صراحی سرنگوں ہوکر بھرا کرتی ہے پیمانہ/ڈاکٹر نوید خالد تارڑ

لاہور سے گاؤں جانا تھا ، ڈھلتی شام میں گاؤں کو جاتی آخری سواری وہ ٹویوٹا ہی تھا۔ میں اس میں گھسا اور ٹانگوں سے ٹانگیں جوڑ کر بیٹھ گیا۔ سفر کٹتا رہا ، لوگ اترتے چڑھتے رہے۔ گاؤں پہنچنے میں شاید آدھا گھنٹہ باقی تھا کہ کسی اور گاڑی کا ڈرائیور بھی اس گاڑی میں آ بیٹھا۔ بیٹھتے ہی اس گاڑی کے کنڈیکٹر اور ڈرائیور سے زوردار آواز میں گپ شپ کرنے لگا۔

میرے اور اس کے درمیان فقط ایک سواری کا فاصلہ تھا۔ کچھ دیر کی گپ شپ کے بعد اس نے جیب سے موبائل نکالا اور کسی مولوی کی تقریر لگا لی۔ موبائل کا سپیکر بہت بلند لیکن انتہائی برے معیار کا تھا۔ ایسے میں اس مولوی کی چیختی ہوئی آواز کانوں میں شدید انداز میں چبھ رہی تھی۔ میں کچھ لمحے تو برداشت کرتا رہا ، پھر اس سے کہا کہ آواز آہستہ کر لو۔ اس نے میری طرف حیرت سے دیکھا اور بولا کیوں کیا مسئلہ ہے؟

میں نے اپنی بات نرمی سے دہرائی کہ اس کی آواز آہستہ کر لو۔ وہ پھر بولا کہ کیوں ، مسئلہ کیا ہے؟ میں نے بتایا کہ کانوں میں چبھ رہی ہے آواز ، اس لیے آہستہ کر لو۔ وہ سخت لہجے میں بولا کہ کیوں ؟ یہ کون سا گانے ہیں جو تمھیں ان سے تکلیف ہو رہی ہے۔ اسلام کی بات ہو رہی ہے ، مولوی صاحب تقریر ہی کر رہے ہیں تو تمھیں یہ آواز کیوں چبھ رہی ہے؟
اس کا انداز انتہائی غصے والا اور لہجہ بازاری سا تھا۔

میں نے اس دفعہ سختی سے کہا کہ جو بھی لگایا ہوا ہے ، جب میں تنگ ہو رہا ہوں تو آہستہ کرو اسے، ورنہ ہینڈز فری لگاؤ۔
اس نے ڈھیٹ بنتے ہوئے اسی غصے بھرے انداز میں کہا کہ میں نہیں کرتا آہستہ ، کر لو جو کرنا ہے۔۔

اس کے انداز پہ میرے بدن میں غصے کی شدید لہر دوڑی۔ میرا جی چاہا کہ اس کا موبائل پکڑ کر گاڑی سے باہر پھینک دوں۔ گاؤں آنے میں مشکل سے دس منٹ رہ گئے تھے اور میں جانتا تھا کہ وہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا۔ وقتی طور پہ وہ لڑ لیتا، دو مجھے لگا لیتا ، دو مجھ سے کھا لیتا لیکن گاؤں پہنچ کر میں اس کا اچھے سے بندوبست کر سکتا تھا۔

مجھے شدید غصہ آیا ہوا تھا لیکن تب ہی خیال آیا کہ کیا یہی میرا معیار رہ گیا ہے کہ میں اس طرح گاڑی کے ان پڑھ ڈرائیور سے لڑتا پھروں؟ وہ جاہل ہے ، بات نہیں سمجھتا تو کیا میں بھی اس کی برابری پہ آ کر ہاتھا پائی پہ اتر آؤں؟ کیا یہ مجھے جچتا ہے ؟ کیا صرف اپنی انا کی تسکین کے لیے مجھے اس حد تک چلے جانا چاہیے؟
اس ایک لمحے میں آئے اس خیال نے میرے ہاتھ روک لیے۔ میں نے سوچا کیا فرق پڑتا ہے ، اسے چلا لینے دو تقریر، اس کی انا کے غبارے میں ہوا بھر لے ، میرا کیا جائے گا۔ دس منٹ مزید چبھتی ہوئی آواز سن لیں گے لیکن کیا ضرورت ہے اپنا آپ گندا کرنے کی، جانوروں کی طرح لڑنے کی۔ میں چپ ہو گیا ، اسے تقریر سننے دی اور دس منٹ بعد سفر ختم ہو گیا۔

کچھ دن سے تیس روپے کے لیے ہوئی لڑائی کی خبر عام ہے ، اس لڑائی میں اب تک چار جانیں جا چکی ہیں۔ مجھے بار بار خیال آ رہا ہے کہ معاملہ تیس روپے کا تو نہیں تھا۔ معاملہ تو سارا انا اور ضد پہ چلا گیا تھا کہ میری بات کو بڑا کیوں نہیں مانا گیا ، میری بات کو رد کیوں کیا گیا۔ میں تو اپنی بات منوا کر رہوں گا۔ اس ذرا سی انا کی تسکین کے لیے پھل فروش نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ان دو بھائیوں کو جانوروں کی طرح پیٹ پیٹ کر مار دیا اور اب ان مارنے والوں میں سے بھی دو قانون کے شکنجے میں مارے جا چکے۔

کیا ہماری انا کی تسکین اتنی ضروری ہے کہ ہم اس کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے لگیں۔ معاشرے میں معاشی تنگی سے لے کر پھیلے ہر طرح کے مسائل شدید عدم برداشت پیدا کر چکے ہیں۔ کیا ایسے میں یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنی انا کی تسکین چھوڑ کر اپنی اور سامنے والے کی زندگی بچا لیں۔ جہاں معاملہ بگڑ رہا ہو ، خاموشی اختیار کر کے پیچھے ہٹ جائیں، اپنی بات چھوڑ دیں۔

julia rana solicitors london

یہ ذرا سی قربانی ہی تو ہے لیکن یہ ذرا سی قربانی ہمارے عدم برداشت کے شکار معاشرے میں بہت ضروری ہو چکی ہے۔ غصے میں بات بڑھانے سے پہلے ، اپنی جائز بات منوانے کے لیے ہاتھا پائی کی طرف جانے سے پہلے ، معاملہ بگاڑنے سے پہلے ۔۔ گھر میں بیٹھ کر راہ تکتی ماں کو یاد کر لیجیے گا ، اپنے بچوں کے چہرے پہ آئی مسکراہٹ ، بوڑھے باپ کے جھکے کندھے یا بہن بھائیوں کی ذمہ داری یاد کر لیجیے گا، اپنے فرائض کا احساس کر لیجیے گا اور خاموشی سے ہار مان کر اپنے اور سامنے والی کی تکلیف ختم کر دیجیے گا۔ انا قربان کرنا ، بھاری نقصان کرنے سے کہیں بہتر ہے۔ لڑائی جھگڑے ذرا سی بات پہ ہی تو ہوتے ہیں، آپ ایسی ذرا سی بات پہ چپ ہو کر معاملہ اللہ پہ چھوڑ دیجیے گا۔ اور اللہ آپ کو اس کا بہترین اجر دے گا۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply