• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • زندگی کا مقصد، فطرت کی ہم آہنگی اور الحاد کا فریب (4) – وحید مراد

زندگی کا مقصد، فطرت کی ہم آہنگی اور الحاد کا فریب (4) – وحید مراد

انسان جب اس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو سب سے پہلے اپنے وجود کا شعور حاصل کرتا ہے۔ وہ ارد گرد کی دنیا کو محسوس کرتا ہے، فطرت کے رنگ اور بہار دیکھتا ہے، اس کی خوبصورتی کو محسوس کرتا ہے اور اپنے اندر بھی ایک کائنات پاتا ہے۔خواہشات، جذبات، محبت، ذوق، مزاج، خواب اور ایک نہ ختم ہونے والی جستجو۔ یہ سب محض اتفاق کا نتیجہ نہیں جیسے ریت کے ذرے کسی طوفان کے بعد خود بخود ایک محل کی شکل اختیار کر لیں۔ ہماری یہ اندرونی اور بیرونی دنیا ایک خاص ترتیب اور ہم آہنگی کے ساتھ بنی ہے جسے فلسفے میں مقصدیت (Teleology)کہا جاتا ہے۔
یہ مقصدیت صرف جسمانی بقا کے لیے نہیں بلکہ ذہنی سکون، روحانی اطمینان اور جذباتی توازن کے لیے بھی ضروری ہے۔ جب ہم کوئی فیصلہ کرتے ہیں، چاہے کسی عزیز کے لیے قربانی دینا ہو یا اپنی پسند کے شعبے میں محنت کرنا، اس کے پیچھے ہمیشہ ایک “کیوں” ہوتا ہے۔ یہی “کیوں” ہماری زندگی کو بے سمت ہونے سے بچاتا ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے ہم سب اپنی زندگی کے ہر لمحے میں کسی نہ کسی مقصد کے تحت سانس لے رہے ہوتے ہیں۔ اگر زندگی کا کوئی مقصد نہ ہو تو ہم کیوں صبح اٹھیں، محنت کریں اور رشتے نبھائیں؟ محبت کا جذبہ، قربانی کی خواہش، خوبصورتی کا ذوق اور کامیابی کی جستجو کہاں سے آ گئی؟ حقیقت یہ ہے کہ انسان فطری طور پر مقصد کے بغیر جی ہی نہیں سکتا۔
جب ملحدین کہتے ہیں کہ زندگی کا کوئی الوہی مقصد نہیں تو دراصل وہ اس ابدی معنویت اور کائناتی حکمت کا انکار کر رہے ہوتےہیں جو صرف خدا کے وجود سے جنم لیتی ہے۔ اس انکار کے بعد انسان اپنی زندگی کو محض ایک حیاتیاتی عمل، حادثاتی ارتقاء اوروقتی لذت سمجھنے لگتا ہے یا اپنی مرضی کا ایک مقصد تراشتا ہے جو اس کے اندرونی خلا کر پر نہیں کر پاتا۔ مقصدیت کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہمیں ہر پل زبان سے کہنا پڑے کہ “میرا مقصد یہ ہے”، بلکہ یہ ہمارے وجود کے دھاگوں میں بُنی ہوئی ہے۔
ہماری سوچ، ہمارا ذوق، ہماری دلچسپیاں، ہمارا مزاج سب ایک خاص ہم آہنگی کا حصہ ہیں جیسے کائنات کے نظام میں ایک ترتیب کارفرما ہے۔ اگر یہ ربط نہ ہوتا تو نہ ہم ذوق محسوس کر سکتے، نہ محبت، نہ امید، نہ ہی خوبصورتی کی پہچان۔ حتیٰ کہ لذت کا احساس بھی اسی مقصدیت کے نظام کا حصہ ہے۔ ایمان اس نظام کو خیر و شر کا شعور دے کر ہمارے احساسات کو معنی بخشتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک نیکی میں ہم جو سکون پاتے ہیں اور ایک گناہ میں جو خلش یا لذت محسوس کرتے ہیں وہ محض حیاتیاتی ردعمل نہیں بلکہ ہمارے اندر موجود شعورِ مقصدیت کا عکس ہے۔ اگر یہ شعور ختم ہو جائے تو لذت بھی ایک بے رنگ اور بے کیفیت شے بن جاتی ہےبالکل ایسے جیسے بغیر ذائقے کی غذا یا بغیر خوشبو کا پھول۔
خوبصورتی چاہے پھول میں ہو، پرندے کی اڑان میں، بارش کی ٹھنڈک میں، سمندر کی روانی میں، موسیقی کے کسی سُر میں یا محبت بھری مسکراہٹ میں،یہ احساس دلاتی ہے کہ کائنات میں کوئی نظم اور معنویت موجود ہے۔ حتیٰ کہ ایک کپ چائے پینے کا لطف بھی اس ہم آہنگی کا نتیجہ ہے جو ہماری عقل، حواس اور فطرت کو مربوط کرتی ہے۔ یہ سب محض کیمیائی ردعمل نہیں بلکہ ایک بڑے تخلیقی منصوبے کا حصہ ہےجسے خالق کائنات چلا رہا ہے۔ اگر زندگی کا کوئی مقصد اور منزل نہ ہو تو جینے کا جواز بھی ختم ہو جائے۔ ایک “سچا ملحد” اگر یہ مانتا ہےکہ زندگی کا کوئی مقصد نہیں تو اسے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اس کا جینا خود ایک تضاد ہے کیونکہ زندہ رہ کر ہی وہ ثابت کرتا ہے کہ زندگی میں کوئی نہ کوئی مقصد موجود ہے، چاہے وہ اسے زبان سے نہ مانے۔
انسان کی فطرت میں یہ صلاحیت رکھی گئی ہے کہ وہ معنی تلاش کرے، امید باندھے ، اپنے خوابوں کے لیے جدو جہد کرے اور کامیابی حاصل کرے۔ ذوق ہمیں خوبصورتی کی پہچان دیتا ہے، مزاج ہماری زندگی کی روش طے کرتا ہے، شوق ہمیں آگے بڑھاتا ہے اور دلچسپی کسی کام میں محو کر دیتی ہے۔ یہ سب عناصر ہماری فطرت میں اس لیے رکھے گئے ہیں تاکہ ہماری زندگی متوازن رہے۔ یہ محض حادثاتی طور پر پیدا نہیں ہو سکتے۔ یہی اوصاف ہمیں جاندار سے “انسان” بناتے ہیں۔
کانٹ نے اپنی کتاب (Critique of Judgment) میں بیان کیا کہ فطرت اور ہماری عقل میں ایک ایسی ہم آہنگی ہے جو ہمیں خوبصورتی اور مقصد دونوں کا احساس دلاتی ہے۔ ہم مٹی اور پانی کا ڈھیر نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کا حصہ ہیں جو ہمیں سمت کا شعور دیتا ہے، امید بخشتا ہے اور ہمیں وسیع تر معنویت سے جوڑتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خدا کا وجود لازمی حقیقت بن جاتا ہے۔ خدا ہی وہ ہستی ہے جو ہمارے وجود کو کائنات کی دھڑکن کے ساتھ ہم آہنگ کرتی ہے ورنہ ہم بکھر جائیں۔
کانٹ نے کہا کہ ہمیں فطرت کو ایسے دیکھنے کی عادت ڈالنی چاہیے جیسے اس میں کوئی مقصد موجود ہو چاہے ہم اسے سائنسی طور پر ثابت نہ کر سکیں۔ یہ مقصدیت ایک رہنما اصول ہے جو ہماری سوچ کو منظم کرتا ہے اور پیچیدہ مظاہر کو سمجھنا آسان بناتا ہے۔ ارسطو کے مطابق ہر شے کا ایک “حتمی سبب” ہوتا ہے یعنی وہ مقصد جس کے لیے وہ وجود میں آئی۔ زندگی میں یہ مقصدی اندازِ بیان خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ جانداروں کے تمام اعضاء میں پائی جانے والی ہم آہنگی کی وضاحت کرتا ہے ۔
انیسویں اور بیسویں صدی کی سائنسی ترقی نے بہت کچھ سبب و مسبب کے ذریعے سمجھایا مگر جانداروں کی پیچیدگی اور اعضا کی باہمی مطابقت ایسی ہے کہ محض میکانکی قوانین پوری تصویر پیش نہیں کر سکتے۔ مثال کے طور پر پودے کے پتے، شاخیں اور جڑیں اس طرح مربوط ہیں کہ ایک مکمل زندگی کا نظام بناتے ہیں۔ یہی مشاہدہ ہمیں مقصدیت اپنانے پر مجبور کرتا ہے۔
خدا اس نظام کا مرکز ہے۔ جیسے موسیقار تمام سازوں کو ہم آہنگ کر کے ایک خوبصورت دھن پیدا کرتا ہے ویسے ہی خدا زندگی اور کائنات کو ایک معنوی دھن میں بدل دیتا ہے۔ اس ہم آہنگی کے بغیر زندگی بکھر کر بے معنی ہو جاتی ہے۔ وہی ہماری فطرت کو ترتیب دیتا ہے، عقل کو سمت دیتا ہے اور ارادوں کو توانائی بخشتا ہے۔ ہم کسی شے کو بغیر مقصد کےدیکھنا قبول نہیں کرتے، ہر منظر میں ایک معنی تلاش کرتے ہیں۔ چونکہ ہم فطرتاً اس معنویت اور ہم آہنگی کو محسوس کرتے ہیں اس لیے چاہے کوئی خود کو ملحد کہے یا مومن وہ اندر سے اسی مقصدیت کا قیدی ہے۔
انسان اپنی فطرت کے اس حصار کو توڑ نہیں سکتا جس کےتحت اس کا وجود اپنا مقصد اور کائنات کی غایت تلاش کرتا ہے۔ یہ تلاش صرف خارجی دنیا میں نہیں ہوتی بلکہ اندر کی شعور ساخت، ذوق اور وجدان میں بھی جاری رہتی ہے۔ “جس نے اپنے نفس کو پہچانا،اس نے اپنے رب کو پہچانا” کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کی طرح ہمارے اندر بھی ایک نظم، ایک سمت اور ایک اعلیٰ مقصد پوشیدہ ہے اور جب یہ اندرونی مقصد کائناتی نظم کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتا ہے تو انسان کو زندگی کا سکون اور وجود کا اصل مفہوم ملتا ہے۔
جو شخص کہتا ہے کہ وہ ملحد ہے مگر کسی نہ کسی مقصد کے لیے جیتا ہے وہ لاشعوری طور پر خدا کی دی ہوئی مقصدیت کو قبول کر رہا ہے۔ چاہے وہ زبان سے انکار کرے مگر اس کا جینا اس بات کا ثبوت ہے کہ کائنات ایک ہم آہنگ اور بامقصد نظام ہے جس کا ایک خالق ہے اور جس نے ہمیں جینے کی وجہ دی ہے۔ ہم جیتے ہیں کیونکہ ہمارا جینا خود اس منصوبے کا ثبوت ہے۔ خدا اس منصوبے کا خالق ہے اور مقصدیت اس کا نقشہ۔ جو اسے پہچان لیتا ہے، زندگی کو ایک حسین سفر کے طور پر جیتا ہے اور جو انکار کرتا ہے وہ بھی اسی سفر پر ہے، بس آنکھوں پر انکار کی پٹی بندھی ہوئی ہے۔
ملحد کی نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کے انکار کی بنیاد صرف عقل یا سائنسی دلائل نہیں بلکہ ایک خاص ذہنی کیفیت اور اندرونی کشمکش ہوتی ہے۔ بظاہر وہ خود کو ایک “غیر جانبدار محقق “ظاہر کرتا ہے لیکن عملی طور پر اکثر وہ اپنے ہی ذہنی تعصبات، تجربات اور جذبات کا قیدی ہوتا ہے۔ اس نے پہلے سے یہ فیصلہ کر رکھا ہوتا ہے کہ خدا، وحی یا ماورائی حقیقت کو تسلیم نہیں کرنا اس لیے ان کے حق میں آنے والے ہر ثبوت یا دلیل کوفوراً رد کر دیتا ہے۔ اس کی سوچ کا مرکزی دھارا اس مفروضے پر چلتا ہے کہ چونکہ ماورائی حقائق کو سائنسی طورپر ثابت نہیں کیا جا سکتا اس لیے ماننا فضول ہےحالانکہ اصل محقق وہ ہوتا ہے جو اپنی پیشگی رائے کو ایک طرف رکھ کر ہر امکان کو کھلے ذہن سے پرکھے۔
ذہنی جمود، دفاعی میکانزم، تعصب پر مبنی سوچ اور وجودی بے چینی (existential anxiety) اسے سچائی کی متوازن تلاش سے روک دیتے ہیں۔ وہ اپنی فکری دنیا کو صرف مادی دلائل تک محدود رکھتا ہے اور اس فطری کشش کو نظر انداز کر دیتا ہے جو انسان کو کسی بڑے اور لازوال مقصد کی طرف کھینچتی ہے۔ یہ مقصد اور غایت ایسی حقیقت ہے جسے ہر انسان اپنے شعور، باطنی تجربات اور احساسات سے پہچانتا ہے۔ یہ ہمیشہ بیرونی پیمانوں سے نہیں ناپی جا سکتی۔
جب کوئی ملحد اس اندرونی تجربے سے منہ موڑتا ہے تو ایک ذہنی خلا میں پھنس جاتا ہے۔ اس کے پاس اس وجودی بحران (existential crisis) کو پُر کرنے کا کوئی مضبوط سہارا نہیں رہتا۔ خدا پر ایمان رکھنے والے اس اضطراب کا مقابلہ ایک اعلیٰ مقصد، کائناتی نظم اور تخلیق کے شعور سے کرتے ہیں لیکن ملحد چونکہ ماورائی حقیقت کو رد کرتا ہے اس لیے وہ خوف اور عدم تحفظ سے بچنے کے لیے مختلف دفاعی راستے اپناتا ہے۔کبھی طنز و مزاح کے پردے میں اپنے اندر کے سوالات کو ہلکا کرنے کی کوشش، کبھی سائنسی اصطلاحات کی آڑ میں اپنی ذاتی تشویش کو چھپانا اور کبھی ایسے دلائل تراشنا جو بظاہر منطقی لگیں مگر دراصل یہ اس کی پہلے سے طے شدہ نفی کو محفوظ رکھنے کے لیے ہوتے ہیں۔
وہ یہ نہیں مانتا کہ اس کا استرداد بھی ایک فلسفیانہ مفروضے پر کھڑا ہے کوئی قطعی سائنسی حقیقت نہیں۔ وقت کے ساتھ یہ رویہ مستقل انکار (state of denial)، نفسیاتی خودفریبی (self-deception) اور فکری غرور میں ڈھل جاتا ہے۔ یوں اس کی سوچ کا دائرہ محدود اور اس کا اندرونی سفر نامکمل رہتا ہے۔ وہ کھلے ذہن والا محقق بننے کے بجائے ایک دفاعی ذہن رکھنے والا نکتہ چیں بن جاتا ہےجو حقیقت تک پہنچنے کے بجائے ہر دلیل کو رد کرنے میں مہارت حاصل کر لیتا ہے۔ اور یوں زندگی کی اصل معنویت اور سکون ہمیشہ اس کی دسترس سے باہر رہتا ہے۔ (جاری ہے)
پانچویں قسط: اسلامی معاشروں میں حقیقی ملحد پیدا ہو ہی نہیں سکتے؟ پھر یہ الحاد کا دعویٰ کرنے والے کیا محض نقال ہیں؟

julia rana solicitors london

جاری ہے

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply