مصنوعی ذہانت (AI) اور نئی دنیا/زید حبیب

اکیسویں صدی اپنے ساتھ نت نئے انقلابات اور تبدیلیاں لیکر آئی اور اس صدی کے ربع تک مصنوعی ذہانت (آرٹی فیشل انٹیلی جنس) سب سے زیادہ تبدیلی لانے والی ٹیکنالوجیز میں سے ایک ہے ۔ مصنوعی ذہانت کے استعمال نے جہاں تعلیم، تحقیق، ترقی اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں تیز تر ترقی کی نئی راہیں کھولی ہیں وہیں تازہ ترین جائزوں کے مطابق مشینوں پر انحصار دنیا کیلئے چیلنجز بھی پیدا کر رہا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے فروغ پر کام کرنے والے ماہرین مصنوعی ذہانت کو تاریخ کی سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والی ٹیکنالوجی اور دنیا کی زیادہ سے زیادہ آبادی کو متاثر کرنے والا ایک بے مثال رجحان قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان، بھارت اور کئی دوسرے ملکوں میں لاکھوں نوجوان انٹرنیٹ کے ذریعہ نئے نئے پروگرام اور اپیس بنا کر اور ٹرانسپورٹ جیسے شعبوں میں خدمات سے اپنا روز گار وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی میں ہماری دنیا کے بہت سے اہم چیلنجز اور مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اقتصادی ماہرین کے بقول دنیا کے ترقی پذیر ممالک خاص طور پر ڈیجیٹل معیشت کے ذریعے پہلے سے زیادہ رفتار سے ترقی کر سکتے ہیں۔ لیکن کیا ساری دنیا نے اپنے آپ کو اے آئی مشینوں کے نظام کے لیے تیار کر لیا ہے؟ کیا تعلیم، زراعت اور صنعت میں ٹیکنالوجی پر بہت زیادہ انحصار سے انسان کی کام کرنے اور سوچنے کی صلاحیتوں کو محدود کر رہا ہے؟ اور کیا سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال عام لوگوں، عورتوں اور بچوں سمیت غیر محفوظ لوگوں کی ذاتی معلومات غلط ہاتھوں میں پہنچنے کے نتائج سے نمٹنے کے لیے حکومتیں اور معاشرے تیار ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب ڈھونڈنا بہت ضروری ہے۔
انسان مختلف ادوار اور انقلابات سے گزر کے پتھروں کے دور سے ہوتا ہوا سائنس اور ٹیکنالوجی کے مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو چکا ہے ۔کبھی ہم سنتے تھے کہ ایک زمانہ آئے گا جب انسانوں کے تمام تر کام روبوٹس کیا کریں گے آج یہ سب حقیقت اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اے آئی ٹیکنالوجی‘ بزنس میں بھی جس تیزی سے انقلاب لا رہی ہے، اس کا شاید پاکستان میں ابھی تک تصور تک نہیں لیکن دنیا بھر کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں اس کے استعمال سے جو ترقی دیکھی جا رہی ہے وہ یقیناً حیرت انگیز اور چونکا دینے والی ہے۔ آج دنیا میں جنریٹیو ٹیکنالوجی کا چرچا ہے جو مکمل طور پر ڈیٹا اور مواد بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اس میں غلطی کے امکانات صفر ہیں اور یہ نتائج دینے میں بھی بہت تیز رفتار ہے۔ پاکستان میں اِس جدید ٹیکنالوجی کی ہر سطح پر منتقلی بے حد ضروری ہوچکی ہے کہ حکومت، ادارے اور نوجوان اِس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں تاکہ ملک اس بحران سے نکل سکے جس میں وہ بری طرح دھنسا ہوا ہے۔
پاکستان کی 60 فی صد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہاں 18 کروڑ سمارٹ فونز لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں۔نیز حکومت بھی طلبہ کو بڑے پیمانے پر لیپ ٹاپ فراہم کرتی ہے لیکن جب تک نوجوانوں کو ان کا درست استعمال نہیں سِکھایا جائے گا، یہ مشق بے کار ہی نہیں خطرناک بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ نوجوان پیسے کمانے کے لیے ہر سمت ہاتھ پیر مارتے ہیں اور یہ رویّہ انہیں غلط راہوں پر بھی لے جاسکتا ہے۔پاکستان کے اردگرد کے ممالک جنریٹیو ٹیکنالوجی میں داخل ہوچکے ہیںلہٰذا پاکستان میں بھی ذرا سی توجہ سے نوجوانوں کو ملکی قوت بنانے کے ساتھ قوم کو موٹیو یٹ کر کے ترقی کی راہ پر ڈالا جاسکتا ہے۔ہمارے ارباب اختیار کو سمجھنا ہوگا کہ آرٹی فیشل انٹیلی جنس کس طور ملکی ترقی کے لیے انقلاب کا باعث ہوسکتی ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کے ذریعے بیرونِ ملک سے اِس ٹیکنالوجی کی پاکستان منتقلی بہت آسان اور سستی ہوگی۔اِس وقت پاکستان کے معاشی حالات اچھے نہیں اور عوام میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ عوام معاشی مشکلات کا حل چاہتے ہیں اور وہ بھی ایسا، جس کے نتائج ان تک جلد پہنچ سکیں۔ حکومت چاہے مرکزی ہو یا صوبائی، انہیں عوام کو جلد ازجلد ریلیف فراہم کرنا ہے اور ایسا تب ہی ممکن ہوگاجب ملکی معیشت درست سمت میں گامزن ہو۔ معاشی بحالی میں آرٹی فیشل انٹیلی جنس یا جنریٹیو ٹیکنالوجی جیسی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بہت اہم ہوگا کیوں کہ یہ جلد نتائج دے سکتی ہیں اور ان کے ذریعے حکومتوں کو عوام کے قریب جانے کا بھی موقع ملے گا۔
آرٹی فیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی پر کچھ اعتراضات بھی کیے جاتے ہیں۔ایک بڑا اعتراض یہ سامنے آ رہا ہے کہ اس کے استعمال سے انسانی روزگار کے مواقع گھٹیں گے اور ان کی جگہ روبوٹس لے لیں گے۔ پاکستان جیسے بڑے آبادی کے ممالک میں جہاں پہلے ہی روزگار مسئلہ بنا ہوا ہے یہ ٹیکنالوجی منفی اثرات بھی لاسکتی ہے، جہاں آبادی پر کوئی کنٹرول نہیں اور ہر سال روزگار کے نئے مواقع کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔یہ بالکل درست تشویش ہے اور اس کا حل بھی پلان کا حصّہ ہونا چاہیے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مصنوعی ذہانت کے مثبت استعمال سے انسان کی ترقی اور ارتقائی شعور میں تیزی آ جائے گی‘ مشکل ترین کام مختصر وقت میں مکمل اور معیاری انداز میں ہوں گے‘ ہر شعبہ AI کے ذریعے ترقی کرے گا۔ غیر ترقی یافتہ ممالک اس کے ذریعے بہت جلد ترقی کی بلندیوں پر پہنچ سکتے ہیںجس میں وہ ابھی بہت پیچھے ہیں۔ پاکستان میں مصنوعی ذہانت کا نفاذ معیشت کی ترقی،روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور عدلیہ، صحت، صنعت، تعلیم، توانائی، ماحولیاتی تبدیلی اور دفاع جیسے اہم شعبوں میں کارکردگی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ نوجوانوں کو مثبت راہ دکھانا حکومت کی ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری اسی وقت احسن طریقے سے پوری کی جا سکتی ہے جب حکومت دیرپا منصوبہ بندی کے ذریعے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات پر گہری نظر رکھے اور نوجوانوں کے لیے ترغیبات کا اہتمام کرے۔

julia rana solicitors

بشکریہ نئی بات

Facebook Comments

مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply