میلاد النبیؐ، جنگ ستمبر اور ریڈیو پاکستان/مصطفیٰ کمال پاشا

آج بروز ہفتہ 12 ربیع الاول 1447ھ ہمارے لیے مبارک ترین دن ہے۔ آج ہی کے دن رب کائنات نے اپنے محبوب ترین بندے محمد عربیﷺ کو عالم بالا سے عالم فانی میں مبعوث فرمایا۔ آج ہی کے دن کائنات کی وجہ تکمیل کو ظاہر کیا گیا۔ آپ اس دنیا میں تشریف لائے۔ آج پوری دنیا میں بسنے والے خاکی انسان ہی نہیں بلکہ عرشِ معلی پر بسنے والے نوری فرشتے بھی جشن منا رہے ہیں۔ اللہ رب العزت نے ابراہیم علیہ السلام اپنے دوست کے ذریعے انسانوں کی رشد و ہدایت کا جو سلسلہ شروع کیا تھا وہ اپنے محبوب محمدﷺ کی ذات اقدس پر لا کر مکمل کر دیا۔ آپ خاتم النبیین کہلائے۔ اللہ کی طرف سے انسانوں کی رہنمائی کا سلسلہ آپ کے ذریعے مکمل کر دیا گیا اور طے پا گیا کہ محمدﷺ کے بعد اللہ تا قیامت کسی سے مخاطب نہیں ہو گا۔ مالک کائنات نے اپنی مرضی، اپنی رضا محمد عربیﷺ کے ذریعے واضع کر دی، مکمل کر دی اور محمدﷺ کے ساتھ ہونے والی گفتگو تا قیامت قرآن کریم کی شکل میں محفوظ کر دی، ساتھ ہی اعلان کر دیا کہ محمدﷺ آخری نبی ہیں اور قرآن عظیم تا قیامت زیر زبرپیش سمیت محفوظ و مامون رہے گا۔ اسے محفوظ کرنے اور محفوظ رکھنے کی ذمہ داری خود خالق کائنات نے لی ہے، یہی وجہ ہے کہ آج 1447 سال گزرنے کے باوجود قرآن لفظاً لفظاً بھی محفوظ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ نبیﷺ کی حیات طیبہ کا ایک ایک لمحہ بھی سیرت کی کتب میں محفوظ ہے۔ محمد عربیﷺ کے پیغام نے، محمدی شریعت نے، اسلام نے دنیا کے کثیر انسانوں کو متاثر کیا۔ اسلامی تہذیب قائم ہوئی، دنیا نے انصاف اور امن پر قائم معاشرے کا مشاہدہ کیا، دنیا کے بڑے حصے پر، دنیا کے تین براعظموں میں اللہ کے حکم کا نفاذ ہوا۔ اسلامی طرز فکرو عمل نے فروغ پایا۔ آج اگر دنیا مغربی تہذیب کے سائے تلے تعمیر و ترقی کی منازل طے کر چکی ہے تو مغرب کو تہذیب کا سبق، اہل حرم نے ہی پڑھایا تھا۔ مغرب کے مفکرین اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں۔ امریکی سفید قوم پرست مائیکل ایچ ھارٹ نے 1978ءمیں ”تاریخ کے 100 عظیم بااثر شخصیات“ لکھ کر اس بات کی گواہی دی ہے کہ محمد عربیﷺ تاریخ عالم میں سب سے عظیم شخصیت ہے، جس نے دنیا کو متاثر کیا۔ محمدﷺ کا پیغام سب سے زیادہ اثر پذیر ثابت ہوا ہے۔ تہذیبی و تمدنی کے طور پر اسلام نے دنیا پر سب سے زیادہ اثرات مرتب کیے ہیں۔ انسانوں کی بھلائی اور بہتری کے لیے محمدﷺ کی تعلیمات متاثرکن ثابت ہوئی ہیں جبکہ محمدﷺ کی شخصیت، ان کے اعمال، ان کی حیات کی تفصیلات صدیوں سے کروڑوں، اربوں انسانوں کے لئے کامل نمونے کے طور پر دیکھی جاتی رہی ہیں۔ یہ گواہی ایک عیسائی نے، جو سفید انسان کی حاکمیت اور برتری پر یقین رکھتا ہے، دی ہے۔ کامل تحقیق کے بعد، مکمل دلائل کے ساتھ اس نے بتایا ہے کہ محمدﷺ صرف مسلمانوں کے رہنما نہیں ہیں بلکہ وہ انسانیت کے رہبر اور ان کے لیے نمونہ ہیں۔ گویا محمد عربیﷺ کے بارے میں قرآن جو کہتا ہے کہ ”اے نبی محمدﷺ ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے“۔ اللہ نے جو کچھ آپ جنابﷺ کے بارے میں جو کچھ کہا، دنیا نے اس کی گواہی دی ہے۔ اللہ رب العزت ہمیں محمد عربیﷺ کے اسوہ حسنہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائ، آمین۔
آج کا دن 6 ستمبر 2025، ہمیں آج سے 60 برس قبل آج ہی کے دن، ہمارے ازلی دشمن بھارت کے پاکستان پر حملے کی یاد دلاتا ہے۔ ہم اس وقت کسی طور بھی بھارت کے ہم سر نہیں تھے۔ ہماری عسکری صلاحیت، ہمارا ملٹری ہارڈویئر، ہماری معیشت اور سب سے اہم ہماری عسکری عددی حیثیت کسی طور بھی بھارت سے مماثل نہیں تھی۔ بھارتی فوج، اس کے ٹینک، توپیں، جہاز ہم سے تین گنا تھے۔ بھارت نے چپ چاپ چھپ کر پاکستان پر حملہ کر دیا تھا۔ ہمارے انتہائی محترم قدرت اللہ چودھری مرحوم بتایا کرتے تھے کہ بھارتی فوجی برکی روڈ سے ہوتے ہوئے باغبانپورہ اور اس کے نواح تک آن پہنچے تھے۔ لوکل آبادی نے بھارتی فوجیوں کو یہاں پاکستانی سرزمین پر دندناتے ہوئے دیکھا تھا۔ انتہائی مایوس کن صورت حال تھی، ایسے میں فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کی آواز ریڈیو پاکستان کی وساطت سے پوری قوم تک پہنچی اور پھر ہم نے ہماری مسلح فوج نے 17 روزہ جنگ میں بھارتی جارحیت کا قلع قمع کر دیا۔ اس سترہ روزہ جنگ کے دوران قوم نے جس یکجہتی اور اتحاد و تعاون کا مظاہرہ کیا وہ اس کے بعد کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ قومی یکجہتی کی اس فضا کے قیام میں ریڈیو پاکستان لاہور نے فقیدالمثال کام کیا۔ اس وقت ابلاغ عام کے لیے ریڈیو پاکستان ہی واحد ذریعہ تھا۔ ریڈیو پاکستان کے ایک سینئر اہلکار اکمل شہزاد گھمن اس دور کی یادیں تازہ کرتے ہوئے ”انڈی پنڈنٹ اردو ڈاٹ کام میں“ لکھتے ہیں کہ ریڈیو پاکستان سے پہلا ترانہ جو نشر کیا گیا وہ فلم مجاہد کا تھا جسے مسعود رانا اور شوکت علی نے اپنی جاندار اور پُرجوش آوازوں میں گایا تھا۔ ساتھیو، مجاہدو، جاگ اٹھا ہے سارا وطن، یہ قوم کے جذبات کی حقیقی عکاسی تھی، قوم جاگ اٹھی تھی۔ ترانے کے قوم کو جگا دیا تھا۔ ہندوستان نے 6 ستمبر 1965ءکی صبح 4 بجے پاکستان پر حملہ کر دیا۔ پاکستان کو بھارت کی طرف سے اس پیمانے پر جارحیت کی توقع نہیں تھی۔ اسی روز ایوب خان نے قوم سے خطاب کیا اور کہا کہ ہندوستانی حکمران شاید نہیں جانتے کہ انہوں نے کس قوم کو للکارا ہے۔ ایوب خان کی یہ تقریر نشر ہوئی اور وہ چند منٹوں میں دوبارہ ہیرو بن گئے۔ خیال رہے یہ وہی سال ہے جب ایوب خان نے مادر ِ ملت سے الیکشن چھین کر کسی صدارت پر قبضہ کیا تھا، ان کے خلاف والے جذبات بیٹھ گئے اور اب وہ ہیرو تھے۔ ایوب خان کی تقریر سے متاثر ہو کر حمایت علی شاعر نے ترانہ لکھا ”اے دشمن دیں تو نے کس قوم کو للکارا“ ریڈیو پاکستان لاہور نے اس جنگ میں قوم کو متحد اور متحرک رکھنے میں مرکزی کردار ادا کیا، نورجہاں، حبیب جالب جیسے فنکاروں نے آگے بڑھ کر قوم کے جذبات کو ترانوں سے معمور کیا۔ شاعروں، فنکاروں اور موسیقاروں نے مل جل کر ایسے نغمے تخلیق کئے کہ 60 سال گزر جانے کے باوجود آج بھی ان ترانوں کی مہک، خوشبو اور تراوٹ رگ و پے میں اترتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
ریڈیو آج بھی ابلاغ عام کا ایک اہم ذریعہ ہے، امریکی صدر ہر مہینے اپنے ریڈیو خطاب کے ذریعے قوم سے مخاطب ہوتا ہے۔ برطانیہ، فرانس، انڈیا، جرمنی اور دیگر ممالک میںآج بھی ریڈیو ابلاغ عامہ کا اہم ذریعہ ہے مگر افسوس صد افسوس ہمارے ہاں اس اہم ترین ذریعے ریڈیو پاکستان کو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق جدید بنانے کی طرف توجہ نہیں دی جا رہی ہے، ویسے ہمارے ہاں دیگر شعبہ ہائے زندگی بھی زبوں حالی کا شکار ہے اور ریڈیو پاکستان بھی ان میں ہی شامل ہے۔

julia rana solicitors

بشکریہ نئی بات

Facebook Comments

مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply