فوج پہ چیخنا بند کرو۔۔۔۔راجہ محمد احسان

ہم لوگ صرف ستمبر 1965ء میں لڑی جانے والی جنگ کے بارے میں جانتے ہیں جب پوری قوم افواجِ پاکستان کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی تھی یا زیادہ سے زیادہ سقوطِ ڈھاکہ 1971ء، جنگِ کشمیر 1948ء، جنگِ کارگل یا پھر 1979ء سے 1988ء تک لڑی جانے والی افغان رشئین جنگ جسے اکثر خودساختہ دانشور امریکہ کی جنگ کہتے ہیں، کے بارے میں تھوڑی بہت معلومات رکھتے ہیں۔

لیکن ہماری اکثریت ان سب سے زیادہ خطرناک لڑی جانے والی جنگ کے بارے میں نہیں جانتے۔ وہ جنگ جو ہماری افواج پچھلے اٹھارہ برس سے دوستوں کے روپ میں چھپے دشمنوں کے خلاف تن تنہا لڑ رہی ہے۔ نہ تو اس جنگ میں فوج کی پُشت پر قوم کی شعوری حمائیت ہے اور نہ ہی کوئی واضح اور کُھلا دُشمن۔ یہ ایسی جنگ ہے کہ جس میں دُشمن نے نہتے شہریوں سے لے کر معصوم بچوں تک ، مزاروں سے لے کر امام بارگاہوں اور مسجدوں تک، مزدوروں سے لے کر علماء و شیوخ تک اور نجی املاک سے لے کر اہم فوجی تنصیبات تک کو نشانہ بنایا۔ دشمن کی ان کاروائیوں کو اگر انفرادی طور پر دیکھا جائے تو یہ کوئی بڑا نقصان نہیں لگتا اور عمومی طور پر اسے ہم بہت معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ لیکن انہی کاروائیوں کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ہمیں ملکی سالمیت کا کوئی بھی حصہ زخم سے خالی نہیں نظر آتا ۔ ہر انگ ہر عضو زخمی ہے جس سے خون رس رہا ہے۔ اور یہ تمام زخم مل کر ایک بڑے سانحے کو جنم دے سکتے ہیں ۔

اس بڑے سانحے سے بچنے کے لئے ہماری افواج حرکت میں آئیں اور نامعلوم دشمنوں کو گھٹا ٹوپ اندھیروں میں تلاش کر کے ان سے نبردآزما ہوئیں ۔ چونکہ دشمن سرحدوں پہ آمنے سامنے ہونے کی بجائے اندھیر نگری میں دائیں بائیں آگے پیچھے ہر سمت میں تھا تو ایسے پُل صراط کو عبور کرنے کے لئے افواجِ پاکستان نے قربانیوں کی وہ تاریخ رقم کی جو دُنیا نے نہ کبھی دیکھی اور نہ کبھی سُنی تھی۔

اس اٹھارہ سالہ جنگ میں اس قدر شہادتیں ہوئیں جو کہ پچھلی تمام مذکورہ جنگوں کی مجموعی تعداد سے بھی کئی  گُنا زیادہ ہے۔ میرا تعلق چونکہ خطہ پوٹھوہار سے ہے اور افوجِ پاکستان کی اکثریت کا تعلق اسی خطے سے ہے، تو میں دیکھتا ہوں کہ خطہ پوٹھوہار کے ہر گاؤں کے قبرستان کئی  کئی  شہداء کی قبریں ہیں ۔ ان شہداء کی قبروں پر لہراتے ہوئے سبز ہلالی پرچم ان شہداء کی قربانیوں، عظمتوں اور وفاؤں کی گواہی دے رہے ہیں ۔ اس جنگ میں ہزاروں نہیں بلکہ قوم کی لاکھوں ماؤں نے اپنے جواں سال بیٹے قربان کیے، لاکھوں بچوں نے یتیمی کو گلے لگایا اور لاکھوں خواتین نے اپنے خون آلود سہاگ کو بھری جوانیاں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے الوداع کہا۔ افواجِ پاکستان کے جن جوانوں نے اپنی ٹانگوں اور ہاتھوں کی معذوری کی شکل میں قربانیاں دیں وہ انکے علاوہ ہیں ۔

آج ہم اس ملک میں سُکھ کا جو سانس لے رہے ہیں وہ انہی جوانوں کی قربانیوں کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ اور چند خود ساختہ دانشور اپنے پُرآسائیش آرام گاہوں میں بیٹھ کر اس فوج پر بھونکتے ہیں۔ جی تو چاہتا ہے کہ اُنکی زبانوں کو گُدی سے کھینچ نکالوں، جی چاہتا ہے ایسے ہاتھوں کو کاٹ ڈالوں جن سے وہ فوج کے خلاف لکھنے والے قلم پکڑتے ہیں اور جب اُنکے ساتھ افوجِ پاکستان کی ان عظیم قربانیوں کا تذکرہ کیا جائے تو کہتے ہیں کہ فوج سے ہماری مُراد جرنیل ہیں، یہ شیطان کا دوسرا اور پہلے سے زیادہ خطرناک حربہ ہے ۔ یہ جتنی بھی جنگ لڑی گئی کیا سپاہ نے از خود لڑی یا کسی دور اندیش جرنیل کے حکم اور تدبیروں سے لڑی۔ میں مانتا ہوں کہ کالی بھیڑیں ہر جگہ موجود ہوتی ہیں لیکن اسکا الزام پوری فوج اور سارے جرنیلوں کو نہیں دیا جا سکتا۔ ہاں اگر آپ کے پاس کسی جرنیل کے حوالے سے ثبوت موجود ہیں تو اسی جرنیل کا نام لو اور اسے ہی عدالت کے کٹہروں میں لا کر عدل و انصاف کے تقاضے پورے کرو۔ نہ کہ غازیوں اور شہداء کے خون سے بے وفائی کرتے ہوئے اُن پر بھونکنا شروع کر دو۔

میری یہ تحریر محبِ وطن لکھاریوں کے لئے ایک دعوتِ تحقیق ہے۔ کیونکہ اس جنگ کے ہیروں اپنی قبروں میں جا کر لیٹ گئے اور فوج کو اب تک فرصت میسر نہیں آئی کہ وہ انکی بہادری کے کارنامے عوام کے سامنے پیش کر سکے لیکن آج ہم جو سُکھ کا سانس لے رہے ہیں تو ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ ہم ان لوگوں کے بارے جانیں اور انکی قربانیوں کی داستانوں کو قرطاس کی زینت بنائیں جو خود خاک و خون میں نہا کر ہم امن سے جینے کا حق دلا گئے

راجہ محمد احسان
راجہ محمد احسان
ہم ساده لوح زنده دل جذباتی سے انسان ہیں پیار کرتے ہیں آدمیت اور خدا کی خدائی سے،چھیڑتے ہیں نہ چھوڑتے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *