈنر کے وقت میں بیف اسٹیک کا پوچھتاتو گل زمین خان گوگل میپ کھول کر کسی پٹھان کے ہوٹل پر گاڑی روک دیتا۔اور میرے علم میں اضافہ فرماتا کہ کدو کھانا سنت نبوی ہے۔ مجھے اپنی ڈائٹنگ یاد آجاتی اور پھر میں سنت کی پیروی نہ کرکے کافرانہ چہرے کیساتھ واپس ہوٹل پہنچ کر غصے میں ورزش شروع کرلیتا۔

چھ دن ٹور میں فقط شہنیلہ آپا یا انعام خان کے کباب پر زندہ رہا ہوں۔ ابوظہبی میں عظمت نے ڈنر پر بلا کر پائینیپل جوس پلا کر جو مہمانوازی کی ہے۔ اہلیان تلہ گنگ تاقیامت اہلیان کرک سے شرمندہ رہیں گے۔ انشاءاللہ

بالآخر کچھ دن مزید ذلیل ہونے کے بعد بغیر بیف سٹیک کھائے خالی پیٹ اور خالی جیب واپس اپنے گاوں آگیا ہوں۔ گھر پہنچتے اپنا وزن چیک کیا تو پانچ کلو مزید کم ہوگیا تھا۔ بیگم نے مشکوک نظروں سے گُھور کر پوچھا۔کہاں ضائع کرکے آئے ہو اپنی “جوانی” کو؟جواب دیا چار دن بُھوکا رہنے کے بعد اور تین سیر خون جلانے کے بعد بندہ اب قطرینہ کیف نہ بنے تو کیا پلمپر پاس پورن مووی کی موٹی ہیروئن BBW Monica Mazzarita بنے؟

گل زمین خان اللہ کرے اس بار آپ میرے مہمان بن جاؤ۔ میں آپ کو میزبانی دیکھاتا ہوں اگر آپ نے بعد از مہمانوازی یہ نہیں کہا “چہ الکہ دہ خو دے ٹینشن جوڑ کو۔”

تو میرا نام بدل دینا۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *