مکالمہ؛ جاری رہے/ایاز مورس

مکالمہ زندگی ہے اور کوئی بھی زندگی اور معاشرہ مکالمے کے بغیر حقیقی معنوں میں زندہ نہیں رہ سکتا ہے۔ مکالمہ ہر دَور، بالخصوص موجودہ دَور کی اشد ضرورت ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میں یکم ستمبر 2025 کو ”مکالمہ“کی نویں سالگرہ کے موقع پر اپنے خیالات، جذبات اور نیک خواہشات اس تحریر کی صورت میں پیش کر رہا ہوں۔
میرے لیے یہ لمحہ انتہائی خوشگوار تھا جب ”مکالمہ“کی ایڈیٹر محترمہ اسماء مغل نے مجھے وائس میسج کے ذریعے یہ دعوت دی کہ میں نویں سالگرہ کے موقع پر نیک تمناؤں پر مبنی ایک مختصر ویڈیو پیغام بھیجوں۔ میں نے اُن کی اس محبت بھری دعوت کے لیے شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں اس موقع پر ایک خصوصی تحریر بھی لکھوں گا، جو ”مکالمہ“کی شاندار خدمات، افادیت اور کامیاب سفر پر مبارکباد کے طور پر پیش کروں گا۔
قارئین بخوبی جانتے ہیں کہ ”مکالمہ“پاکستان کی اُردو کی صفِ اوّلین ویب سائٹس میں سے ایک ہے، جس نے نئے، منفرد اور متفرق لکھاریوں کو اپنی نگارشات، تحریریں اور مقالات عام لوگوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کا آغاز ڈیجیٹل میڈیا کے ابتدائی دَور میں ہوا جب ایسے معتبر اور مستند پلیٹ فارم بہت کم تھے جہاں نوجوان اور نئے لکھاریوں کو مواقع ملتے اور ان کی تحریروں کی اشاعت سے ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی۔ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے مختلف اوقات میں ”مکالمہ“ پر اپنی تحریریں شائع کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس سے نہ صرف میرا دائرہ وسیع ہوا بلکہ قارئین کا ایک نیا حلقہ بھی میسر آیا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ میرا پہلا مضمون 21 اپریل 2021 کو شائع ہوا، جب میں نے محترم فرخ سہیل گوئندی کی کتاب پر تبصرہ لکھا تو انہوں نے مجھے ”مکالمہ“کے بانی انعام رانا کو بھیجنے کا کہا۔ انعام رانا نے مجھے اسماء مغل سے متعارف کروایااور یوں یہ سلسلہ شروع ہوا۔ اب تک میرے 22 مضامین ”مکالمہ“پر شائع ہو چکے ہیں، جو ٹیم کی بھرپور معاونت اور تعاون کے بغیر ممکن نہ تھا۔ نہ صرف میرے مضامین، بلکہ میں نے کئی نئے لکھنے والوں کو بھی ”مکالمہ“ پر لکھنے کی ترغیب دی جو اب اس قافلے کا حصہ ہیں۔
اس آرٹیکل میں ہم ”مکالمہ“کی چند خصوصیات اور انفرادیت پر بات کریں گے۔
”مکالمہ“ کی ویب سائٹ کا ڈیزائن اور تزئین جاذبِ نظر ہے اور ایک آسان پورٹل میں خوبصورت انداز سے تحریریں شائع کی جاتی ہیں۔
سوشل میڈیا کے تیز رفتار رجحان کو مدِنظر رکھتے ہوئے تحریروں کی اشاعت جلد از جلد کی جاتی ہے، جبکہ دیگر ویب سائٹس بلاوجہ تاخیر کر کے تحریروں کا اثر کم کر دیتی ہیں۔”مکالمہ“ نئے اور غیر معروف لکھاریوں کی معیاری تحریروں کی اشاعت کو یقینی بناتا ہے، جس سے ان کو شناخت اور پذیرائی ملتی ہے اور ان کی تحریریں قارئین تک پہنچ کر بطور حوالہ ان کے تخلیقی سفر میں کام آتی ہیں۔”مکالمہ“ صرف ویب سائٹ تک محدود نہیں رہا بلکہ ڈیجیٹل میڈیا کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے ویڈیوز اور رپورٹنگ کو بھی شامل کر چکا ہے۔
مجھے ذاتی طور پر ”مکالمہ“کا یہ موقف بہت پسند ہے۔
”آئیے نفرت چھوڑ کر محبت کریں، دوری چھوڑ کر قریب آئیں، دشمنی کے بجائے دوستی کریں، غلط فہمی کے بجائے سمجھیں، آئیے مباحثہ نہیں، مکالمہ کریں۔“
ادارہ ”مکالمہ“کے چیف ایڈیٹر انعام رانا سے میری پہلی ملاقات یکم اکتوبر 2022 کو لاہور میں ہوئی۔ فیس بک سے معلوم ہوا کہ وہ لندن سے لاہور آئے ہیں اور اتفاق سے میں بھی کراچی سے لاہور موجود تھا۔ میں نے ان سے رابطہ کیا اور ملاقات کے لیے عکس پبلیکیشن پہنچ گیا، جہاں ان کی کتاب ”بیانئے کی مومی ناک“کی تقریبِ رونمائی تھی۔
تقریب شام چار بجے سے 7 بجے تک تھی۔ میں وقت پر پہنچ گیا تو انعام رانا صاحب وہاں پہلے سے موجود تھے۔ پاکستانی روایت کے مطابق تقریب کچھ تاخیر سے شروع ہوئی۔ چونکہ مجھے 5 بجے ایک طے شدہ میٹنگ اور اس کے بعد واپسی کے لیے ایئرپورٹ جانا تھا، اس لیے میں نے انعام رانا صاحب سے اجازت چاہی اور کہا،”رانا جی، ہمیں معاف کریں، ہمیں جانے کی جلدی ہے۔“
انعام رانا کی شخصیت اور افکار سے میں پہلے ہی ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے واقف تھا، مگر ان سے مل کر ان کے اخلاص نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ ان کی ذات میں کھرا پن، نفاست اور کشش ہے جو ہر اجنبی کو متاثر کرتی ہے۔
”مکالمہ“ کی ٹیم کے دوسرے رکن کے بارے میں ویب سائٹ پر لکھا ہے۔”اسماء محنت کو عبادت اور قلم کو اپنا ہتھیار مانتی ہیں۔“میں نے ہمیشہ انہیں نہایت مہذب اور پروفیشنل پایا۔ وہ دوسروں کی تحریروں کو بڑی خوش اسلوبی سے سنوارتی ہیں۔کوئی بھی دیرپا اور پائیدار ترقی ٹیم ورک کے بغیر ممکن نہیں۔ ”مکالمہ“ کی کامیابی میں ٹیم کی محنت، خلوص، وقت، پروفیشنل اپروچ اور نیک نیتی کا جذبہ کارفرما ہے، جو اس کی مقبولیت اور کامیابی کا ثبوت ہے۔”مکالمہ“ کی نویں سالگرہ کے موقع پر میں انعام رانا اور پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اُمید کرتا ہوں کہ ”مکالمہ“ ہمارے سماج میں نئی روایت، نئی سوچ اور مکالمے کی ضرورت کو فروغ دیتا رہے گا۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply