آج یومِ مزدور ہے۔۔۔سلیم مرزا

میں غربت اور تنگدستی کے ہاتھوں پریشان گھر میں داخل ہوا ۔

آج چھٹا دن ہے کام کا کوئی جگاڑ نہیں لگ رہا ۔
ٹی وی پہ نیازی تقریر کر رہا ہے ۔میں عموماًًً اس پہ توجہ نہیں دیتا،” مگراس کی ایک بات نے مجھے سوچنے پہ مجبور کر دیا ۔
“کہ جب ریاست کسی فرد کے حقوق کی  ذمہ دار نہیں ،تو وہ کیسے ریاست کا وفادار ہوسکتا ہے ”

اس کی اس بات کو اس کے سابقہ روئیے کے تناظر میں دیکھیں تو پی ٹی وی پہ حملہ ۔بل پھاڑنے اور ھنڈی سے پیسہ بھیجنے کے مشورے،
یہ سارے عوامل آج ہمیں اختیار کرنے کی واقعی ضرورت ہے؟

میرے پچاس  برسوں میں اس ملک نے مجھے کچھ نہیں دیا، میرے والدین نے میری تعلیم او ر پرورش کیلئے خود محنت کی،اور ایک اچھا پڑھا لکھا ہنر مند بنا کر اس ملک کو دیا۔۔
لیکن مجھے غلام سمجھا گیا، مجھے ریاست جس حد  تک نچوڑ سکتی تھی،نچوڑتی رہی، مجھے غیر ملکی کمپنیوں کے ہاتھوں یرغمال بنا دیا گیا ، جو میری روزمرہ ضروریات پہ مجھے آج تک لوٹ رہی ہیں،ساتھ ساتھ ان تمام سہولیات سے بھی ہاتھ اٹھالیا گیا جو ریاست کی ذمہ داری تھی۔۔۔گورنمنٹ ٹرانسپورٹ ختم کرکے مجھے موٹر سائیکل رکشہ سے لیکر ویگن والوں تک کی مافیا کے سپرد کیا گیا جو مجھ سے کرائے کے نام پہ من چاہا بھتہ لے رہے ہیں ۔

صحت کی سہولیات ختم کرکے مجھے پرائیوٹ ڈاکٹرز کو دیدیا گیا جو مجھ پہ میڈیکولیگل تجربات کر رہے ہیں، ہرحاملہ عورت پہ سرجیکل اسٹرئیک کرکے سیزیرین بچے پیدا کروا رہے ہیں۔
دوا ساز کمپنیوں سے وزارتیں فیصد سالانہ شرح منافع طے کرکے ڈسپرین تک مجھ سے دور کر رہی ہیں ۔

تعلیم کیلئے سرکاری اسکولوں کو تہمت بنادیا گیا، پرائیویٹ اسکول یونین اتنی طاقتور کر دی گئی کہ آج ہڑتال کردے تو  سارا ڈھانچہ ہی بکھر جائے۔

اب ان سب مردار خوروں کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کے بعد ریاست کو بھی حصہ بقدر جثہ تو چاہیے تھا۔۔لہذا پٹرول، بجلی، گیس کے نام پہ میری ادھ مری لاش کو حکومت نے نوچنا شروع کریا،
میرا قصور کیا ہے، ڈائریکٹ ٹیکس اگر مجھ سے نہیں لیا تو میرا کوئی قصور نہیں، ریاست کو پتہ تھا کہ اگر ڈائریکٹ ٹیکس لیا تو سیدھا جواب دینا ہوگا، ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ساتھ مل کر کنزیومر آئٹمز پہ اور مگر مچھوں کے ساتھ ملکر چینی آٹا گھی پہ ان ڈائریکٹ ٹیکس لگا کر مجھے شب وروز ادھیڑا جارہا ہے ۔

ریاست کے پاس کوئی ایک بھی ایسی چیز ہو جو مجھے فری دی ہو تو بتائے؟

انصاف مجھے خریدنا پڑتا ہے اور چھ گنا قیمت دیکر بھی نہیں ملتا، اپنی حفاظت مجھے خود کرنی پڑتی ہے۔۔
کولیشن سپورٹ کے نام پہ مال ریاست کھاتی رہی، بم مجھے ناشتے میں ملتے ہیں۔
میرا قصور کیا ہے؟

نوازشریف نے جہاز اترنے نہ دیا، خمیازہ آٹھ سال میں نے بھگتا ۔
بے نظیر قتل ہوئی، میری کلٹس تباہ کر دی گئی۔۔۔افغانستان میں اسامہ، امریکہ سے لڑ پڑا، میری قوت خرید سے دومرلے کا گھر نکل گیا۔۔

آج افغان میرے شہر کا سب سے بڑا سرمایہ دار ہے، ہیوی مشینری کی خریدو فروخت سے لیکر سود پہ پیسے دینے تک ہر بزنس ان کے ہاتھ ہے۔۔
یقین نہ ہو تو موبائل اور الیکٹرونکس کے بزنس کو دیکھ لیں، بڑا انویسٹر افغانی ہوگا،اور تو اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کے پیچھے افغان وار ہے۔۔۔
مگر میرا قصور کیوں، ؟

نوازشریف میرے ووٹوں سے نہیں آیا، مگر اس بات پہ نیازی چارسال تک ملکی معیشت کو بلاک کرتا رہا۔۔
ذلیل ہم ہوتے رہے، وہ تو جا رہا ہے کلین چٹ لیکر۔۔۔عمران میرے ووٹ سے نہیں آیا، آٹھ ماہ سے ہر کاروبار کو تباہ کر رہا ہے، یہ ایجنڈا ہے کس کا،؟

مجھے پوچھنے کا کوئی اختیار نہیں،
کیونکہ میں وہ ہوں جو پیدا ہوتے ہی اس خرکار کیمپ میں پھنس گیا ہوں۔۔
مجھے کسی دوسرے خرکار سے بچانے کیلئے بھی مجھ سے اخراجات لئے جاتے ہیں، میری کسی سے کوئی نفرت نہیں ہے تو میں جنگی جنون کی ادائیگی کیوں کروں ؟؟

میرا بھی عمران نیازی کی طرح جی چاہتا ہے کہ سولہ ہزار گیس کابل پھاڑ دوں، میرا بھی دل چاہتا ہے کہ پی ٹی وی کی عمارت پہ بھنگڑے ڈالوں،
مجھے بہت خوشی ہوتی اگر میری شلوار ڈیم فنڈ والے کے منہ پہ لٹکی ہوتی۔۔۔۔۔
مجھے پولیس والوں کو سڑک پہ لٹا کر مارنے کی اجازت ہوتی ،
کبھی کبھی میرا دل یہ بھی کرتا ہے کہ تمام سابقہ مفرور یا بیرون ملک مقیم مقتدر شخصیات کو بلا کر پوچھوں
میرا قصور کیا تھا۔۔۔؟
جب تم لوگ ہی وفادار نہیں تھے  تو مجھے بھی غداری کا ایک موقع تو دے دیتے ۔
نیازی ٹھیک ہی کہتا ہے جب ریاست فرد کیلئے نہیں، تو وہ ریاست سے وفاداری کب تک نبھائے گا ۔
کب تک مزدوری کرکے آنے جانے والوں کو پالے گا ؟؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *