تین سال بعد تاریخ خود کو دہرا رہی ہے/ڈاکٹر محمد شافع صابر

یہ بلاگ دراصل میری تین سال قبل لکھی گئی فیسبوک پوسٹس کا مجموعہ ہے۔ جو تباہی سیلاب نے آج سے تین سال قبل پھیری تھی،حالات آج اس سے بھی بدترین ہیں۔ غیر معمولی مون سون بارشوں نے پورے پاکستان میں تباہی پھیر دی۔ سوات،بونیر اور باجوڑ سیلاب میں ڈوب گئے، سوات میں ہوٹل گرے،لوگوں کی جان،مال اور مویشی اس سیلاب کی نذر ہوئے ۔
اب پنجاب میں سیلاب نے تباہی مچائی ہوئی ہے۔ سیالکوٹ،ناروال، ظفروال جیسے سرحدی شہر سیلاب میں ڈوب چکے ہیں،شہروں کو بچانے کے لئے ہیڈ ورکس کے بند توڑے جا رہے ہیں۔
لاہور شہر میں دریائے راوی کی زمین پر نیا شہر بسانے کے لئے روڈا ( راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی) بنائی گئی تھی ۔ اس نے کوڑیوں کے مول زمین رئیل اسٹیٹ مافیا کو نئی سوسائٹیز بنانے کیلئے دی،وہ ساری سوسائٹیز اب سیلاب میں ڈوب چکی ہیں ۔
گلگت بلتستان،کشمیر سے تباہی مچاتا سیلاب کے پی کے کو تباہ کر کے پنجاب میں داخل ہوا ۔ اب وہاں سے یہی سیلاب سندھ میں تباہی مچائے گا اور آخرکار سمندر میں جا کر سکون لے گا۔ ہم ملین کیوسک پانی جس کی قیمت اربوں روپے ہے،کو سمندر میں گرتا دیکھے گے،جسکو سنبھالنے کے لئے نا ہمارے ڈیم ہیں ، نا نہریں ہیں اور نا ہی وسائل۔ دو تین مہنیوں بعد خشک سالی ہمارا مقدر ہو گی اور چل سو چل۔۔۔
میری تین سال قبل لکھی گئی پوسٹ ملاحظہ فرمائیں

julia rana solicitors

“سوات اور کالام میں ہوٹل دھڑا دھڑ گر رہے ہیں، یہ وہ ہوٹلز ہیں جو دریا کنارے بنائے گئے، انکے چارجز بھی عام ہوٹلز سے زیادہ تھے کیونکہ انکا ویو اچھا تھا ،بکنگ بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر تھی ۔
یہ تمام وہ ہوٹلز ہیں جو کہ environmental laws کے خلاف بنائے گئے تھے ۔ ایسی جگہوں پر بنائے گئے کہ جو کہ پانی کے قدرتی بہاؤ کے عین درمیان میں تھی۔ دریائے سوات کے کنارے ہوٹلز غیر قانونی طور پر بنائے گئے ۔
محکمہ انہار، جنگلات و بلڈنگ کے افسران کو بھاری رشوت دیکر یہ جگہیں خریدی گئی، تعمیرات کئی گئی ۔ بلڈنگز بناتے وقت یہ خیال نا کیا گیا کہ اگر خدانخواستہ سیلاب آ گیا، گلیشئر پگھلے تو کیا ہو گا؟؟ پہاڑی علاقوں میں زلزلے بھی زیادہ آتے ہیں، کیا بلڈنگز اس معیار کی بنائی گئیں کہ وہ زلزلوں کو برداشت کر سکیں تو جواب نفی میں ہو گا۔
جب آپ قدرتی اصولوں کے خلاف، بے تحاشا بلڈنگز بنائیں گے، تو یہی ہو گا۔ پانی اپنے راستے سے ہی بہے گا، اسکے راستے میں جو بھی بلڈنگ آئے گی، پانی اسے نہیں چھوڑے گا۔ پھر آپ لاکھ اذانیں دیں، جولیاں اٹھا اٹھا کر دعائیں مانگیں، اپکی غیر قانونی تعمیرات نہیں بچیں گی۔ یہی قدرت کا انصاف ہے، اور مفاد پرست بزنس مین اسی کے حقدار ہیں ۔
عام آدمی تو حکومتی نااہلی کی بھینٹ چڑھا، اس بیچارے کو کوئی نہیں پوچھنے والا ۔یہ کھرپ پتی بزنس مین، جنہوں نے قدرتی ماحول کو تباہ کر کے تعمیرات بنائیں، انکو حکومتوں نے دوبارہ اونے پونے داموں سے تعمیرات کی اجازت دے دینی ہے، اور پھر قدرت اپنا انتقام لے گی اور یہ ایسے ہی چلتا رہے گا۔تین سال قبل لکھا گیا،آج حالات اس سے کہیں زیادہ تشویشناک ہیں اور یہی ہماری اجتماعی ناکامی ہے۔
آخری علی الاعلان ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے تقریباً ساری جماعتوں کو کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لیے منا لیا تھا۔ جسکی فزیبلٹی رپورٹ پبلش ہوئے دہائیاں ہو چکی تھیں۔ تقریباً سبھی قوم پرست جماعتیں مان گئی تھیں، عوامی نیشنل پارٹی (Anp) نا مانی ۔ بقول اسکے، کالا باغ ڈیم بننے سے نوشہرہ ڈوب جائے گا، سرحد و سندھ کا پانی پنجاب کو ملے گا۔ اسی کی دیکھا دیکھی سندھی قوم پرست بھی دوبارہ مخالفت میں آ گئے ۔
آج تقریباً دو عشروں کے بعد صورتحال دیکھ لیجئے ۔ کالا باغ ڈیم نا بننے کے باجود بھی نوشہرہ ڈوبنے کے قریب ہے، چارسدہ کو خالی کرنے کے اعلانات کیے جا رہے ہیں، نوشہرہ ڈوبنے کا خطرہ برقرار ہے۔ دہشتگردوں ،طالبانوں سے خالی کروائی گئی وادی سوات ڈوب چکی۔ اندرون سندھ، سندھی وڈیروں کے سارے علاقے زیر آب ہیں. خود وڈیرے اپنی فصیلں اور زمینیں نا بچا سکے۔ اگر کالا باغ ڈیم بن جاتا، نوشہرہ، چارسدہ، اندرون سندھ کھبی سیلاب سے متاثر نا ہوتے ۔
ڈکٹیٹر نا منا سکا، اور نا ہی بنا سکا۔سیاست دان اپنی سیاست بچانے کے چکر میں نا بنا سکے۔ نتیجتاً ہمارے آنکھوں کے سامنے ہمارے شہر ڈوب گئے ۔ ہم تباہ و برباد ہو گئے ۔ ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے سیلاب میں اپنے مکانات گرتے دیکھے۔
اس سب کے باوجود بھی، ہم مر جائیں گے، ڈوب جائیں گے، لیکن ڈیم نہیں بنائیں گے۔اتنے جنازے تو پڑھ لیے، لگے ہاتھوں اپنی بے حسی و اجتماعی ناکامی کا جنازہ بھی پڑھ لیجئے ”
بھارت پانی روکے تو آبی جارحیت،بھارت پانی چھوڑے تو آبی جارحیت ۔ ہمارے پاس اسکے دونوں حربوں کا کوئی توڑ نہیں ہے۔ چھوٹے ڈیم ہم نے بنانے نہیں،بڑے ڈیمز کے لئے وسائل نہیں اور کچھ پر ہماری سیاسی جماعتیں راضی نہیں ۔
پچھلے سال وفاقی حکومت نے دریائے سندھ سے نہریں نکال کر چولستان کی زمین آباد کرنے کا سوچا تھا۔ ان میں کچھ نہریں ایسی تھی،جن میں صرف سیلانی صورتحال کی وجہ سے،ایکسٹرا پانی ان نہروں میں سے بہتا ہوا چولستان جانا تھا۔لیکن سندھ کی سیاسی اور علاقائی جماعتوں کے شدید احتجاج پر وہ منصوبہ ختم کرنا پڑا۔۔ اب وہی ایکسٹرا سیلابی پانی آدھے پنجاب میں تباہی مچا چکا ہے اور اسکے بعد سندھ میں بھی وہی پانی تباہی مچائے گا۔۔لیکن اسکے باوجود ہم نے ڈیموں کی بھی مخالفت کرنی ہے اور نہروں کی بھی۔ تو آئیے اپنی اجتماعی ناکامی،نااہلی اور بے حسی پر روتے ہیں ۔۔جبکہ مزید تباہی و بربادی ہماری منتظر ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply