• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کا رش اور ڈاکٹرز کی مجبوریاں/ڈاکٹر محمد شافع صابر

سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کا رش اور ڈاکٹرز کی مجبوریاں/ڈاکٹر محمد شافع صابر

بات صرف اتنی سی ہے کہ اگر آپ کسی سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر ہیں تو فضول چیزوں پر اپنا ٹائم اور انرجی ویسٹ مت کریں۔ سب سے زیادہ فضول چیز جس پر نوے فیصد ڈاکٹرز اپنی انرجی ویسٹ کرتے ہیں وہ ہے مریضوں کی کونسلنگ ۔
یاد رکھیے! 95% فیصد سے زائد مریض گھر سے ٹھیک ہونے نہیں آتے،بلکہ وہ فری ادوایات،مفت کی انوسٹیگیشن اور لیب ٹیسٹ کروانے آتے ہیں۔ مریض گھر سے ایک خاص زہن لیکر آتا ہے کہ آج اس نے یہ ایکسرے کروانا ہے،یہ ٹیسٹ کروانا ہے اور یہ دوائی لینی ہے۔آپ کونسلنگ کرتے کرتے الٹے لٹک جائیں،اسکے پاؤں پکڑ لیں،جب تک آپ وہ کام نہیں کروانا جس مائینڈ سیٹ کیساتھ مریض آیا ہے،آپ اسے مطمئن نہیں کر سکیں گے۔
آج سے دو مہینے قبل،میں مریضوں کی دل و جان سے کونسلنگ کرتا تھا کہ آپکو ایکسرے کی نہیں ضروت، آپکو ٹیکے کی نہیں ضرورت،میں اپنی فل جان مار کر،انہیں سمجھاتا تھا،لیکن صرف 5-10 فیصد لوگ مطمئن ہوتے تھے،یہی حال دوسرے ڈاکٹرز کا تھا ۔
ایسے ہی ایک دن،ایک مریض کہتا کہ میں نے ایم آر آئی کروانا یے،میں نے کہا ضرورت نہیں ۔باقاعدہ بحث ہوئی،آخر میں میں مریض کو منانے میں کامیاب ہو چکا تھا،لیکن میں تھک کر نڈھال ہو چکا تھا۔ ہمارے سینیر رجسٹرار یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے،جب مریض گیا،وہ ہنسنے لگے اور مجھے بلایا۔
بولے! کیا کر رہے تھے؟ کہا کونسلنگ کی کوشش۔کہتے فائدہ ہوا،جواب دیا نہیں ۔ بولے،وہ ایکسرے فارم پڑا ہے،اس پر ایم آر آئی لکھوں،میں نے لکھ دیا،بولے کتنا ٹائم لگا؟ کہا پانچ سیکنڈز ۔بولے تھکاوٹ ہوئی ؟ کہا نہیں ۔بولے اگر پچھلے مریض کو بھی لکھ دیتے تو یوں تھکتے نہیں
انہوں نے مجھے جو نصیحت کی! وہ میں نے پلے سے باندھ لی،وہ نصیحت یہ تھی” تم اپنی قلم کی طاقت سے انکی بس کرواؤ۔ سی ٹی سکین،ایم آر آئی کا مریض بولے،لکھ دو۔ وہ جائے گا،دو ہفتے کے بعد ٹائم ملے گا،پھر مفت کروانے کے لئے dms ( ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ)کے پاس جائے گا،وہاں سے ms (میڈیکل سپرنٹنڈنٹ)،وہاں سے ریڈیو، دو ہفتے کیبعد تمہیں دکھانے آئے گا،تب تک اسکی مت وج گئی ہونی،تو ایسے کرنے سے شوقیہ مریض ہو گا،وہ ویسے ہی بھاگ جانا ہے،اس قوم پر کیوں ٹائم اور انرجی ویسٹ کرنی؟”.
اسکے بعد سے آج تک،میں نے کھبی مریض کو انکار نہیں کیا،جو کہے سی ٹی کروانا،ایم آر آئی کروانا،ایکسرے کروانا ہے،میں کہتا ہوں جی بسم اللہ ۔ میں چپ کر کے لکھ دیتا ہوں۔
اسکا فائدہ یہ ہوا کہ اب میں آو پی ڈی کر کے تھکتا نہیں ہوتا اور میں بلاوجہ کڑھتا نہیں ہوں، جو کہ مریضوں کی کونسلنگ کرتے کرتے ہو جاتا تھا،مریض تب ناخوش رہتے تھے۔ اب جب سے یہ کلیہ اپنایا ہے،مریض مجھ سے خوش ہیں اور میں مزے میں ہوں۔
یاد رکھیے! پاکستان میں مریض کے لئے گھر سے ہسپتال آنا ایک تفریح ہے( شوقیہ مریضوں کے لئے،جو کہ ہر آو پی ڈی کا 80 فیصد ہوتے). گھر سے آؤ،دوائی لو،خون کے ٹیسٹ کرواؤ،فضول کے ایکسرے کرواؤ اور ایک بھرپور دن گزار کے گھر واپس جاؤ ۔ تو ایسے مریضوں پر جب آپ اپنی انرجی ویسٹ کریں گے تو 20 فیصد جنیوئن مریض آپ سے اگنور ہو جائیں گے،جو کہ ایک المیے سے کم نہیں ،تو آپ بحثیت ڈاکٹر کوشش کریں کہ آپکی انرجی ان جنیوئن مریضوں کے لئے رہے تاکہ انکی بہترین دیکھ بھال کی جا سکے۔شاید اسی لیے کچھ پرائیویٹ سیکٹر ہسپتالوں کا فلیٹر کلینک بہت کامیاب ہے،جہاں ایسے 80 فیصد شوقیہ مریضوں کو پہلے کمرے سے واپس گھر بھیج دیا جاتا ہے، سرکاری ہسپتالوں میں ایسے فیلٹر کلینکس کی اشد ترین ضرورت ہے۔
اب لوگ یہ کہے گے کہ ڈاکٹر مریضوں کو صحیح چیک نہیں کرتے اور بلاوجہ ٹیسٹ تجویز کرتے ہیں ۔ تو اس کا جواب سن لیں،سرکاری آو پی ڈی کا ٹائم 8-3 ہو گیا ہے(پہلے 8-2 تھا)، یعنی کہ 420 منٹس، ہماری آؤ پی ڈی ہر بدھ والے 200 + ہوتی ہے،(پروٹوکول مریض الگ)،اگر ڈاکٹرز مریض کو 5 منٹ بھی دے تو کم سے کم ہزار منٹس درکار ہوں، تو یہ بتائے ڈاکٹرز کی ٹیم یہ سب رش کیسے مینج کرے گی؟ اگر آپ ایک مریض کو 5-6 منٹ دینا شروع ہو جائیں تو انتظار کرتے لائن میں لگے مریض اتنا شور ڈالنا اور لڑنا شروع ہو جاتے ہیں کہ آو پی ڈی جاری رہنا ایک جنگ سے کم نہیں ہوتا،کیونکہ وہی 80 فیصد مریض رولا ڈال رہے ہوتے ہیں جنہوں نے چیک اپ نہیں،سرکاری مفت دوائی لینا ہوتی ہے۔ اسکے باجود مجھ سمیت ہر ڈاکٹر پوری دل افشانی سے جو جینوین مریض ہوتا (اسکی فزیکل شکل و صورت سے پتا چل جاتا ہے)، اسکی بھرپور توجہ سے بات سنتے،سجمھتے اور اپنی سمجھاتے ہیں ، سرکاری ہسپتالوں میں کوئی بھی ڈاکٹر غیر ضروری ٹیسٹ نہیں کرواتا کیونکہ اسے پتا ہوتا ہے کہ لیباٹری پر پہلے ہی بہت زیادہ برڈن ہے،ہر ڈاکٹر اپنی پوری کوشش کرتا ہے کہ وہ شوقیہ لیبز کی حوصلہ شکنی کرے،لیکن وہ اگر 200+ مریضوں سے 150 مریضوں کو یہ کہے گا کہ آپکو ٹیسٹوں کی ضرورت نہیں تو جو ٹائم ویسٹ ہو گا؟ وہ کس کھاتے میں جائے گا؟ مریضوں کا رش اس سے بڑھے گا،آو پی ڈی چلانی مزید مشکل ہو گی۔ یوں ہر ڈاکٹر کوشش کرتا ہے کہ جو اس زہن کے ساتھ آئے ہیں ان میں سے کچھ کے اگر ٹیسٹ نا کروائے تو وہ کملپین کر دیں اور پھر انکوائریوں کے ایسے چکر میں گھومنے سے بچنے کے لئے ٹیسٹ تجویز کرتا ہے۔
دوسرا سوال یہ ہو سکتا ہے کہ کونسلنگ کرنی نہیں چھوڑنی چاہیے۔ جواب وہی کہ ہر سرکاری ہسپتال کی آو پی ڈی مریضوں سے بھری رہتی ہے،کونسلنگ کم سے کم 5 منٹ مانگتی ہے،آپ آدھے مریضوں کی بھی کریں گے،رش ختم آپ سے ہو گا نہیں،ٹائم گزر جائے گا،فارمیسی 3:15 بند ہو جائے گی،مریض کو دوائی ملے گی نہیں،تو پھر جو طوفان آئے گا،وہ آپ بیان نہیں کر سکیں گے ۔
آرتھوپیڈک سرجری میں سے سب سے کامن بیماری کندھے کا جام ہونا(frozen shoulder) ہے، آپ مریض کے سامنے لیٹ جائیں کہ یہ بیماری ٹھیک ہونی ہی فزیو تھراپی سے ہے،آپ پاکستانی مریض سے یہ بات منوا ہی نہیں سکتے،انکا ایک ہی جگہ سوئی اٹکی ہوتی ہے کہ جوڑ میں ٹیکہ لگے گا تو یہ ٹھیک ہونا ہے،ٹیکہ آپکو لکھنا ہی لکھنا ہے،خواہ کونسلنگ میں ٹائم برباد کر کے یا نا کر کے۔۔تو کوئی بھی باشعور شخص اپنا ٹائم کیوں ویسٹ کرے گا؟
لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ڈاکٹر حضرات آپ کھبی کرسی کے اس پار بیٹھے لوگوں کا سوچیں، تو اسکا جواب یہ ہے کہ ڈاکٹرز سوچتے ہیں اور بہت سوچتے ہیں ۔میں سر گنگارام ہسپتال میں ڈاکٹر ہوں۔ہمارے پاس آدھے اندرون لاہور کے مریض آتے ہیں،جبکہ باقی پنجاب سے لوگ ہمارے پاس لاہور اس امید سے آتے ہیں کہ ہم لاہور جائیں گے تو ٹھیک ہو جائیں گے،جب ایک ہسپتال ایسے مریضوں سے بھرا ہوا ہو گا ،جنکو کوئی سریس مسئلہ لاحق نہیں، لیکن وہ بلاوجہ بڑے ہسپتال میں صرف اسی وجہ سے آتے ہیں کہ یہاں دوائی زیادہ ملے گی تو ہمارے پاس جو دور دراز سے اس امید پر آیا مریض کہ میں گنگارام جاؤں گا ٹھیک ہو جاؤں گا،ہم اسے چاہتے ہوئے وہ بھرپور انرجی،توجہ کیسے دیں سکیں گے جو کہ نان سیریس مریض لے گئے؟ اگر ایک ڈاکٹر کو ایک گھنٹے میں 5 مریض دیکھنے ہوں تو ایک اور ڈاکٹر جسے ایک گھنٹے میں 25 مریض دیکھنے ہیں،ان دونوں کے مریض دیکھنے کے طریقہ کار میں زمین آسمان کا فرق ہو گا، ، پنجاب بھر کہ سرکاری ٹیچنگ ہسپتال بلخصوص لاہور کے ضرورت سے زیادہ overburdened ہیں جسکی وجہ سے ہر مریض کی کونسلنگ کرنا ممکن نہیں ۔۔
اب یہ سوال بھی زہن میں آتا ہے کہ وطن عزیز میں افراتفری کا دور دورہ ہے،عوام سہمی رہتی ہے،پریشان ہے فلاں فلاں،ڈاکٹرز کو چاہیے انکی بات سنیں،دلجوئی کریں۔ جواب وہی کہ سرکاری ہسپتالوں میں یا تو دلجوئی ہو سکتی ہے یا مریضوں کو دوائی مل سکتی ہے۔ اب فیصلہ آپ پر ہے دلجوئی کریں یا دوائی دیں،جسکے لیے وہ بیچارا پیسے خرچ کر کے آیا ہے۔ میں اس بات کا چشم دید گواہ ہوں کہ ہم جب آو پی ڈی سے نکل رہے ہوتے ہیں، پرچی بننا بن چکی ہوتی ہے،ایسے مریض ابھی آ رہے ہوتے ہیں،جو یہی کہتے ہیں ڈاکٹر صاحب! ہمیں دوائیاں دے دیں بس۔ تو بتائیے کیا کریں؟
بات صرف اتنی سی ہے کہ آپ ایک مہذب معاشرے اور پاکستانی سوسائٹی کو ایک ہی ترازو میں نہیں تول سکتے ۔ ہماری opd میں آیا ایک مریض انگلینڈ کا شہری تھا،اسے planter fasciitis تھا ،وہ اتنی درد میں تھا کہ اس سے چلا نہیں جا رہا تھا ۔ اسے وہاں کے گورے ڈاکٹر نے ایڑھی میں اسٹریڈ کا انجکشن تجویز کیا تھا،جس کے لئے اسے 2026 کا ٹائم ملا تھا۔ اب آپ ادھر پاکستانی مریض کو کہہ دیں کہ فلاں ایم آر آئی کا ٹائم دو ہفتے بعد کا ملا ہے وہ ایسا فساد برپا کرتا ہے کہ آپکی سوچ ہے، یہاں تک کہ وہ سیدھا پورٹل پر کمپلین کر کے آپ کے ہسپتال اور آپکی واٹ لگا دیتا ہے۔ تو صاحبو! پاکستانی جیسے ملک میں ایسا کرنا ممکن ہی نہیں ۔ اگر آپ وہی کریں گے تو کمنٹس میں کہا جا رہا ہے،تو آپکا مریض آپکو دوائی نا ملنے پر گالی دے گا ہی اور ساتھ آپ اپنی نوکری سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
انہی ساری باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اور اپنی نوکری بچانے کے لئے سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹرز یہی کوشش کرتے ہیں کہ ہسپتال میں آئے ہر مریض کو دوائی لازمی ملے اور ان تمام تر کوششوں کے باوجود عوام ڈاکٹرز کو قصائی گردانتی ہے اور ان کے خلاف کمپلین کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply