ڈاکٹر خالد سہیل کا ڈاکٹر عابد نواز کو خط نمبر ۱۵
حضرت عابد نواز و دماغ نواز و دل نواز !
آپ نے جس تفصیل سے شعبہ چشم اور امراض چشم کا ذکر کیا ہے وہ آپ کے علمی تبحر کی ترجمانی کرتی ہے۔ آپ کے مریض اور شاگرد خوش قسمت ہیں کہ انہیں آپ جیسا ڈاکٹر اور ٹیچر ملا۔
وقت کے ساتھ ساتھ ہماری شخصیت کی صنعت تضاد بڑھتی جا رہی ہے۔
ہم دونوں میں پہلی صنعت تضاد یہ تھی کہ
آپ پارسا میں پاپی
پھر دوسری صنعت تضاد کا پتہ چلا ہے
آپ کے خطوط مذاہیہ اشعار سے پر
میرے خطوط سنجیدہ و غیر مذاہیہ
اب تیسری صنعت تضاد کا پتہ چلا کہ
آپ کا حافظہ بہت اعلیٰ اور فدوی کا حافظہ بہت ادنیٰ
میرا ایک شعر ہے
میں اپنی اس بری عادت پہ خود ہی مسکراتا ہوں
میں اپنے آپ کو اکثر کہیں پر بھول آتا ہوں
جب تک آپ کا نیا خط آتا ہے میں اپنا پرانا خط بھول گیا ہوتا ہوں۔ اب مجھے یہ دھڑکا لگا کہ اپنی باتیں دوبارہ لکھ کر کہیں آپ کو بور نہ کروں۔ اس لیے سارے خط پڑھے اور یہ سوچ کر حیران ہوا کہ ہم دونوں نے
اسی دنوں میں
پندرہ خط
پندرہ ہزار الفاظ
اور اسی صفحات لکھ ڈالے ہیں۔
اس کا سارا کریڈٹ آپ کو جاتا ہے کہ آپ نے اتنے
دلچسپ و دلپزیر و دلنواز
خطوط لکھے ورنہ خطوط کا یہ سلسلہ منقطع ہو جاتا۔
میری کتاب سالک پر جہاں ’ہم سب‘ کے انٹرنیٹ میگزین پر تبصرے چھپے ہیں وہیں ایک دوست ہما دلاور نے مجھے ایک خط کے ذریعے اپنے تاثرات بھیجے ہیں جو میں آپ کو بھیج رہا ہوں امید ہے پسند آئیں گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالک کی نذز
:اور خضر نے کہا
“میں نے خواب بُنے، مگر کبھی جاگا نہیں،
میں نے سانس لی، مگر کبھی جیا نہیں،
میرے قدم رسموں کی راہوں میں الجھے رہے،
اور میرا دل، خواہشوں کی راکھ میں دبا رہا۔”
تب اک درویش، جو ہوا کی سرگوشیوں میں بستا تھا،
مسکرایا اور کہنے لگا:
“اے سالکِ بے خبر!
تو نے ان راستوں پر سفر کیا جو تیرے آبا کے تھے،
مگر کبھی اس راہ پر نہ چلا جو تیرے اندر بستی ہے۔
تو نے ان دیواروں کو سجدہ کیا جو صدیوں سے کھڑی ہیں،
مگر کبھی اس چراغ کو نہ جلایا جو تیری روح میں دفن ہے۔”
اور خضر نے پوچھا:
“کیا یہ بھی ایک خواب ہے؟
کیا زندگی وہی ہے جو مجھے سکھائی گئی؟”
درویش نے آسمان کی وسعتوں کو دیکھا،
ہوا میں بکھرتی روشنی کو چھوا اور کہا:
“زندگی خواب نہیں، مگر وہ جو خواب میں جیتا ہے،
وہ کبھی بیداری کی روشنی کو نہیں دیکھتا۔
جو زنجیروں سے لپٹا رہتا ہے،
وہ پرواز کی وسعتوں کو نہیں جانتا۔
جو سوالوں سے ڈرتا ہے،
وہ حقیقت کے دریا میں کبھی غوطہ نہیں لگاتا۔”
تب خضر نے اپنی زنجیریں توڑیں،
اور پہلی بار مٹی کو اپنی ہتھیلی پر محسوس کیا،
پہلی بار ہوا کو سینے میں اتارا،
پہلی بار زندگی کو اپنی آنکھوں میں دیکھا۔
اور روشنی اس کی پلکوں پر اتر آئی،
وہ روشنی جو صرف ان کے نصیب میں آتی ہے،
جو خواب سے جاگنے کی ہمت رکھتے ہیں،
جو خود کو پانے کے لیے خود کو کھو دینے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔
ہمادلاور
۲۴ فروری ۲۰۲۵
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پچھلے دنوں میں نے انقلابی دانشور عزیزالحق کی بیٹی مس حور کے لیے ایک نثری نظم لکھی تھی۔ ملاحظہ ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک انقلابی کی بیٹی کے نام
ایک شام اس نے مجھ سے کہا
میرے والد ایک انقلابی تھے
انہوں نے اپنی جوانی میں ہی
روایت سے بغاوت کی
لیکن اس بغاوت کی
ان کے بچوں کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑئ
میں نے اس سے کہا
نیلسن منڈیلا کا خیال تھا
کسی بھی انقلابی کو شادی نہیں کرنی چاہیے
کیونکہ
اس کی انقلاب سے پہلے ہی شادی ہو چکی ہوتی ہے
اس نے کہا
میں اپنے والد کے بارے میں
کچھ زیادہ نہیں جانتی
میں ابھی بچی ہی تھی
کہ وہ
اس جہان فانی سے کوچ کر گئے
میں نے کہا
تمہارے والد چے گویرا کے مداح تھے
اور چے گویرا نے
انقلاب کو گلے لگاتے وقت
اور کیوبا سے رخصت ہوتے وقت
اپنے بچوں کو خط لکھا تھا
وہ بچے بھی
تمہاری طرح بہت چھوٹے تھے
میں نے اس خط کا ترجمہ کیا ہے
کہنے لگی
مجھے وہ خط سنائو
میں نے کہا
چے گویرا فرماتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے بچو !
اگر تمہیں یہ خط پڑھنے کا موقع ملے
تو جان لینا
میں اس دنیا سے رخصت ہو چکا ہوں
میں تمہیں یاد نہیں رہوں گا
کیونکہ جب میں رخصت ہوا تھا
تم بہت چھوٹے تھے
میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ
تمہارے والد کے چند آدرش تھے
اور وہ اپنے آدرشوں سے وفادار تھا
میری دعا ہے
تم بھی بڑے ہو کر انقلابی بننا
اور دوسرے انقلابیوں کے ساتھ مل کر کام کرنا
تم دنیا میں جہاں بھی
اور جس کسی کے ساتھ بھی
ناانصافی ہوتے دیکھو
تو اس کے خلاف احتجاج کرنا
یہی کسی انقلابی کی
سب سے زیادہ خوبصورت خصوصیت ہے
ایک محبت بھرے معانقے
اور ایک
پیار بھرے بوسے کے ساتھ
تمہارے پاپا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے کہا
کاش میں اپنے والد سے اب مل سکتی
میں نے کہا
اگر تم آئینہ دیکھو
تو تمہیں
اپنے چہرے میں
اپنے والد کا چہرہ دکھائی دے گا
کیونکہ
تمہاری رگوں میں ان کا خون دوڑ رہا ہے
اور تمہارے سینے میں
ان کا دل دھڑک رہا ہے
اسی لیے تم
جب بھی کوئی ناانصافئ دیکھتی ہو تو
تمہارا دل زور زور سے دھڑکتا ہے
میری باتیں سن کر
وہ
جو ایک انقلابی کی بیٹی ہے
کسی گہری سوچ میں ڈوب گئی
خالد سہیل
۷ دسمبر ۲۰۲۴
ایک بجے رات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت عابد !
میں چونکہ اگلے سال کلینک سے ریٹائرمنٹ کا سوچ رہا ہوں اس لیے آپ سے جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کے ریٹائرمنٹ کے بارے میں کیا خیالات و تاثرات ہیں؟
آخر میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ میں نے ایک خواب دیکھا کہ میں پشاور میں ہوں اور آپ مجھے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے کیفی ٹیریا لے کر گئے ہیں جہاں ہم گرم گرم چائے پی رہے ہیں اور سموسے کھا رہے ہیں۔ پھر مجھے دور سے دو کلاس فیلو
غلام محی الدین اور سجاد دکھائی دیتے ہیں اور میں انہیں چائے کی دعوت دیتا ہوں۔
اگر میں نے اگلے سال ریٹائرمنٹ لے لی تو پھر عین ممکن ہے یہ خواب شرمندہ تعبیر ہو جائے۔
اب آپ بتائیں کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور اور صوبہ سرحد پختون خواہ پچھلے پچاس سال میں کتنا بدل گئے ہیں؟
آپ کا مداح
خالد سہیل
مارچ ۲۰۲۵
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خط نمبر ۱۶۔۔۔۔ڈاکٹر عابد نواز کا ڈاکٹر خالد سہیل کو خط
والا تبار، صحبَت بَرار, ندرت نگار, خدمت شعار، عالی وقار، خضرِ مدار، شیریں گفتار، نفس سنوار جناب خالد سہیل
آپ کا محبت نامہ حسب معمول خلوص و اخلاص کا مرقع ہے
آپ نے تین صنایع تضاد کا ذکر کیا ہے کہیں یہ نہ ہو کہ یہ شمار بڑھتے بڑھتے صنایع و بدایع کی جدول بن جائے بہر حال غنیمت ہے کہ ہم ہر تضاد پر مکرر ارشاد کہہ سکتے ہیں ورنہ معمولی تضاد بوجہ عدمِ لچک، خاصیت فولاد ایجاد کر لیتا ہے اور پھر ایسی صورتِ ناشاد ظہور پذیر ہوتی ہے کہ سب کچھ برباد ہو جاتا ہے پھر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ معمول پر آنے کے لیے کتنی معیاد درکار ہو گی تاکہ پھر سے فضا معطرِ شمشاد ہو جائے اور پھر یک گونہ فضائے آزاد میں جناب فرہاد متعاقب شیریں ہو کر بالاخر حصول مراد میں شاد کام ہو جائیں نہ کہ حسب معمول مجسم فریاد، تصویرِ داد و بیداد بن جائیں اور ان پر ماضی میں جو افتاد آ پڑی تھی اس کے بارے میں مدام گریہ مناد رہیں
صنعت تضاد کی روداد کچھ طوالت نہاد ہو گئی ہے بہرحال امید رکھنی چاہیے کہ نہ تو یہ ضربت فساد اور نہ ہی مجموعہ اضداد کی شکل اختیار کرے گی
سردست تو اتنا ہی کہیں گے کہ
ہمارے قول و عمل میں تضاد کتنا ہے
مگر یہ دل ہے کہ خوش اعتقاد کتنا ہے
مرتضیٰ برلاس
آپ نے خود کو بھول جانے کی بھی خوب کہی ہے یہ بھی کارآمد صفت ہو سکتی ہے ورنہ
مگر نہ سیکھ سکا خود کو بھولنے کا ہنر
تمام عمر گنوا دی کتاب پڑھتے ہوئے
مشتاق احمد مشتاق
سالک پر ہما دلاور کا تبصرہ دلچسپ ہے محترمہ ہما کوئی ہما شما تو ہیں نہیں لہذا حد درجہ سلیقے سے خضر موصوف کے لیے خضر راہ بن جاتی ہیں بلکہ خضر کی مدرس کا شائبہ ہوتا ہے
Che Guevara
کے کلام کا ترجمہ بر محل ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ تعلیمی اور پیشے کے لحاظ سے میڈیکل ڈاکٹر تھے بعد میں اپنے بنیادی پیشے کو چھوڑ کر انقلابی سرگرمیوں میں مشغول ہو گئے ہم نے تو ان کے بارے میں ساٹھ کی دہائی میں پڑھا تھا جب وہ حیات تھے اور پھر ان کی وفات کے بارے میں بھی پڑھا تھا لیکن یہاں پر پڑھے لکھے لوگوں کی بھی اکثریت ان سے ناواقف ہے البتہ رکشوں کی پشت پر ان کی بڑے سائز کی تصویر دیکھنے میں آجاتی ہے پھر پتہ چلتا ہے کہ نہ تو کوئی ان کے نام اور نہ ہی ان کی زندگی کے بارے میں جانتا ہے اور ان کی تصویر کی مقبولیت کی وجہ ان کے بالوں کا اسٹائل اور ٹوپی پہننے کا انداز ہے حالانکہ یہ وہی تصویر ہے جس کی نوعیت یہ ہے کہ
Emphasizing the image’s ubiquitous nature and wide appeal, the Maryland Institute College of Art called the picture a symbol of the 20th century and the world’s most famous photograph.
According to the Victoria and Albert Museum the photograph has been reproduced more than any other image in photography.
Jonathan Green, director of the UCR/California Museum of Photography, has speculated that it mysteriously reappears whenever there’s a conflict. There isn’t anything else in history that serves in this way.
مزاحمت اور انقلاب کا استعارہ بننے والی یہ ہستی یہاں اکثریت کے لیے اجنبی ہے
آپ نے صوبے میں تبدیلی کے بارے میں پوچھا ہے بے شمار تبدیلیاں وقوع پذیر ہوئ ہیں ان سب کا احاطہ کرنا یہاں مشکل ہے صرف ہماری دلچسپی کی تبدیلی کو اگر دیکھا جائے تو ہماری طالب علمی کے زمانے میں پورے صوبے میں ایک ہی میڈیکل کالج یعنی خیبر میڈیکل کالج موجود تھا اب خیبر میڈیکل یونیورسٹی وجود میں آئی ہے اور میڈیکل کالجوں کی تعداد کچھ یوں ہے
پشاور : آٹھ
ایبٹ آباد : چار
سوات : دو
اور ایک ایک مندرجہ ذیل اضلاع میں
مردان
نوشہرہ
صوابی
ڈیرہ اسماعیل خان
بنوں
کوہاٹ
ان بیس میڈیکل کالجوں میں دس سرکاری اور دس پرائیویٹ ہیں جو سب پی ایم ڈی سی سے منظور شدہ ہیں
پشاور میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے علاوہ خیر ٹیچنگ ہسپتال اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے نام سے دو بڑے ہسپتال وجود میں آئے ہیں جبکہ پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کے اپنے ٹیچنگ ہسپتال ہیں صوبے کے باقی اضلاع میں بھی ٹیچنگ ہسپتالوں کا جال بچھ چکا ہے
لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا حلیہ بدل چکا ہے متعدد پرانی عمارات کو مسمار کر کے نئ تعمیرات وجود میں آئی ہیں میڈیکل وارڈز، گائنی وارڈز، آئ اور ای این ٹی وارڈز اور ان کے آپریشن تھیٹرز، اوپی ڈی اور کیژولٹی کی عمارتوں کی جگہ اب کئ منزلہ نئے بلاک تعمیر کئے گئے ہیں بولٹن بلاک اور سرجیکل بلاک کے سوا اب کوئی پرانی عمارت باقی نہیں رہی ہے وہ کینٹین جس میں آپ نے چائے اور سموسوں سے لطف اندوز ہونے کا خواب بیان کیا ہے وہ اب موجود نہیں ہے میڈیکل وارڈز اور ان سے متصل مذکورہ کینٹین کی جگہ اب ایک بہت بڑی کثیرالمنزلہ عمارت تعمیر ہوئ ہے کینٹین اور آڈیٹوریم بھی اسی میں موجود ہیں
آپ نے ریٹائرمنٹ کی بات کی ہے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی مشغولیت کے مواقع موجود ہوتے ہیں کچھ عرصہ پہلے اپنے ایک شاگرد کی ریٹائرمنٹ پر تبصرہ لکھا تھا جس میں اردو اور انگریزی سے کام لیا تھا شاید آپ کے لیے دلچسپی کا باعث ہو
Dear Naeem warmest wishes for the new chapter ahead of you. You are leaving some big shoes to fill. Retirement isn’t all it’s cracked up to be. I hope it brings you endless opportunities and contentment.
I have so many favorite memories while working with you at LRH; it is in fact hard for me to pick just one. But one memory that really stands out is – besides your keen interest in Ophthalmology – your exemplary literary taste and your eager interest in history.
You know one can not retire his experience.
ریٹائرمنٹ کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ وہ بے جھجھک انسانی عمر کا پول کھول کر رکھ دیتی ہے۔ نہ عورت کا لحاظ ہوتا ہے نہ مرد کا ۔ اکثر مرد و زن آخری کوشش کے طور پر اپنی ریٹائرمنٹ پر یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ اسکول میں ان کی عمر دو تین سال بڑھا کر بتائی گئی تھی ـ
بہرحال لوگ انہیں باور کروادیتے ہیں کہ اب وہ اس علاقے میں داخل ہو چکے ہیں جسے جغرافیہ کی اصطلاح میں’ ڈیلٹا‘ کہا جاتا ہے اور انہیں اس کرسی کو خالی کرنا ہے جس پر کئی لوگ نظریں جمائے بیٹھے ہیں ـ
بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا اور بوڑھوں کو ریٹائرمنٹ کی کڑوی گولی کھلانا، در اصل دونوں کی عمر کا تقاضا ہے۔ لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ تمام عمر دنیا بھر کا علم اور تجربہ حاصل کرنے کے بعد جب آدمی کسی قابل ہوتا ہے تو اسے سبکدوش کر دیا جاتا ہے
Naeem the word retirement is interesting.
Unsurprisingly, retirement is one of the words which the English language appropriated from the French, around the 16th century. It was originally used in the military sense; i.e. “to withdraw to a place of safety or seclusion” {from the French ‘re’ (back) and ‘tirer’ (to draw)}.
And, in the same vein, the word ‘pension’ also came into usage around the 16th century, again in the military sense meaning “a regular sum paid to maintain allegiance” (originally from the Latin ‘pendere’ = to pay).
So, the two words now most often used to describe stopping work (retirement and pension) were both initially military terms.
Interestingly there are 32 meanings listed in the Oxford English Dictionary’s entry for the verb retire, seven of which are labelled obsolete.
They are listed under the categories of military, fencing, finance, law, cricket, sport and baseball.
اور آخر میں بعض لوگوں کا معاملہ تو یہ ہوتا ہے کہ وہ ملازمت کو نہیں چھوڑنا چاہتے مگر ملازمت انہیں چھوڑ دیتی ہےـ
یعنی
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
جناب خالد سہیل اپنے شاگرد پروفیسر نعیم خان کی ریٹائرمنٹ پر مذکورہ تبصرے میں کچھ ٹکنیکل نکات بھی در آئے ہیں لہذا بوریت کا احتمال ہے جس پر پیشگی معذرت قبول فرمائیں
آپ نے اپنی مریضہ نورین کی کری ایٹیو سائیکو تھراپی کا واقعہ بیان کیا ہے جس سے سائیکو تھراپی کی بے پناہ افادیت بخوبی اجاگر ہوتی ہے مجھے یاد ہے کہ
St. John’s
میں ریزیڈنسی کے دوران آپ کے شعبے کے سربراہ جن کا نام
Hoenig
تھا اس کو
Psychobloody therapy
کہا کرتے تھے
کاش یہ واقعہ ان کے سامنے ظہور پذیر ہوتا
اب اجازت

دوستِ درویش
عابد نواز
٢٤ مارچ ٢٠٢٥
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں