1947 سے ہی پاکستان میں سیلاب اتنی کثرت سے آتے رہے ہیں کہ انہیں پاکستانی عوام کے لیے ایک دائمی اور تباہ کن چیلنج قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم پاکستانی حکومتوں نے انہیں مستقل بنیادوں پر کنٹرول کرنے کے لیے ناکافی اقدامات کیے ہیں۔ حکومت کی اپروچ یہ رہی ہے کہ فوری ریسکیو اور ریلیف آپریشن شروع کر دیا جائے۔ کبھی اس پہلو پر دھیان نہیں گیا کہ سیلابوں سے نبردآزما ہونے کے لیے کو ئی مستقل حل نکالا جائے تاکہ ان سے ہونے والے نقصانات اور تباہی کو کم سے کم سطح پر لایا جا سکے۔
موسم کی موجودہ صورتحال میں پاکستان کو بڑے سیلاب اور اس وجہ سے ہونے والی تباہ کاریوں کا سامنا ہے، ملک کے مختلف حصوں میں آنے والے سیلابوں سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹس باعث تشویش ہیں۔
سیلاب سے مکمل بچاؤ ممکن نہیں، لیکن جدید انجینئرنگ، ٹیکنالوجی اور منصوبہ بندی سے اس کے نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔ اگر پاکستان میں Early Warning Systems، مضبوط ڈیمز، بہتر شہری منصوبہ بندی، اور ٹیکنالوجی (GIS, Drones, AI) استعمال کی جائے تو لاکھوں جانیں اور اربوں روپے کا نقصان بچایا جا سکتا ہے۔
پنجاب میں چنیوٹ اور کئی دیگرمقامات پر پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت پیدا کی جاسکتی ہے،شمالی علاقوں میں چھوٹے چھوٹے ڈیم بنائے جاسکتے ہیں-جہاں پر سیلاب کا زور زیادہ ہو وہاں پر پانی کا زور توڑنے کے لیے چھوٹے ڈیم پانی زخیرہ کرنے کے لیے ہو اور خشک سالی وہاں سے پانی استعمال میں لایا جا سکتا ہے
دنیا کے دیگر ممالک میں بھی سیلاب آتے ہیں لیکن بہترین انفرااسٹرکچر اور حکمت عملی کے سبب اس کے اثرات اور نقصانات پر کافی حد تک قابو پالیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ اس کے نقصانات کمُ سے کم کیے جا سکتے ہیں-
جدید ٹیکنالوجی اور وسائل استعمال کر کے سیلاب کے نقصانات کو کم کیا جا سکتاہے-
1. ابتدائی وارننگ سسٹم (Early Warning Systems)
مصنوعی سیارے (Satellites) اور ریڈار سسٹمز سے بارش اور دریا کے پانی کی سطح کی نگرانی۔
موبائل فون SMS، ایپس اور سائرن کے ذریعے بروقت عوام کو اطلاع دینا۔
AI اور Machine Learning کے ذریعے بارش اور سیلاب کی پیشگوئی۔
2. دریاؤں اور بندوں کی مضبوطی
جدید انجینئرنگ کے تحت Concrete Embankments اور Flood Walls تعمیر کرنا۔
بڑے دریاؤں کے کناروں پر Geo-synthetic materials سے مضبوط بند باندھنا۔
دریا کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے Flood Diversion Channels اور Bypass Canals بنانا۔
3. ذخائر اور ڈیمز (Reservoirs & Dams)
بارش اور دریاؤں کے اضافی پانی کو روکنے کے لیے بڑے ڈیم اور چھوٹے ریچارج ڈیم بنانا۔
پانی کو بعد میں زرعی اور توانائی کی ضروریات کے لیے استعمال کرنا۔
جدید سینسرز کے ذریعے ڈیمز کے پانی کی سطح کی خودکار نگرانی۔
4. شہری منصوبہ بندی (Urban Planning)
بڑے شہروں میں Underground Water Tunnels اور Storm Water Drains بنانا تاکہ بارش کا پانی فوراً نکل جائے۔
بغیر منصوبہ بندی کے تعمیرات روکنا، خاص طور پر دریاؤں کے کنارے اور ندی نالوں کے قریب۔
“اسمارٹ سٹی” ٹیکنالوجی کے ذریعے نکاسیِ آب کے نظام کی خودکار مانیٹرنگ۔
5. جدید ٹیکنالوجی کا استعمال
GIS (Geographic Information System): خطرناک علاقوں کی نشاندہی اور نقشہ سازی۔
Remote Sensing: سیلاب کے پھیلاؤ کا سیٹلائٹ سے مشاہدہ۔
ڈرونز: پانی کے بہاؤ اور متاثرہ علاقوں کی نگرانی۔
Flood Forecasting Models: ڈیجیٹل ماڈلز کے ذریعے پیشگی
اندازہ لگانا۔ 6. ماحول دوست اقدامات
درخت لگانا تاکہ بارش کا پانی زمین میں جذب ہو سکے۔
ویٹ لینڈز (Wetlands) اور قدرتی جھیلوں کو محفوظ کرنا تاکہ وہ اضافی پانی جذب کریں۔
بدقسمتی سے ہمارے یہاں جنگلات کی شدید کمی ہے اور جنگلات کی موجودگی سیلاب کی تباہ کاریوں کو روکنے کا بہت بڑا ذریعہ ہوتی ہے۔
پرانی کہاوت ہے کہ پانی اپنا راستہ کبھی نہیں چھوڑتا چاہے سو سال بعد بھی آئے لیکن آتا ضرور ہے، لیکن ہوتا یہ ہے کہ ہم کسی نہ کسی صورت میں اس کے راستے میں آجاتے ہیں۔
سیلاب کی شدت اتنی ہے کہ پانی لاہور کے علاقے ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب واقع نجی ہاؤسنگ سوسائٹی ’پارک ویو سٹی‘ میں بھی داخل ہوا جہاں رہائشیوں کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سیلاب سے سوسائٹی میں ڈائمنڈ، اوورسیز، پلاٹینیم بلاکس متاثر ہوئے ہیں جس کی وجہ سے لگ بھگ 2 ہزار افراد کو وہاں سے منتقل ہونا پڑا۔
اس طرح کی ہاوسنگ سوسائٹی کی مستقبل میں اجازت نہیں ہونی چاہیے جو کہ دریا کی قدرتی گزرگاہ کے راستے میں ہو
دریاؤں کے کناروں پر غیر قانونی تجاوزات ختم کرنا۔
پاکستان میں اموات کی بڑی وجہ یہ ہے کہ دریاؤں کے سوکھ جانے سے لوگوں نے دریا کے اندر اور ارد گرد گھر تعمیر کیے ہمارے انتظامی اداروں نے کوئی کارروائی نہیں کی جس وجہ سے اموات اور نقصانات میں اضافہ ہوا۔ ضروری ہے کہ ہم مستقبل میں اس طرح کی تباہی کا سامنا کرنے سے بچنے کے لئے ابھی سے کام شروع کردیں تاکہ دہائیوں سے جاری سیلاب کی تباہ کاریوں سے معیشت کو پہنچنے والے نقصان سے بچنے کا مستقل حل تلاش کیا جا سکے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں