• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنا ہو گا/ڈاکٹر محمد شافع صابر

پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنا ہو گا/ڈاکٹر محمد شافع صابر

ایک عورت کو کمر درد کی شکایت تھی، وہ ڈاکٹر کے پاس چیک کروانے گئی،ڈاکٹر نے پوچھا آپ کے بچے کتنے ہیں؟ وہ عورت بولی! “چھ”۔ ڈاکٹر صاحب جل کر بولے بی بی کمر کے ساتھ ہوئی بھی تو زیادتی ہے۔
مہنگائی کے بعد وطن عزیز کا سب سے بڑا مسئلہ یہ بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔ پاکستان میں فی منٹ بچے پیدا ہونے کی شرح پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے( چلو ہم کسی کام میں تو دنیا سے آگے ہیں). مسئلہ بڑھتی ہوئی آبادی نہیں، ملکی وسائل کا آبادی کی لحاظ سے نا بڑھنا زیادہ بڑا مسئلہ ہے۔ پاکستان کے پاس وسائل ابھی بھی 1947 کے جتنے ہیں، جبکہ آبادی میں کوئی پانچ سو گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ اب جب سے ایک وزیراعلی نے سکولوں میں بچوں کو مفت میں دودھ دینے کا علان کیا ہے،اب اس سے آبادی میں مزید اضافہ ہو گا۔
شاید یہی وجہ ہے کہ آرتھوپیڈک سرجری کی آو پی ڈی میں 95 فیصد عورتیں کمر درد کیساتھ آتی ہیں،بچے پوچھوں تو پانچ،چھے اور سات! شاید کسی نے ہی کہا ہو کہ میرے چار بچے ہوں۔ اتنے زیادہ بچے پوچھنے کی وجہ پوچھیں تو جواب ملتا ہے ” کی کرئیے ڈاکٹر صاحب! پتا نہیں لگدا ” بندا پوچھے تم دونوں دودھ پیتے بچے ہو۔ کچھ سارا الزام اپنے خصموں پر ڈال دیتی ہیں۔ آپ جیسے ہی اپر مڈل سے لوئر مڈل کلاس تک آتے چلے جاتے ہیں،وسائل کم ہوتے چلے جاتے ہیں جبکہ بچے بڑھتے چلے جاتے ہیں ۔
استاد محترم بیالوجی کی کلاس میں بتایا کرتے تھے کہ ایک بیچارے عام آدمی کا زور صرف اپنے گھر میں چلتا ہے، وہ مہنگائی کا مقابلہ کرتے کرتے تفریح بھول جاتا ہے، بس اب اس کے پاس ایک ہی تفریح بچتی ہے،اسکی تفریح آبادی بڑھنے کی شکل میں نظر آتی ہے۔
ایک مشہور عالم دین کے نابالغ بچے کے جنازے پر جانا ہوا، وہ بہت رو رہے تھے،میں سمجھا کہ شاید پہلا بچہ ہو۔ پوچھنے پر پتا چلا کہ پہلے گیارہ بچے تھے،اب یہ بارہواں تھا، جو جانبر نا ہو سکا، زیادہ خوفناک بات یہ تھی کہ سارے بچے ہوئے ایک ماں سے تھے،مجھے اس ماں کی کمر پر رشک بھی آتا ہے اور ترس بھی۔
ایک ڈاکٹر صاحب نے پوسٹ لگائی کہ انکے کلینک میں ایک عورت آئی، اسکو بتایا گیا کہ وہ حاملہ ہے۔ وہ کہنے لگی یہ میرا ساتواں بچہ ہو گا،آپ خود ہی میرے شوہر کو بتا دیں، مجھے بتاتے ہوئے شرم آتی ہے۔
آبادی کا تعلق وسائل سے ہے۔ کیا وطن عزیز اتنی آبادی کو ایک بہتر مستقبل دے سکتا ہے؟ تو جواب نفی میں ہو گا۔ جیسے ہی محکمہ بہبود آبادی اس پر کوئی کیمپین شروع کرتا ہے تو ہمیں مذہب یاد آ جاتا ہے۔
سیانے کہتے ہیں! کم بچے لیکن کارآمد بچے!
مشہور انڈین ویب سیریز کا وہ سین یاد کریں،جس میں پنچایت سیکرٹری کو یہ حکم ملتا ہے کہ وہ گاؤں کی دیواروں پر یہ لکھوائے
” دو بچے میٹھی کھیر
تیسرا بچہ بواسیر ”
اگر آپ کو وسائل سے کوئی غرض نہیں، اگر آپ کے پاس کوئی اور تفریح نہیں، آپکو بچوں کے مستقبل سے کوئی غرض نہیں، تو کم از کم اس بیچاری کی کمر پر ہی کچھ رحم کر لیں۔
یاد رکھیے! کمر درد کا علاج گولیوں سے زیادہ پرہیز میں پوشیدہ ہے۔ اگر پھر بھی دوائیاں لینی ہیں تو گنگارام کی آو پی ڈی حاضر ہے،جبکہ صوبہ پنجاب کا سب سے بڑا گائنی کا بلاک (ہسپتال) M&CH (مادر اینڈ چائلڈ ہیلتھ)بھی گنگارام ہسپتال میں واقع ہے،جہاں 24/7، ہفتے کے ساتوں دن اور سال کے 365 دن بچے پیدا ہوتے ہیں ۔ اب آپ نے ایم سی ایچ بلاک جانا ہے یا کمر درد کی دوائی لینے آو پی ڈی آنا ہے،یہ آپ پر منحصر ہے۔
سر گنگارام ہسپتال لاہور کے گائنی بلاک (ایم اینڈ سی ایچ) ایک گائنی یونٹ کی چوبیس گھنٹوں کی ایمرجنسی میں اوسطاً کوئی پچاس ایمرجنسی سی سیکشن ہوتے ہیں،چوبیس گھنٹوں کی ایمرجنسی میں نارمل ڈلیوریز کی تعداد اس سے الگ ہے۔ ایمرجنسی کے علاوہ ہر یونٹ کے وارڈ کی الیکٹیو آپریشن تھیٹر لسٹ میں جو سی سیکشن کی تعداد علیحدہ ہے۔ یہ صرف ایک ہسپتال کے گائنی کے ایک وارڈ کے حالات ہیں،باقی ہسپتالوں میں بھی تقریباً یہی صورتحال ہے ۔
اب آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ پاکستان میں آبادی میں کسی تیز رفتاری سے اضافہ ہو رہا ہے،جبکہ وسائل میں ایک فیصد بھی اضافہ نہیں ہو رہا۔ جسکی وجہ سے بعد میں یہی بڑھتی ہوئی آبادی پاکستان کے لئے مسائل پیدا کرتی ہے،جس میں بیروزگاری،نوکریوں کا آبادی کے تناسب سے نا ہونا شامل ہیں،بڑھتے ہوئے جرائم کی شرح کے پیچھے بھی یہی بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے محکمہ بہود آبادی،بڑھتی ہوئی آبادی کی رفتار کو کم کرنے کے لئے نعروں کی بجائے عملی اقدامات اٹھائے وگرنہ پاکستان مستقبل قریب میں آبادی کے اس سیلاب کے سامنے ٹک نہیں پائے گا۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply